ہندوستان کو آزاد ہوئے تقریبا سات دہائیاں گزر چکی مگر مشاہدات بتاتی ہے کہ ملک آزاد تو ہوا مگر صرف انگریزی سامراجیت و حکومت سے  بعدہ انگریز وں کی مہربانی سے ہندوستان بھگوا دھاریوں کے غلامی کے پنجے تلے دب گیا۔
      یہود و نصاریٰ ہوں یا ہنود سبھی مذاہب اسلام کو دنیا سے نیست و نابود کرنے والی سازشوں میں برابر کے شریک ہیں، مگر ان کے سازشی کارفرما کبھی بہت تیزی سے سرگرم عمل ہوتے ہیں تو کبھی حکمت عملی کے پیش نظر سست رفتاری کا سہارا لے کر انتہائی خطرناک فیصلے کرتے ہیں۔
       آج ہمارے ہندوستان میں خاص مسلمانوں سے بد سلوکی روزمرہ کا معمول بن گیا ہے ۔ ہندوستانی مسلم باشندوں کی حیات تنگ سے تنگ کر کے رکھ دیا گیا ہے، ان کی مذہبی آزادی چھین لی جا رہی ہے، ان کے حقوق کی پامالی کی جارہی ہے کبھی گئورکشا کے نام پر ماب لنچنگ، تو کبھی "جے شری رام” کے دنگائی نعروں سے شروع ہوکر پورے شہر کا شہر بھگوا دھاریوں کے فساد تلے دفن ہو جاتے ہیں، یہ سارے مشاہدات و نظریات جمہوری نظام پر سوالیہ نشان ہی نہیں، بلکہ جمہوریت کے ڈھنڈورا پیٹتے جو نعرہ لگاتے ہیں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی آپس میں ہیں بھائی بھائی، جو ہندوانہ تہوار پر مبارکباد ہی پر بس نہیں کرتے بلکہ ان کے شرکیہ اور کفریہ مراسم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ان مسلمانوں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے، یا صاف لفظوں میں کہیں کہ جمہوریت خطرے میں ہے۔
     یوں تو ہندوستانی مسلمانوں  سے بدسلوکی ان پر ظلم و ستم کے معاملے میں انگریزوں کا چہرہ سرفہرست نظر آتا ہے۔ مگر دن بدن ہندوتوا کی تنظیمیں اس معاملے میں انگریزوں کو پیچھے چھوڑتے نظر آ رہے ہیں۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب ہمارا ملک آزاد نہیں ہوا تھا یعنی بیسویں صدی کے دوسری دہائی میں اسی وقت ہندوتوا نے ایک تنظیم کی تشکیل دی” آر ایس ایس ” جس کا مقصد صرف مسلمانوں کو ہندوستان سے بھگانا تھا، ہندوتوا کو مضبوط کرنا، ہندوستان پر حکومت کرنا اور ملک کو ہندو راشٹر بنانا بظاہر اس کے پرچم تلے یہی باتیں تھیں مگر باریکی سے جائزہ لیا جائے تو اس کے درپردہ وہ تنظیم انگریز نواز تھی ان کے تلوے چاٹنے والوں میں سرفہرست اس کا بھی نام آتا ہے۔ لاکھ ظلم و ستم کے باوجود انگریز نوازی اس بات کا ثبوت ہے کہ اس تنظیم کا مشیر خاص انگریز تھے۔
     انگریزوں نے حکومت مسلمانوں سے چھینی تھی اس لئے وہ چاہتے تھے کہ اب دوبارہ مسلمانوں کے ہاتھ حکومت نہ آ پائے اس لیے انہوں نے نام نہاد مسلمانوں کو اپنی دولت کے ذریعے خریدا جو نام کے مسلمان تھے مگر ان کے سارے کام انگریزوں کے اشارے پر ہوا کرتے تھے اور پھر جب انگریزوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کی تعلیم یافتہ اکثریت کے نسل کشی کے بعد اب پھر سے بچے کھچے مسلمان متحد ہونے کی تیاری کر رہے ہیں تو انگریزوں نے حکم دیا کہ مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کریں اور یہ کام خاص مکتبہ فکر کے حامل افراد نے بخوبی انجام تک پہنچایا، جس سے مسلمان ٹکڑے ٹکڑے ہوکر بکھر گئے۔
     انگریزوں نے ہندوؤں پر ظلم و ستم ضرور کیے مگر اس قدر مہربان ضرور تھے ان کی کبھی نسل کشی نہیں کی ہاں جن کا دشمن ہونا یقینی تھا وہ مستثنیٰ ہیں ایسے افراد شاذونادر تھے اکثر خاموشی پسند تھے۔ کچھ حامی بھی تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں تقریبا پندرہ سے بیس فیصد ہی مسلمان آزادی کے بعد بچے تھے جن میں ایک یا دو فیصد ہی تعلیم یافتہ تھے تقریبا تین چوتھائی مسلمانوں کی انگریزوں نے قتل عام کی جن میں نصف سے زیادہ تعلیم یافتہ تھے کیونکہ ان کو تعلیم یافتہ  مسلم افراد سے ہی خطرہ تھا۔
    ایسے میں تحریک آزادی کی آڑ میں مسلمانوں کی اسلامی شناخت ختم کرنے اور ایمان کو کمزور کرنے کے لیے ایک تحریک چلائی گئی اور مشرکین سے ایسے اتحاد پر زور دیا گیا جس سے شرک و کفر یا اس سے قریب تر کردینے والی رسمیں مسلم معاشرے میں پھیلنے لگی، گاندھی کے بھروسے ترک موالات  کی تحریک چلائی گئی، کہ مسلمان انگریزوں کی مخالفت میں اپنی ملازمتیں چھوڑ دیں اور اس پر مسلمان عمل پیرا بھی ہوئے، جس کے نتیجے میں مسلمان اس قدر معاشی بدحالی کے شکار ہوئے کہ اس سے آج تک چھٹکارا حاصل نہ کر پائے۔ بعض علماء اس سے متفق نہیں تھے کیونکہ شریعت کی رو سے یہ کام غلط تھا، مگر ان معزز علماء کی باتوں کو نظر انداز کر کے قوم مسلم اپنی معیشت برباد کر بیٹھی۔ جبکہ غیر مسلموں نے بظاہر ہاں میں ہاں ملایا مگر وہ اپنی ملازمتوں سے جڑے رہے کہ ان کی معیشت پر چنداں فرق پڑے۔