تحریر : مسعود جاوید

خدا بزرگوں کو تا عمر خود کفیل رکهے
وگرنہ خون کے رشتے رلانے لگتے ہیں. ..ملک زادہ جاوید

اولاد کی محبت میں غلو کا انجام .
ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ایک صحابی رض نے نبی کریم صل اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا کہ ‘ میرے پاس ایک درهم ہے کہاں خرچ کروں’؟ آپ صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنے آپ پر. صحابی نے کہا ایک درہم اور ہے کس پر خرچ کروں آپ صل اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اپنے اہل و عیال پر……
اسلام کا نظام حیات کس قدر دور اندیشی پر مبنی ہے کہ اس میں والدین کے ساتھ اس طرح کی بدسلوکی کا چور دروازہ ہی بند کردیا. اور وہ ہے ترکہ … یعنی باپ اپنی زندگی میں اپنی جائداد کا مکمل طور پر مالک ہے اس جائداد میں سے ہی اپنی زندگی میں یعنی مرنے کے وقت تک اپنے اخراجات – کهانا پینا علاج اور کیئر ٹیکر کا خرچ اٹهاتا رہے…. مرنے کے بعد جو کچھ بچ جائے اسے ترکہ کہتے ہیں اس ترکہ کی رقم سے اس پر قرض اگر ہو اسے ادا کیا جائے اگر وصیت ہو تو پوری کی جائے. ..( وصیت کے بارے میں شریعت کا حکم یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ 33.3 فیصد میں وصیت کر سکتا ہے… لیکن اگر اس نے اس سے زیادہ میں وصیت کردی تو بهی نافذ العمل ہوگا یہ اور بات ہے کہ اپنے ورثہ کی حق تلفی کا اسے گناہ ہوگا.) اس کے بعد جو بچے اس میں جس کا جتنا حق ہے اسے دیا جائے. قران مجید میں اس کا بالتفصیل ذکر ہے .
اور اگر خدانخواستہ بوڑھے والدین مالی اعتبار سے اس قابل نہیں ہیں اور ان کی اپنی جائداد بینک بیلنس تجارت نہیں ہے اپنا خرچ نہیں اٹها سکتے تو اولاد کی ذمہ داری ہے کہ ان کا مکمل خرچ کهانا پینا علاج پوکٹ منی رشتہ داروں پر دکھ سکھ میں خرچ کرنے کی رقم وغیرہ ادا کرے. زکوٰۃ کے بارے میں عموماً یہ سوال کیا جاتا ہے کہ زکوۃ کی رقم کسے دی جائے اور کسے نہیں دی جائے. اس بابت ایک نکتہ میرے ذہن میں یہ آتا ہے کہ :- زکوٰۃ کی رقم سر کے اوپر والوں کو جسے فقہی زبان میں اصول کہا جاتا ہے اور family tree میں root جیسے ماں باپ دادا دادی نانا نانی الخ اور پیر کے نیچے جسے فقہی زبان میں فروع کہتے ہیں جیسے بیٹا بیٹی پوتا پوتی وغیرہ کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے اس لئے کہ وہ ہمارے dependent ہیں ان کی کفالت ہماری ذمہ داری ہے تو غریبوں مستحقین زکوٰۃ کی رقم سے کٹوتی کیوں!
اللہ کا شکر و احسان ہے کہ اولڈ ایج ہوم کلچر مسلمانوں میں نہیں پایا جاتا (سوائے چند بد نصیبوں کے) اسی طرح خودکشی کے واقعات مسلمانوں کے یہاں شاذ و نادر ہوتے ہیں….. دہلی کا ایک واقعہ پچهلے سال اخبار کی سرخیوں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا کہ ایک صنعت کار مسٹر بجاج جب ان کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا تو انہوں نے اپنے لڑکے کو کورٹ لے کر گئے اور اپنی تمام جائیداد بیٹے کے نام کر دیا. اسی روز شام کو بیٹے نے اپنے والد کو اولڈ ایج ہوم پہونچا دیا جب وہ حیرت سے بیٹے کی طرف دیکهے تو بیٹے نے کہا آپ یہاں زیادہ کمفرٹیبل رہیں گے.

ترکہ ورثہ اور تقسیم.
بر صغیر ہند یعنی ہندوستان پاکستان اور بنگلہ دیش کے بعض علاقوں میں دختری حصہ نہیں دیا جاتا ہے.یعنی عموماً بهائی بہنوں کا حصہ مار لیتے ہیں. بہنیں بهی اتنی بهولی ہوتی ہیں جو یہ سوچ کر منہ نہیں کهولتیں کہ کہیں میکے نہ چهوٹ جائے. بهائی یہ کہ کر بہنوں کا حق مارتے ہیں کہ ” ہم نے اس کی شادی کے وقت جہیز میں دس لاکھ روپے خرچ کئے. اب سوال یہ ہے کہ باپ کے گهر زمین جائداد کا کے مالک وہ بهائی بنے تو باپ کی وفات کے بعد باپ کی ذمہ داری ان کو ہی نبهانا ہے یہ کیوں نہیں سوچا جاتا.