ہر شخص کی زبان پر یہ ہے کہ ہماری قوم میں اتحاد نہیں، ہمارے پاس صحیح لیڈرشپ نہیں ہے۔ اتحاد نہیں ہونے کے اسباب یوں تو اور بھی ہیں لیکن سب سے اہم سبب یہی ہے کہ ہر شخص جیبوں میں اپنے استاذوں، علما، پیروں اور مرشدوں کے دیئے ہوئے ”کافر، کافر“ کے فتوے لے کر گھوم رہا ہے۔ جو خنجر سے زیادہ خطرناک ہیں۔ یوں تو یہ روش تاریخ میں خلفائے راشدین کے دور میں ہی شروع ہوچکی تھی، لیکن ہندوستان میں 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد کرونا کی طرح پھیل گئی۔ آج صورتِ حال یہ ہے فاشسٹوں نے صدیوں بھائیوں کی طرح رہنے والے معصوم ہندو ذہنوں میں جو فرقہ پرستی کا زہر گھول دیا ہے، اس کی وجہ سے کسی بھی مسلمان کو دیکھتے ہی آج کسی بھی ہندو کے ذہن میں جو چلنے لگتا ہے، وہ ہر مسلمان محسوس کرسکتا ہے، لیکن خود مسلمانوں کے اندر ایک دوسرے کو دیکھ کر جو ذہنوں میں چلنے لگتا ہے وہ یہ کہ سامنے والا کس مسلک، کس جماعت اور کس عقیدے کا مسلمان ہے؟دیوبندی ہے؟ بریلوی ہے؟ اہلِ حدیث ہے یا شیعہ؟

ان مسلکوں کے بانیان Founders کے عظیم کارناموں کو بیان کرنے کے لئے ضخیم کتابیں درکار ہیں۔ انہی کی وجہ آج جتنی قرآن کی تفسیریں، حدیثوں کی شرحیں، فقہ کی بحثیں، تصوف کی دلیلیں، کتاب اللہ کتاب السنہ کی تاویلیں ہیں وہ زندہ ہیں اور روز بروز وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہیں۔ انہی علما کی محنتوں کا نتیجہ ہے کہ آج گلی گلی حافظ، عالم، مفتی، پیرومرشد، مدرسے، جلسے اور جلوس،درگاہیں، اور خانقاہیں مل جاتے ہیں۔انہی کی وجہ سے  گاؤں گاؤں اللہ اکبر کی صدائیں تو بہرحال گونجتی ہیں۔ ان تمام احسانات کے باوجود ایک نادانستہ غلطی نے”لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی“ کے مصداق آج امت کے اتحاد کو پارہ پارہ کردیا۔  انہی کی وجہ سے آج جتنے مسالک اور فرقے ہیں پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوچکے ہیں بلکہ ایک متوازی اسلام بن چکے ہیں، ہر مسلک 73 واں فرقہ ہے، باقی سارے دوسرے مسلکوں، جماعتوں اور فرقوں کی رینکنگ 72 یا اس سے کم ہے۔

                مغلیہ حکومت کے خاتمے کے بعد قیادت کی مکمل باگ ڈور علما اور مشائخین کے ہاتھ میں آگئی۔ کوئی مسلمان ایسا نہ رہا جو کسی نہ کسی عالم یا پیر سے جڑا نہ رہا۔ عقیدت کا یہ عالم رہا کہ جب بات مذہب کی آئے تو کوئی نہ ابوالکلام آزاد جیسے لیڈر کی سنتا اور نہ علامہ اقبال جیسے مفکّر کی۔ علما یا مشائخین نے جس چیز کو اسلام قرار دے دیا، بھولے بھالے لوگوں نے اسی کو اسلام مان لیا ہے۔ علما یا مرشد کا تصوّر ذہنوں میں اس قدر مضبوط بٹھادیا گیا جس قدر شودروں کے دماغ میں برہمن کا۔ تاریخ نے ایک بہترین موقع دیا تھا کہ علما اور مشائخین اس قیادت کا فائدہ اٹھاتے اور انگریزوں کے مقابلے میں امت مسلمہ کو متحد کرکے صف آرا کردیتے، کیونکہ اُس وقت جنگِ آزادی کی قیادت صرف مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی۔ ہندو لیڈرشِپ ابھی پرورش پارہی تھی۔ جب 1857 کی جنگ کے بعد انگریز نے یہ دیکھ لیا کہ مسلمانوں کا متحد رہنا ایک خطرہ ہے،

اس نے مسلمانوں کو پہلے ہندو سے لڑوادیا۔ 1870 میں دیانند سرسوتی کو استعمال کرکے آریہ سماج بنوائی اور گؤ رکھشا کی تحریک شروع کرواکر کئی ہندومسلم فسادات کروادیئے۔ 1872 میں بنکھم چند سے وندے ماترم لکھوا کر مسلمانوں کے خلاف تمام تعلیم یافتہ ہندوؤں کا کھڑا کردیا۔ یہ تفصیل راقم الحروف کی کتاب ”وندے ماترم۔ قومی ترانہ یا دہشت گرد ترانہ؟“ میں موجود ہے، آپ چاہیں تو منگواسکتے ہیں۔ اس کے بعد 1877 میں کچھ بریلویوں کو مکہ بھیج کر دیوبندیوں  اور اہلِ حدیث کے خلاف مشرک ہونے کے فتوے منگوائے۔ جوں ہی فتوے ہندوستان پہنچے، محلہ محلہ مسجدوں پر قبضوں کے لئے لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے، کئی قتل ہوئے۔ جنگِ آزادی کی قیادت مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل گئی، اور ایسے نکلی کہ  جنگِ آزادی کی تاریخ سے ہی ان کا نام نکل گیا۔ جو تاریخ آج ہندوستان میں پڑھائی جارہی ہے اس میں لگتا ہی نہیں کہ مسلمانوں نے جنگِ آزادی میں کبھی حصہ بھی لیا تھا، حالانکہ سب سے زیادہ قربانیاں دینے والے صرف مسلمان تھے۔ دیوبندی، بریلوی دشمنی اس قدر بڑھی کہ بے شمار شرمناک واقعات جنم لینے لگے، اور آج تک ہندوستان، پاکستان میں وہی واقعات دوہرائے جارہے ہیں۔