12 Views
ووٹ ڈالنا ایک اہم فریضہ ہے بہارکے الیکشن کا اعلان ہو چکا ہے جسے ہم جشن جمہوریہ کہتے ہیں ہمارے ملک ہندوستان میں عام انتخابات کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
ووٹ ڈالنا ایک اہم فریضہ
عام انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد انتخابی مہم زور پکڑتی ہے اور قائدین اور عوام انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے کے روبروہوتے ہیں۔ پارٹی قائدین یہ بتاتے ہیں کہ بحیثیت عوامی نمائندہ، وہ عوام کے لئے ان کی ترقی اور فلاح و بہبود کے لئے، ہمہ جہتی ترقی کے لئے کس طرح کا منصوبہ رکھتے ہیں۔
ہرووٹ کی اہمیت مسلم ہے ہر رائے دہندوں کی جانب سے حقِ رائے دہی سے استفادہ کرنے سے قبل اپنی پسند کے امیدوار کو چننے کا بھر پور موقع ملتا ہے۔ جمہوریت میں ووٹر ایک اہم مقام رکھتاہے اور ہر ووٹ کی اہمیت مسلمہ ہے۔ 1951ء میں نافذ ہونے والے قانون کے مطابق حق رائے دہی سے فائدہ کی عمر 21؍سال تھی جو بعد میں 1988ء میں 18؍سال مقرر کر دی گئی۔ ہر وہ فرد جس کی عمر 18؍سال ہوجائے اس کو چاہئے کہ وہ بحیثیت ووٹر(رائے دہندہ) اپنے نام کا اندراج کرائے اور انتخابات میں اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرے۔
آزاد ہندوستان میں کئی مرتبہ انتخابات کے موقع پر جو ووٹ ڈالنے بوتھ پر گئے یا جو نہیں بھی گئے، جو فاتح بن کر ابھرے یا جنھوں نے شکست کھائی سبھی نے یعنی جیتنے والے، ہارنے والے نے ووٹ ڈالنے کے حق کو ہمیشہ ایک فریضہ کے طور پر دیکھا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی پارٹیوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور جوابی الزامات کا سلسلہ چل پڑتاہے۔
اور تنگ نظر ی، فرقہ پرستی کی بھی کچھ مثالیں دی جا سکتی ہیں (جو اب بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے) لیکن ہماری وسیع قومی یکجہتی، ایک دوسرے کی مدد کا جذبہ، بلا لحاظ مذہب، ر نگ و نسل، ہمارا جذبہ اخوت اس پرغالب ہے۔ انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ہار کو خندہ پیشانی سے قبول کر لیا جاتاہے اور عوام کے فیصلہ کو ماننا ضروری ہوتاہے۔
لوک سبھا اوراسمبلی کے انتخابات کے انعقاد کی تمام تر ذمہ داری، ہدایت، کنٹرول، طریقہ کا ر وغیرہ کی صورت میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے متعین قانون کے مطابق کوئی بھی شہری ایک سے زائد حلقوں میں اپنا نام اندراج بطور رائے دہندہ نہیں کرا سکتا۔
ایسی صورت میں الیکشن کمیشن کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اس طرح کے ناموں کو کاٹ دے۔ انتخابات میں کرپشن کو روکنا الیکشن کمیشن کی ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ انتخابات کے آزادانہ اور شفاف انعقاد کے لئے عوام کوبھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوتی ہے اور انھیں بھی تعاون دینا ہوتا ہے۔
سیاست میں داخل ہونے والے افراد کی فطرت بھی اقتصادی ترقی کی رفتار کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ کی حصولی ہر نظر کے ساتھ انتخابات میں مقابلہ کرنے والے امید واروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔سیاسی طاقت وقوت حاصل کرنے کے لئے، وہ ووٹر کوایک قیمت دینے میں پس و پیش نہیں کررہے ہیں۔
*ووٹ ڈالنا انتہائی ضروری ہے*
امیدوار کھلے عام یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ایک اسمبلی سیٹ کے لئے ایک کروڑ، لوک سبھا سیٹ کے لئے دس کروڑ سے زائد انتخابی خرچہ آتا ہے۔ اور روز بروز اس پر خرچ بڑھتا ہی جارہاہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امیدوار ووٹوں کی خریدداری پر محض مہم سے زیادہ خرچ کررہے ہیں۔ میڈیا کی اطلاعات کے مطابق، امیدواروں نے گزشتہ انتخابات کے دوران ایک ووٹ کے 500؍سو تا ایک ہزار روپیوں کی ادائیگی کی تھی۔
جب ایک امیدوار ووٹ کو خریدنے کی پیشکش کرتاہے اور ووٹر اس کو قبول کرنے پر آمادہ ہوجاتاہے تو کیا ووٹ کے اس تقدس یا قیمت کی بات کی جاسکتی ہے۔ایک ووٹ کے لئے جو بھی قیمت پیش کی جاتی ہے کیایہی اس کی قیمت ہے۔ کنڈیڈیٹ ووٹ کی خریدداری کے لئے بھاری رقومات خرچ کررہے ہیں۔ کیا کوئی بدلے میں کسی چیز کی امید کئے بنا روپیہ خرچ کرتاہے۔ (ظاہر ہے نہ میں جواب ہوگا)انتخابی امیدوار ووٹ کی خریدداری پر بھاری رقمیں اس لئے خرچ کررہے ہیں کہ وہ ہر حال میں جیت کر وہ سیاسی قوت و طاقت حاصل کریں جس سے سیاست میں مشغول ہوکر خرچ کردہ روپیہ سے کہیں زیادہ کمائیں اور اپنی تجوریوں کو بھریں۔ ہم دال،نمک، تیل، بس ٹکٹ، ریل ٹکٹ وغیرہ خریدتے وقت اور دوسری چیزیں خریدتے وقت ٹیکس ادا کرتے ہیں تاکہ ریاستی اور مرکزی حکومت ٹیکسوں کی آمدنی سے ترقی کریں۔
اگر ہم ووٹ ڈالنے کے لئے روپئے قبول کرتے ہیں تو ہم اپنا مستقبل رہن(گروی) رکھ دیتے ہیں۔