804 Views

اللہ سے تجارت

حضرت علی کرم اللہ وجھہ الکریم فرماتے ہیں کہ جب تم دنیا کی مفلسی سے تنگ آجاؤ اور روزی کا کوئی راستہ نہ نکلے تو صدقہ دے کر اللہ سے تجارت کرلیا کرو.
یقینا صدقہ ایک ایسا عمل ہے جس میں گھاٹے کا کوئی سودا ہی نہیں ہے. ایک طرف سے ڈالتے جاؤ، دوسری طرف سے کئی گنا بڑھا کر حاصل کرتے چلے جاؤ.
قرآن پاک میں سورہ بقرہ کے اندر اللہ کے راستے میں خرچ کرنے والوں کے روپے کو اس دانے سے تشبیہ دی گئی ہے جسے زمین میں بویا جائے پھر اس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں ، یعنی کہ ایک دانے سے سات سو دانے بن جائیں.
مطلب جب بندہ اللہ کی راہ میں ایک روپیہ دیتا ہے تو اللہ اس کو سات سو گنا بڑھا کر واپس کرتا ہے. اور اگر بندے کی نیت میں خلوص زیادہ ہو تو پھر وہ سات سو، آٹھ سو گُنا نہیں دیکھتا بلکہ اپنے خزانۂ رحمت اسے بغیر گِنے، بےحساب عطا کردیتا ہے.
حدیث قدسی ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اے ابنِ آدم (انسان) تو اپنی کمائی خرچ کر ، میں اپنے خزانے سے تجھے دیتا رہوں گا” ( بخاری و مسلم)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مدنی آقا صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
"جو شخص ایک کھجور کے برابر پاک کمائی سے خرچ کرتا ہے، (چونکہ اللہ صرف پاک چیز کو قبول فرماتا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس کو داہنے ہاتھ میں لیتا ہے پھر اس کو پالتا (بڑھاتا جاتا) ہے جیسا کہ تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کو پالتا ہے یہاں تک کہ وہ پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے”. (بخاری)
اس لئے آئیے ہم بھی روزانہ صدقہ کی عادت ڈالیں. اللہ سے تجارت کریں. ایک روپیہ دیں اور سات سو واپس لیں. بلکہ اللہ کو اپنا خریدار ہی بنا لیں. مثال کے طور پر اگر آپ روزانہ سو روپے کماتے ہیں تو اس میں سے 5% یعنی 5روپے اپنے پاٹنر کے نام والے خالی بکس میں ڈال دیں. مہینہ دو مہینہ جمع کرتے رہیں پھر اسے کسی ضرورت مند، فقیر، مسکین کو دے دیں. یا کسی مسجد، مدرسہ یا کسی بھی نیک کام میں صَرف کردیں. یقین جانئے……تجربہ کرکے دیکھ لیں جس دن سے آپ نے یہ کام شروع کیا اسی دن آپ کی خوشحالی شروع ہوجائے گی. آپ کے کاروبار کو پَر لگیں گے. اور وہ نہایت حیران کُن طریقے دن بدن بڑھتا ہی چلا جائے گا.
کیونکہ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا غیرت مند ہے اس کی غیرت کبھی یہ گوارہ نہیں کرتی کہ دنیا کا کوئی شخص اس کے نام پر خرچ کرے…….اپنی دولت قربان کرے اور وہ اسے بدلے میں دولت نہ دے. اور کوئی شخص اسے اپنا خریدار بنائے اور اسے اس کے بعد کاروبار میں نقصان ہو جائے‘ بے شک اللہ تعالیٰ بڑا بہترین بدلہ دینے والا اور غنی و حمید ہے.