تحریر : مسعود جاوید

جب لوگ غیر مربوط بات کرنے لگیں اور اس میں پیوند کاری جهلکے تو سمجھ جایئے کہ یہ بات مصنوعی ہے کسی کی ہدایت انسٹرکشن ڈکٹیشن پر کہی جا رہی ہے.
نیو موٹر ویہیکل ایکٹ یا ٹریفک رول اور جرمانے کے تعلق سے معقول بات تو یہی ہے کہ ہمیں ٹریفک رول کے پابند ہونا چاہئے. خود ذمہ دار شہری کے ناطے ڈرائیونگ لائسنس گاڑی فٹنیس پولیوشن کنٹرول سرٹیفکیٹ ہیلمٹ جوتے سرخ بتی کے اشارے کو تجاوز کرنا اوور ٹیکنگ وغیرہ نہ صرف مفاد عامہ میں ہیں بلکہ خود گاڑی ڈرائیو کرنے والے اور گزرگاہ سڑک پر چلنے والی دوسری گاڑیوں کی سواری اور پیدل چلنے والوں کی سلامتی کے لئے بهی ضروری ہے. الطریق للجميع. تاہم پولیس والوں کی زیادتی اور کرپشن پر قابو پائے بغیر قانون کی بالادستی قائم کرنا محال ہے. یہ صحیح ہے کہ سڑک حادثوں میں مرنے والوں میں 18 سے 35 سال کے لوگوں کی اکثریت ہوتی جن کی موت ایک فرد کی نہیں اس کے پورے کنبے کی موت ہوتی ہے اس لئے کہ فیملی کا وہی ایک اکیلا سہارا ہوتا ہے. یہ بهی صحیح ہے اس خراب ریکارڈ میں دنیا کی فہرست میں ہندوستان نمبر ایک پر ہے. یہ بهی صحیح ہے کہ عموماً گاڑی ڈرائیور ان پڑھ ہوتے ہیں اور کرپشن کی وجہ سے ہزار دو ہزار کے عوض بلا ٹیسٹ دیئے ڈرائیونگ لائسنس گهر پہنچ جاتے ہیں. پچھلے دنوں دہلی میں کچھ بہتری ہوئی ہے . لیکن لونگ رن اسٹریٹجی یہ ہونی چاہیئے تهی کہ ڈرائیونگ لائسنس کے لئے دسویں جماعت فیل یا پاس کی شرط رکهی جاتی جس سے ایک پنتھ دو کاج ہوتا یعنی تعلیم ڈرائیونگ لائسنس کے لئے مجبوری میں سہی لوگ حاصل کرتے… (اس میں قیل قال کی گنجائش ہے بس ایک ترکیب ذہن میں آئی وہ لکھ دی گئی) دوسری بات یہ کہ جرمانے کی خطیر رقم اور ٹریفک پولیس کی من مانی سے قبل لوگوں کو آگاہ کیا جاتا کہ فلاں تاریخ سے ٹریفک قانون کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا. اس کے بعد : القانون لا یحمی المغفلين. یعنی قانون قانون سے غافل لوگوں کو تحفظ نہیں دیتا .
بیداری مہم چلائی جاتی. ان غریب ان پڑھ ٹرک پک اپ لاری ڈرائیوروں کے ساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے انہیں ٹریفک سائن سمجهایا جاتا کہ کہاں یو ٹرن نہیں لینا ہے کہاں اوور ٹیک نہیں کرنا ہے پل سے پہلے سائن کا مطلب کیا ہوتا ہے آگے والی گاڑی سے آپ کی گاڑی کا لازمی طور پر کم از کم کتنا فاصلہ ہونا چاہئے کم اسپیڈ میں چلنا ہو تو کس لین میں چلیں ہارن نہیں بجانا وغیرہ وغیرہ.
ایسا سسٹم بنایا جاتا کہ پولیس صرف چالان کاٹے کسی بهی صورت میں نقد وصول نہ کرے. یو اے ای میں ٹریفک پولیس مخالفت کرنے والوں سے خندہ پیشانی سے ملتی ہے سلام کرتی ہے اور چالان میں مخالفت کے بند پر ٹک لگا کر چالان تهما دیتی ہے. عموماً نو پارکنگ ایریا میں کهڑی گاڑیوں کے ونڈ اسکرین پر چالان رکھ کر وائیپر بلیڈ سے دبا دیتی ہے. تیز 120 KM/H اور کم رفتار کے لئے الگ الگ لین ہیں ایمرجنسی کے لئے الگ لین ہے. شہر کے اندر جگہ جگہ سگنل ہے جسے وقت ضرورت سڑک پار کرنے والا خود دبا کر لال بتی جلا کر پار ہو سکتا ہے. یہ سب اتنا smoothly ہوتا ہے اور آپ کو شاید حیرت ہو کہ اس قانون پر چلنے والوں کی اکثریت 65 سے 70 فیصد ہندوستان پاکستان بنگلہ دیش سری لنکا اور فلپائن کے لوگ ہوتے ہیں. تو سوال یہ ہے کہ پهر ہمارے یہاں قانون کی پابندی کیوں نہیں ہوتی؟ جواب majesty of law.
قانون کا ایسا دبدبہ کہ وہاں نہ وزیر کا بیٹا نہ شیخ کی بیٹی اور نہ اعلی افسران کا حوالہ کام آتا ہے.

انفراسٹرکچر ہے تو جرمانے ہیں.
جب جرمانوں کی خطیر رقم پر واویلا شروع ہوا تو ٹرانسپورٹ منسٹر نے کہا اس سے روپے کی وصولی مقصود نہیں ہے اتنا زیادہ جرمانہ لوگوں کے دلوں میں قانون کا خوف بیٹهانے کے لئے ہے. چلئے یہ کسی حد تک معقول جواب ہو سکتا ہے مگر بعض وزراء کی غیر معقول باتیں سامنے آ رہی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مصنوعی باتیں ہیں. مثال کے طور پر بعض وزراء کا یہ کہنا کہ اچهی سڑکیں سڑک حادثوں کے سبب ہیں یہ ویسا ہی ہے جیسا قلت خوراک malnutrition پرکسی وزیر اعلیٰ نے چند سال قبل کہا تها کہ یہ اچها ہے اس لئے کہ موٹاپا صحت کے لئے اچها نہیں ہوتا. لوگ قلت خوراک کی وجہ سے لاغر اور کمزور نہیں ہیں یہ تو dietingکی وجہ سے ہے. کرپشن کے بغیر قانون کی بالادستی قائم نہیں ہو سکتی اور انفراسٹرکچر دیئے بغیر روڈ ٹیکس لینے کا جواز نہیں تیسری بات یہ جرمانہ تو جرم کی وجہ سے ہے لیکن اس کی رقم لوگوں کی مالی حالت کے مد نظر طے ہونی چاہئے. هوم ورک کے بغیر قانون پر سختی سے عمل کرانے والے اور بعض وزراء کی باتوں سے پیوند کاری جھلکتی ہے تو بات میں اثر کتنی ہوگی !