عبدالعزیز
گزشتہ روز انگریزی روزنامہ The Statesman اسٹیٹس مین کے زیر اہتمام کلکتہ کے کلا مندر میں پینل ڈسکشن(مجلس مباحثہ) منعقد ہوا جس میں مشہور ماہر قانون پروفیسرفیضان مصطفی، پروفیسر سوگت رائے، تجربہ کار صحافی اجے بوس اور بی جے پی کے نظریہ سازسیشاد چری نے حصہ لیا، اور مباحثے کی نگرانی ممتاز و معروف صحافی کرن تھاپر نے کی۔ چار میں سے تین نمائندوں نے اس پر اتفاق کیا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال نہایت سنگین ہے، آگے بڑھنے کا واحد راستہ صرف اور صرف جمہوریت کی بحالی ہے۔ کرن تھاپر کے ایک سوال پر بی جے پی گورنمنٹ نے کشمیر کے سلسلے میں جو فیصلہ کیا ہے کیا وہ ایک چال ہے جس کے جواب میں پروفیسر فیضان مصطفی نے کہا کہ دفعہ370 کو ہٹا کر بی جے پی حکومت نے دستور ہند کی روح اور اس کے الفاظ(Text) کے خلاف کام کیا ہے۔کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر کے مرکز کا اختیار بڑھا نہیں ہے بلکہ گھٹ گیا ہے۔ پروفیسر سوگت رائے نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے سے کشمیری عوام کی ناراضگی اور غصے کو حد سے زیادہ بڑھادیا ہے جو ہندوستان کے لئے ناقابل تلافی نقصان اور خسارہ ہے۔ انہوں نے کہا امیت شاہ جو دفعہ370ہٹانے کے چمپئن ہیں ان سے کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ پارلیمنٹ میں صرف قرار داد پاس کرلینے سے کشمیری عوام کی حمایت حاصل ہو جائے گی۔ 1975 میں ایمرجنسی کی حمایت میں پارلیمنٹ میں قرار داد پاس ہوئی تھی کیا امیت شاہ اور نریندر مودی پارلیمنٹ میں قرار داد پاس ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی کی حمایت کریں گے۔ سیشاد چری نے کہا کہ گزشتہ70سال سے کشمیریوں کا جو جمہوریت پر بھروسہ تھا کیا چند دنوں میں یا 70دنوں میں وہ بھروسہ ختم ہوجائے گا؟ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ پہلے کی جتنی حکومتیں تھیں کیا370 کو باقی رکھنے کے لئے جووعدے پر وعدے کیا کرتی تھیں جمہوریت کو کشمیرمیں بحال رکھنے میں کوئی قابل قدر کو شش کی۔ اجے بوس نے کہا کہ سیکوریٹی فورسیز اور خفیہ محکمہ نے ایک لمبے عرصے تک کشمیر کو اپنی فائرنگ اور اپنی کار کر دگی سے چھلنی کر دیا۔ حالیہ تبدیلی سے کشمیریوں میں بے حد بے چینی اور ضطراب پیدا ہوا ہے۔ ترقی کے نام پر کشمیریوں کو رام نہیں کیا جا سکتا۔ آگے کی منزل کیا ہے اس وقت کہا نہیں جا سکتا لیکن میرے خیال سے بھی جمہوریت کی بحالی کے بغیر کشمیر میں آگے بڑھنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا۔ پروفیسر سوگت رائے نے کہا کہ جس طرح کشمیر کو دو ٹکڑے میں بانٹ دیا گیا اورایک بڑی ریاست کو یونین ٹیریٹری میں تبدیل کیا گیا یہ ہندوستان کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ریاست کے عوام سے پوچھے بغیرت ریاست کو دو حصوں میں بانٹنا دوستور کی سرا سرمنافی ہے۔ آج اگر کشمیر میں ہوا ہے تو کل مغربی بنگال کے بھی حصے بخرے کر کے دوتین حصوں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ اس لئے موجودہ حکومت ریاستوں کے وفاقی ڈھانچے کو برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ ہندوستانی دستور یونیٹری (Unitary) سسٹم سے کہیں زیادہ وفاقی سسٹم کو پیش کیا ہے۔ موجودہ حکومت ریاست اور مرکز کے سارے اختیارات یکجائی پر زور دیتی ہے۔ اس سے ملک میں جمہوریت کے بجائے آمریت اور وفاقیت کے بجائے غیر معمولی مرکزیت پیدا ہو رہی ہے۔ جو ملک کے لئے خطرے کی گھنٹی ہے۔ بی جے پی کے نظریہ ساز سے کرن تھاپر نے سوال کیا کہ اس وقت جو کشمیر میں جیل خانے جیسی صورت حال ہے اور لوگوں کے بنیادی جمہوری حقوق کو کچل کر رکھ دیا گیا ہے اس کا کیا حل ہے۔ کیا کشمیر میں یہی صورت حال باقی رہے گی کہ ہر دس آدمی کے لئے ایک فوجی تعینات رہے گا۔ اس پر نظریہ ساز سیشاد چری نے کہا کہ یہ سب کشمیر میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے کیا گیا ہے وہاں جیسے ہی حالات بہتر ہوں گے جمہوریت بحال کر دی جائے گی۔ پروفیسر سوگت رائے نے کہا کہ بی جے پی کی بھی کشمیر میں مخلوط حکومت رہی ہے اس وقت وہاں کی ترقی کے لئے کیا کیا۔ اتنا بھی نہیں کیا ہے جتنا کہ پہلے کی حکومتوں نے کشمیر میں ترقیاتی کام انجام دیا۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے دستور ہند کے کئی دفعات کے حوالے سے بتایا جس طرح آناً فاناً بغیر کشمیری عوام کے خواہش اور اجازت کے کیا گیا ہے اسے دستور اور جمہوریت پر ایک بڑاحملہ تصور کیا جائے گا۔ جس کا مداوا آسان نہیں ہے لیکن کشمیر زور زبردستی سے مرکز اگر اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے تو کشمیر ہندوستان کے ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ دستور میں کشمیر کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ یہ ہندوستانی ریاست ہے(Indian State) ہے۔ اب وہ انڈین ٹریٹری ہو گیا۔ کیا جو ہندوستان مقبوضہ کشمیر پر اپنا دعویٰ کرتا تھا اس دعوے سے دستبر دار نہیں ہو گیا۔ پروفیسر صاحب نے اس طرح کے بہت سے پیچیدہ سوالات اٹھائے، جن کا کوئی جواب بی جے پی لیڈر کے پاس نہیں تھا صرف زور زور سے بول کر بغیر کسی دلیل کے اپنی بات شرکائے مجلس سے منوانا چاہتے تھے جس میں ان کو کوئی کامیابی نہیں ملی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ملک میں جمہوریت کو جب خطرہ لاحق ہے او رکشمیر میں جمہوریت تو بالکل ختم کر دیا گیا ہے تو یہ ملک کے ایک حصے میں اگر جمہوریت باقی نہیں ہے تو باقیماندہ حصے میں کیا جمہوریت زیادہ دنوں تک زندہ رہ سکتی ہے اور جہاں دستور کی بھی پامالی ہو رہی ہے۔ اگرچہ یہ چیز ملک بھر میں ہے لیکن کشمیر اس کی سب سے بڑی مثال ہے۔ جب ایک ملک کے ایک حصے میں پامالی شباب پر ہو اور غیر معمولی ہو تو آہستہ آہستہ کیا ملک بھر میں یہ صورت حال نہیں ہو سکتی ہے؟ سب سے افسوسناک بات یہ ہے جو حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہیں ان کو فوراً غدارِ وطن یا پاکستانی کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ ایک طرح سے ان کے منہ بند کرنے اور ڈرانے دھمکانے کی مسلسل کو شش ہو رہی ہے۔ جس ملک میں اپوزیشن نہ ہو حکومت پر تنقید اور نکتہ چینی نہ کیا جائے وہاں کیا جمہوریت باقی رہ سکتی ہے۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کا ایجنڈا مکت کانگریس بھارت اور مکت اپوزیشن بھارت اور جو غیر ظاہری ایجنڈ اہے وہ مکت مسلم بھارت کا بھی ہے جس کے لئے مسلمانوں کو روزمرہ کی زندگی میں پریشان کیا جا رہا ہے اوران کے لئے خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ سابق وزیر داخلہ چدمبر م نے راجیہ سبھا میں کہا تھا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کو محض اس لئے ختم کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کا اکثریتی علاقہ ہے۔ یہ بات بہتوں نے کہی ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ ناگا لینڈ اور شمالی مشرقی ریاستوں میں سے کئی ریاستوں کو خصوصی درجہ حاصل ہے لیکن وہاں ختم کرنے کے بجائے یقین دلایا جا رہا ہے کہ دستور میں جو وہاں کے خصوصی درجے کی دفعات شامل ہیں وہ ختم نہیں کی جائیں گی۔ ایک ہی ملک میں ایک قانون ایک ریاست کے لئے ہے اور دسرا قانون دیگر ریاستوں کے لئے۔ حالانکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہوتا ہے۔ اگر قانون کئی قسموں کا ہوتاہو مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہو تو قانون کی حکمرانی یا قانون کا احترام ملک میں باقی نہیں رہ سکتا۔ ضرورت ہے اسٹیٹس مین کے مباحثے میں اکثریت کی جو رائے ہے موجودہ حکومت اس پر عمل کرے اور جلد سے جلد کرے تا کہ کشمیر کے لوگوں کی پریشانیاں دور ہوں اور وہاں کے بچے، بوڑھے، عورت اور مرد امراض میں مبتلا اشخاص، روزی روٹی سے محروم افراد، جو پریشان حال ہیں جن کا تعلق اپنے عزیزوں دوستوں سے دو ماہ ہونے کوہیں کٹ چکے ہیں۔وہ سب بحال ہوں اور سب کی پریشانیاں دور ہو۔ اس وقت کشمیر کے مسئلے کا یا الجھنوں کا یہی حل ہے۔ موجودہ صورتحال کو بر قرار رکھنا کشمیر میں پیچیدگیوں او رمسائل کو جنم دینے کے مترادف ہے?