ایلزبتھ ہولمز کے نام سے انگریزی اخبارات کے قاری تو واقف ہونگے تاہم اردو پڑھنے والوں کیلئے یہ نیا نام ہوگا۔ اگاتھا کرسٹی کو پڑھنے اور الفریڈ ہچکوک کی لازوال نفسیاتی کرائم فلموں میں دلچسپی لینے والے قارئین کیلئے یہ کور سٹوری دلچسپی کا سامان لیئے ہوئے ہے۔
اس انوکھی اور حیران کن کہانی کا آغاز تب ہوتا ہے جب انیس سالہ ایلزبتھ جسکا خواب بلئنیر بننا ہوتا ہے، سٹینفورڈ یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کی ڈگری چھوڑ کر، ادویات سازی کا ایک منصوبہ لیے سلیکون ویلی میں اُترتی ہے۔
اُسکا آئیڈیا اتنا تہلکہ مچا دینے والا ہوتا ہے کہ فوربز میگزین اُسکی تصویر کور پر چھاپتا ہے اور اسکو سو اثر انگیز شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
الزبتھ انسانی فلاح کا ایک ایسا منصوبہ متعارف کرواتی ہے جس میں بہت معمولی مقدار میں خون کے قطرے سے ہر قسم کا ٹیسٹ قلیل عرصے میں ممکن ہوگا۔ اس سے میڈیکل دنیا میں انقلاب اور بروقت انسانی جانیں بچائی جا سکیں گی۔ کئی ماہرین نے تو یہاں تک کہ دیا کہ یہ انسولین کی ایجاد سے بھی بڑا منصوبہ ہوگا۔
سن ۲۰۰۳ میں ایلزبتھ یونیورسٹی چھوڑتی ہے اور والدین کو اعتماد میں لیتے ہوئے ایک کمپنی کی بنیاد رکھتی ہے جیسکا نام ٹھیرانوس تجویز ہوتا ہے ۔ یہ لفظ تھیراپی اور دیاگنس سے مل کر بنا۔
ایلزبتھ کی کنوینس کرنے کی صلاحیت اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ چوٹی کے انویسٹرز، کمپنیاں لگ بھگ دس بلین ڈالر اس منصوبے پر لگا دیتے ہیں۔
چونکہ وہ میڈیکل فیلڈ سے خود نابلد ہوتی ہے اسلیئے ٹاپ کمپنیوں کے ملازمین کو رکھتی ہے۔ یہاں ایک مزے کی بات یہ بھی ہے کہ اُسکا پاکستانی نژاد بوئے فرینڈ رمیش سنی بلوانی اس سارے منصوبے میں اُسکا ساتھ دیتا ہے۔ ملازمین جو اُسکے یہاں کام کر رہے ہوتے ہیں وہ جلد بھانپ جاتے کہ ایلزبتھ کے دعوؤں میں دم نہیں۔ بار بار تجربات فیل ہوتے جاتے ہیں اور جب کوئی کمپلین کرتا ہے تو سنی اور ایلزبتھ اُن کو نوکری سے فارغ کر دیتے ہیں۔ جب کہ دوسری طرف دنیا بھر کے سربراہوں، سرمایہ داروں اور میڈیسین کمپنی والوں کو انٹرویؤ میں ایلزبتھ تجربات کے کامیاب ہونے کی یقین دھانی کرواتی ہے، یوں کسی کو شائبہ بھی نہیں ہو گزرتا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ ایپل کمپنی کے ملازم کو فارغ کرنے کے بعد میڈیا نے اس کمپنی کے معاملات کو شک کی نظر سے دیکھنا شروع کردیا۔ دوسری طرف الزبیتھ کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ہینری کیسینجر، سٹیو جابس، جم میٹس ، جیسے ہائی پروفائل لوگ اس پر اعتماد کر رہے تھے۔
کہانی نے نیا موڑ تب لیا جب سن دوہزار پندرہ میں وال سٹریٹ کے ایک صحافی جان کیرئیرو معاملات کی تہہ تک پہنچا اور ایک کتاب "Bad blood: Secrets & lies in a silicon valley setup”
میں پردہ فاش کیا۔ ایلزبتھ اور اُسکے دوست پر عوام و خواص کو دھوکہ دینے اور جھوٹ بولنے کے چارجز لگے اور یوں دونوں سپتمبر ۲۰۱۸ میں یہ کمپنی بند کر دی گئی۔
یہ کیس کیلیفورنیا کی عدالت میں جولائی ۲۰۲۰ میں شروع ہوگا اور اگست ۲۰۲۰ میں اسکا فیصلہ کیا جائے گا۔

اس قسم کے فراڈ کے پیچھے ایک بہت ذہین دماغ اور بہت شاطر شخصیت پنہان ہے۔ ماہر نفسیات نے یہ جاننے کی کوششیں کیں کہ آخر کیسے ایلزبتھ نے اتنے عرصہ اتنی کامیابی کے ساتھ اتنے لوگوں کو بیوقوف بنایا۔ ماہرین کے مطابق اُسکی کامیابی کی وجہ خود پر اپنی صلاحیتوں پر سچ کی انتہا تک یقین ہونا، اپنے جھوٹ کو سچ سمجھ کر ریکٹ کرنا، ایک اچھے کام کیلئے جھوٹ بولنا جو کہ بہت سے لوگ کرتے ہیں، کہانیاں بکتی ہیں اس پر یقین ہونا اور ارب پتی بننے سے جو سیلف کنفیڈنس آتا ہے، ہیں۔
اگلے سال اس کہانی کا حتمی فیصلہ ہونا ہے مزید تفصیلات تب ہی سامنے آئیں گی۔ اس کہانی کو بسینس انسائڈر پر فالو کیا جا سکتا ہے۔