کل رات سوئٹزرلینڈ کے جینیوا میں یوروپین ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ کشمیری قضیے پر جمعیۃ علمائے ہند کے جنرل سیکریٹری مولانا محمود مدنی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی اور وہاں بھی یہی بات کہی ہے کہ

"ہم اپنے بھارت دیش کے ساتھ کھڑے ہیں اور پاکستان کے طرف سے پھیلائے جارہے پروپیگنڈے کے خلاف ہیں "

یقینًا ہم بھی پاکستان کی غلط کارروائیوں کے خلاف ہی ہیں
مولانا محمود مدنی کے ساتھ یوروپین پارلیمنٹ کی اس عالمی میڈیا کانفرنس میں اجمیر درگاہ کے سید سلمان چشتی بھی موجود تھے اور انہوں نے بھی یہی بات دوہرائی ہے
ایشیا کے مستند میڈیا ہاؤز نے اس کانفرنس کی آفیشل میڈیا کوریج کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ، یوروپین پارلیمنٹ کے ممبران سمیت مولانا محمود مدنی اور سید سلمان چشتی نے یہ اعلامیہ جاری کیاہے کہ: وہ کشمیر سے آرٹیکل ۳۷۰ اور ۳۵ اے کے خاتمے کے فیصلے پر حکومت ہند کے ساتھ ہیں اور یہ ہندوستان کا اپنا داخلی معاملہ ہے، ہم امید کرتےہیں درگاہ اجمیر کے وابستگان اور عام سنی و بریلوی حضرات سید سلمان چشتی صاحب کا بھی حقیقت پسندانہ محاکمه کریں گے_

کچھ دنوں پہلے جب جمعیۃ علمائے ہند کے اسٹیج سے یہی تجویز مولانا محمود مدنی نے پاس کی تھی تو اس پر سنگھی میڈیا نے خوب جشن منایا تھا اور مولانا محمود مدنی کی اس تجويز سے خوش ہوکر بھاجپا کے بددماغ ترجمان ” سمبت پاترا ” نے خوش ہوکر مولانا محمود مدنی کو ” دیش بھکت ” کہا تھا، اسوقت ہم نے اور کئی ایک اہل دانش نے جمعیۃ کی اس تجویز سے کشمیری کاز پر ہونے والے نقصان اور حکومت کو پہنچنے والے ناجائز فائدے کو پیش کیا تھا، لیکن ہمارے بعض افراد اس وقت بھی خوش فہمی اور تاویل سے کام لے رہےتھے جبکہ ہمارا کہنا یہی تھاکہ جمعیۃ کی اس تجويز اور بیانیے کو صرف اور صرف عالمی برادری میں مودی حکومت کی صفائی کے لیے استعمال کیاجائے گا، اور کشمیریوں کے تاریخی اور آئینی حقوق پر زد پڑے گی، اور یہی ہوا بھی کہ دنیا بھر کی میڈیا نے جمعیت کے بیانیے کو اس طرح پیش کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی مرکزي آرگنائزیشن کشمیری ایشو میں بھاجپا سرکار کے ساتھ ہے_

لیکن آج سوئٹزرلینڈ جاکر صہیونیوں کے ساتھ کشمیری قضیے پر پریس کانفرنس کرکے اس کا عملی کردار بھی ادا کردیاگیا

*آخر مولانا محمود مدنی اتنی سامنے کی بات کیوں نظرانداز کررہےہیں؟ کشمیر میں ۸۰ لاکھ مسلمان اذیت، ظلم، اور بدترین بےعزتی کے سائے میں جی رہےہیں، ان کے آئینی اور انسانی حقوق پر بھاجپا سرکار نے نہایت شاطرانہ ڈاکہ مارا ہے، دنیا بھر کے انصاف پسند انسان اس کے خلاف سڑکوں پر اتر کر احتجاج کررہےہیں، ہندوستان کے سکھ، کمیونسٹ سمیت کئی ایک مسلم آرگنائزیشن حقائق کی روشنی میں اس تاریخی آئینی گھس پیٹھ پر آواز بلند کررہےہیں، سپریم کورٹ کے دروازے کھٹکا رہےہیں، عالمی میڈیا کے بڑے بڑے اداروں نے کشمیریوں کے ساتھ ناانصافی اور آئینی زیادتیوں کو کوریج دیاہے، مسلم ممالک کی نمائندہ تنظیم OIC نے بھی اس کا نوٹس لیاہے، ایسی سنگین صورتحال میں جبکہ لاکھوں کشمیری مسلمان غیر یقینی کی کیفیت سے دوچار ہیں، اور حکومت ہند پر عالمی میڈیا اور حقوق انسانی کی تنظیموں کے جراتمندانہ اور حقیقت کشا کوریج سے دباوٴ بن رہاہے، ایسی سچویشن میں آپ اب ہندوستان سے باہر نکل کر ہندوستانی مسلمانوں کے چیف کی حیثیت سے ایسی پریس کانفرنس وہ بھی یوروپین ممبران پارلیمنٹ نامی تنظیم کے ساتھ آخر کیوں کررہےہیں؟ جو کہ سیدھی طرح حکومت کی حمایت میں عالمی سطح پر استعمال ہورہاہے_*

آپ جب خود ہی یہ کہہ رہےہیں کہ، یہ ہندوستان کا اندرونی معاملہ ہے تو پھر ہزاروں ہزار کلومیٹر دور سوئٹزرلینڈ کے جینیوا میں جاکر اس پر میڈیا میں بیان جاری کرنے کا کیا مطلب ہے؟

کیا ایسا کرنے سے کشمیریوں کو عالمی برادری کی حاصل تائید کمزور نہیں ہوگی؟

ہندوستانی مسلمانوں کے مرکزی لیڈر کی حیثیت سے جاری کردہ آپ کے اس بیانیے سے ہندوستان میں کون لوگ کمزور ہورہےہیں؟ اور کون سے سنگھی و صہیونی شادیانے مچا رہےہیں؟ اور بار بار یہ راگ کیوں الاپ رہےہیں کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے جبکہ کوئی بھی بھارتی مسلمان اس کا انکار نہیں کررہاہے، آپ آخر صراحت کے ساتھ کرفیو میں کشمیریوں پر ڈھائے جانے والے مسلمہ مظالم کا عالمی میڈیا میں کیوں نہیں اعتراف کرلیتے؟ کشمیر کی آئینی دفعات کے خاتمے کے غیر آئینی طریقوں پر بات کیوں نہیں کرلیتے؟
*کیا آپکی سوئٹزرلینڈ کی اس پریس کانفرنس کی ٹائمنگ پر سوالات نہیں کھڑے ہوں گے کہ جب ہندوستانی وزیراعظم نریندرمودی USA اور UNO کے دربار میں حاضر ہونے والے تھے تبھی آپ سوئٹزرلینڈ پہنچ کر پریس کانفرنس کیوں کررہےہيں؟ آپکی گزشتہ تمام سرگرمیوں کی کڑیاں کیا آپس میں مربوط نہیں ہیں؟ پہلے این آر سی کےملک بھر میں نفاذ کا مطالبہ (خواہ لوگ تاویل کریں کہ وہ مطالبہ الزامی تھا، لیکن فیصلہ تو اسی پر ہوگاکہ حکومتی ترجمان میڈیا ہاؤز کا اس پر کیا ردعمل ہوتاہے) پھر اورنگ زیب پر متنازعہ بیان، پھر جمعیۃ علمائے ہند کے اسٹیج سے کشمیری قضیے پر یکطرفہ تجویز پاس کرنا، پھر وزیرداخلہ امیت شاہ سے سوال برائے جواب والی ملاقات کرنا، اور اب آخر کیا مجبوری آن پڑی کہ آپکو سوئٹزرلینڈ پہنچ کر کشمیری قضیے پر ایسی ٹائمنگ میں پریس کانفرنس کرنا پڑگئی ، یہ سب آخر کیا ہے؟ کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سبھی لوگوں کی آنکھیں بند اور عقلوں پر خوف و مفاد کے تالے پڑے ہوئے ہیں؟ کہ سب کے سب ایسی صریح غلطیوں کی تاویل کرتے رہیں گے؟*

مجھے یقینی طورپر نہیں معلوم کہ آپ ایسا کیوں کررہےہیں، لیکن اتنی سنگین غلطیاں کرنے کے بعد آپ اسے پاکستان کے خلاف بیان دے کر، بھارت سے وفاداری کے گن گا کر اور کشمیر بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے اور ہمارا داخلی معاملہ ہے صرف اتنا کہہ کر آپ ہوسکتا ہے دنیا میں اپنے اندھے حمایتیوں اور عالمی سیاسی بساط سے بےخبر بے شعور محبین کو تو مطمئن کر لے جائیں، لیکن مظلوم کشمیریوں کے دربار میں اور آخرت میں آپ ان غلط ترین پالیسیوں کی تاویل نہیں کرپائیں گے _

میں اب بھی آپ کی نیت پر ادنیٰ سا شائبہ نہیں محسوس کرتاہوں اور نا ہی دوسرے غیر معتدل لوگوں کی طرح آپ کو کوئی الزام دیتاہوں، کیونکہ مجھے آپ سے الله واسطے محبت ہے، اور میرے دل میں آپکی کافی عزت ہے جوکہ درحقیقت میرے لیے ہی سعادت مندی کا سبب ہے،، لیکن مجھے اس حقیقت کا واقعی ادراک ہے کہ آپ بہت بہت غلط کر رہےہیں،
لاکھوں مسلمانوں بلکہ پورے ہندوستانی مسلمانوں کی ایسی غلط ترین قیادت کرنے پر آپکا ساتھ نہیں دے سکتا، یہ مسئله پورے ہندوستانی مسلمانوں کا مستقبل طئے کرےگا
آپکے یہ اقدامات جمعیۃ علمائے ہند کی عظیم الشان تاریخ اور تاب ناک ماضی کے منافی ہے، آپ کے اجداد کی روشن روایتوں سے متصادم ہے_

سمیع اللّٰہ خان
[email protected]