ملی تنظیموں کا موقف کیا ہے ؟
تحریر : مسعود جاوید

ہندوستان میں کتنی ملی تنظیمیں ہیں اور کشمیر پر ان کا موقف کیا ہے ؟
ہندوستان میں کتنی مسلم سیاسی جماعت ہیں اور ان کا موقف کیا ہے ؟
ہندوستان میں کتنے مسلم دانشور قانون داں صحافی اور شاعر و ادیب ہیں اور ان کا موقف کیا ہے ؟
اگر جمعیت علماء اور ان کے سربراہان مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کا موقف مسلمانان ہند کی اکثریت کی نمائندگی نہیں کرتا تو دوسری ملی تنظیمیں جماعت اسلامی ہند ، مسلم پرسنل لاء بورڈ ، جمعیت اہل حدیث اور مرکزی اہل حدیث وغیرہ اپنا موقف ظاہر کیوں نہیں کرتے عوام میڈیا اور حکومت کے سامنے کیوں نہیں آتے کشمیر اور کشمیریوں کے ناگفتہ بہ حالات پر اب تک کوئی کانفرنس کیوں منعقد نہیں کیا کوئی ڈیلی گیشن وزیراعظم سے کیوں نہیں ملا کوئی میموربڈم کیوں نہیں دیا جنتر منتر پر احتجاجی مظاہرہ نہیں کیا؟
مولانا ارشد مدنی اور محمود مدنی صاحبان کے بیان اور ملاقات پر ان تنظیموں کے ذمہ داروں نے اگر اظہار افسوس کیا تو ان کی ملی اور اخلاقی ذمہ داری ہے کہ کشمیر مسئلہ پر اپنا احتجاج درج کرائیں کہ دستور اور قانون کے فلاں فلاں بند کے خلاف یہ آمرانہ قدم اٹهایا گیا ہے جو درست نہیں ہے.

آپ اخبارات خصوصاً اردو روزناموں کا جائزہ لیں تقریباً ہر روز مختلف صفحات پر مولانا ، مفتی، حضرت کے بیانات یا ان کی کارکردگی کی رپورٹ پڑهنے کو ملتے ہیں…. مسلم دانشوروں پروفیسروں حال و سابق ججوں حکومت کے اعلی عہدوں سے ریٹائرڈ شخصیتوں کے بیانات کسی اخبار یا چینل پر کیوں نظر نہیں آتے ؟ اس لئے کہ انہیں مسلم عوام کے مسائل سے دلچسپی نہیں ہے.
ہاں ان کے کسی کسی حلقے سے یہ اعتراض سننے کو ضرور ملتا ہے کہ یہ ملے مسلمانوں کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں انہوں نے مسلم قوم کا سودا کیا یہ دلالی کرتے ہیں ! آپ کیا کرتے ہیں ؟ جرآت نہیں ہے یا خوف سے سہمگیں safe side رہنا چاہتے ہیں . آپ کے لبوں کی آزادی ملوں کی تنقید تک محدود کیوں ہے ؟ آپ تو opinion makers ہیں اقتدار سے لے کر اپوزیشن ٹی وی چینل سے لے کر انگریزی اخبارات ہر جگہ آپ کی پہچان ہے تو کیوں نہیں کبھی اس پہچان کو مسلم مسائل کے لئے استعمال کیا ؟
مسلم سیاسی پارٹیاں ہیں کہاں. جو ہیں انہوں نے خاص طور پر اویسی صاحب نے اپنا موقف کهل کر واضح کیا ہے. (اور مولانا محمود مدنی صاحب ان کو تلنگانہ میں قید کرنا چاہتے ہیں ! )

ادباء شعراء اور آرٹسٹوں کا موقف ؟
کہا جاتا ہے کہ ادب اور فن اور اس کی تمام اصناف ہینٹنگ افسانے شاعری صحافت اور کہانیاں وغیرہ سماج کے آئینے ہوتے ہیں. فنکاروں کے حساس دلوں کو جو واقعہ چهو جائے اسے وہ قرطاس اور کینوس پر اتار کر سوسائٹی کے سامنے رکھ دیتے ہیں. اردو ادیبوں شاعروں اور فنکاروں کی انجمنیں بهی ہیں مگر کیا مسئلہ کشمیر پر ان کی نظمیں کہانیاں کتابیں رپورٹس ادبی خاکے ڈرامے سامنے آئے ؟ ہبدوستانی سماج کا حصہ کشمیر بهی ہے پهر کیوں نہیں ان کا درد اور انسانی المیہ ان سماج کو آئینہ دکهانے کا کام کرنے والوں کو اب تک نہیں جھنجھوڑا؟
حقیقی مسائل پر مثبت سوچ ، غیر جانبدارانہ ردعمل ، اور ذاتیات پر حملہ سے گریز کرتے ہوئے جمعیت کے موقف پر بحث کریں.
جو اعتراض کر رہے ہیں یہ یا ان کے بچے بهی اگر NCC جوائن کریں گے تو یونیفارم پہننا ہوگا اسے بهول کر محمود مدنی صاحب کے یونیفارم پہننے پر ٹرول کیا جا رہا ہے جیسے یونیفارم نہیں پہنا کفر کر دیا !
Text and Context
دو سال قبل محمود مدنی صاحب نے اپنی تقریر میں کہا تها کہ ہم نے ‘ نظام مصطفیٰ’ کو ریجیکٹ کیا اس جملے کو سیاق و سباق سے الگ کر کے دیکھیں گے تو ظاہر ہے کفریہ کلام ہو گا مگر جس ریفرنس میں یہ کہا گیا وہ یہ ہے کہ تقسیم ہند کے وقت مملکت خدا داد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قیام کا مقصد ‘نظام مصطفی ‘ والا ملک بنانے کا نعرہ دیا گیا تها مولانا ابوالکلام آزاد رحمہ اللہ نے مسلمانان ہند کو اس جذباتی اور پرکشس مگر کھوکھلے نعرے سے آگاہ کیا…. اس کلپ کو آج وائرل کرنے کا مقصد کیا ہے؟ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ولا تقربوا الصلوۃ ” تم نماز کے قریب بھی نہ جاؤ. .. کیا مسلمانوں نے اس آیت کے تحت نماز پڑهنا چهوڑ دیا نہیں نا… اس لئے کہ سیاق و سباق سے کاٹ کر لکها گیا ہے.اس کے بعد کی آیت ہے ‘ وانتم سکاری’ اس حال میں کہ تم نشے کی حالت میں ہو. تو پوری آیت اس طرح ہے ‘ لاتقربوا الصلوٰۃ و انتم سكارى . جب تم نشے کی حالت میں رہو تو نماز کے قریب مت جاؤ.