وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کے بعض حلقوں کی جانب سے اس احساس محرومی کا اظہار کیا جاتا رہتا ہے کہ مسلمانوں کا کوئی ملی اخبار اور ٹی وی چینل نہیں ہے.
اس میں دو رائے نہیں کہ ویسے تو ہمیشہ سے ہی ذرائع ابلاغ یعنی میڈیا لوگوں تک اچهی بری خبریں پہنچانے کا بہترین وسیلہ رہا ہے مگرسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بے مثال ترقی نے میڈیا کو اور بهی تیز رفتار بنا دیا ہے .اس کے بعد IT revolution نے بیک وقت آڈیو ویڈیو کی سہولت سے مزید موثر اور سریع ترین بنادیا ہے اور اب اس میڈیم نے اپنے مختلف اور متعدد وسائل کے ذریعے لوگوں کو کسی حد تک اپنا غلام گردش بنا لیا ہے جو راہداریوں میں ہر وقت چلتے ہی رہتے ہیں اسی طرح صارفین کسی نہ کسی سائٹ پر ہر وقت ہوتے ہیں. اب یہ عیش و عشرت luxury یا پڑهے لکهے ہونے کی علامت نہیں رہا اب یہ لوگوں کی ایسی ضرورت بن چکا ہے کہ اس کے بغیر ایک پل چین نہیں.
پچھلے دو الیکشن میں میڈیا کی سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید کرنے کی طاقت سے لوگ بخوبی واقف ہو چکے ہیں. الیکٹرانک میڈیا/ ٹی وی چینلز سے کہیں زیادہ موثر اور تیز رفتار بن کر سوشل میڈیا ابهرا ہے جس میں روزنامہ اخبارات کی طرح خبروں کے لئے کل صبح کا یا ٹی وی چینلز کی طرح اخباری نشریات کے متعین وقت کا انتظار نہیں کرنا پڑتا ہے بلکہ instant پوسٹ اپ ڈیٹ کرتی رہتی ہے.
#میڈیا کی اہمیت اور افادیت محض خبریں نشر کرنے تک محدود نہیں ہے اس کا مثبت استعمال ہمیں رائے عامہ ہموار کرنے ، غلط بیانیہ rhetoric کا دفاع کرنے اور گمراہ کن تصورات perception کی وضاحت کرنے میں معاون بنتا ہے. اس کا استعمال news اور views دونوں کے لئے ہوتا ہے.
معاملہ بابری مسجد کا ہو جس کی سماعت ان دنوں روزانہ عدالت عالیہ میں ہو رہی ہے یا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف برادران وطن کے ذہنوں میں غلط فہمیوں کو دور کرنے کا ، اس کے لئے ملی اخبار اور ٹی وی کی غیر موجودگی میں کوئی نہ کوئی وسیلہ ڈهونڈنا ہوگا. عبدالحمید نعمانی Abdul Hameed Noumani i صاحب جو اسلام اور ہندوازم کے اسکالر ہیں، دارالعلوم میں اس موضوع کے استاذ ہیں، ہندوتوا کے موضوع پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں اردو کے ساتھ ساتھ ہندی زبان پر بهی دسترس رکهتے ہیں ان کی اور ان جیسے دوسرے اہل حضرات کی خدمات حاصل کرکے جس طرح ایشا فاؤنڈیشن و دیگر sadhguru کے پروگرامز کا فیس بک اور یو ٹیوب پر آفیشیل پیج بنا کر آڈیو اور ویڈیو کے ذریعے دنیا بهر کے لوگوں تک رسائی کر رہے ہیں ہمارے بهی کچھ لوگوں کو اس کار خیر کے لئے آگے آنا ہوگا وسائل کی فراہمی میں ہاتھ بٹاکر ایسا کوئی ترتیب مرتب کرنا ہوگا.
ملی تنظیموں کو ملامت کرنے ماضی میں اخبار کے لئے چندہ اور حال میں ملی تنظیموں کا اس جانب سرد مہری بورڈ اور جمعیت اور جماعت کا اہل اور فعال ترجمانوں کی تقرری میں عدم دلچسپی اور بعض اوقات بجا اور بعض اوقات بے جا مصلحت کے جبے پہننے کی روش پر بحث کرنے کی بجائے چهوٹی سی بجٹ سے یہ کام شروع کیا جا سکتا ہے . اب وقت اکیلا چل کر کارواں بنانے کا ہے. اب وقت محرومیوں اور اندھیروں کو کوسنے کی بجائے چراغ جلانے کا ہے اور پهر انشاءاللہ چراغ سے چراغ جلتا چلا جائے گا. اب یہ الزام اور رد الزام بند ہونا چاہیے. No more blame game. ہر ایک کو اپنے حصے کی زمین کی آبیاری کرنی ہوگی.
Better light a candle than curse the darkness.