تحریر : مسعود جاوید

پاکستان کی ریسرچ اسکالر سوشل اکٹیوسٹ اور رائٹر محترمہ تزئین حسن صاحبہ نے پچھلے کئی دنوں سے یہ بیانیہ کہ ” مغربی تعلیم کی مخالفت کیوں اور ریسرچ /علمی تحقیق سے دوری کیوں ؟ اپنی تحریروں کا موضوع بنایا ہے.
ظاہر ہے عنوان بہت واضح نہیں ہونے کے سبب ان کی پوسٹ پر مختلف لوگوں نے جو مفہوم سمجها اس کے مطابق تبصرے کئے. میں نے بهی جو مفہوم سمجها اس کے مطابق تبصرے کیا جسے بعض لوگوں نے دینی طبقے کا دفاع کا نام دیا. اس لئے کہ آزادی نسواں تعلیم نسواں اور انگریزی کی مخالفت جیسی فرسودہ باتیں سو سال سے زیادہ پرانی ہے جسے دانشور طبقہ آج بهی یہ کہ کر اپنی ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرتا رہتا ہے کہ مسلمانوں کے پچهڑے پن کی وجہ پردہ اور علماء کی طرف سے انگریزی پڑهنے کی مخالفت ہے. جبکہ حقیقت یہ ہے پورے ملک میں اور خاص طور پر مسلمانوں اور پسماندہ طبقوں میں تعلیمی بیداری ایسی آئی ہے کہ کیا مولوی کیا غیر مولوی کیا امیر کیا غریب کیا گاوں والے کیا شہر والے حتی کہ گھروں میں برتن دهونے اورکام کرنے والی عورتیں بهی اپنے بچے بچیوں کو اسکول و کالج پہنچا رہی ہیں. اب تعلیم ایلیٹ کلاس کی پریسٹیج وقار کی علامت نہیں رہی.

1- أولاً یہ کہ علماء نے انگریزی کی مخالفت بحیثیت زبان نہیں کی. اور اگر کی بهی تو اس کی ایک علت تهی انگریزوں کی پالیسی کے خلاف احتجاج ویسی ہی جیسے گاندھی جی نے انگریزوں کے نمک اور کپڑوں کے استعمال کی مخالفت کی. اور جب وہ علت ختم ہو گئی تو معلول آزاد ہو گیا. اب نہ نمک اور کپڑے کے استعمال پر اعتراض ہے اور نہ ہی انگریزی زبان سیکهنے پر.
2- محترمہ کا دوسرا سوال کہ پاکستان کے اسکولوں میں مغربی طرز تعلیم رائج نہیں ہے.
پچھلے کئی دنوں سے ان کی پوسٹ مغربی تعلیم کی مخالفت اور تحقیق و ریسرچ سے دوری پر آرہی ہیں. ان پوسٹ سے وہ کیا کہنا چاہ رہی ہیں یہ میں سمجھ نہیں سکا اور اس کے لئے اپنی کم علمی اور ناقص فہمی کا اعتراف کرتا ہوں اور ان سے پوچهنا چاہتا ہوں کہ مغربی تعلیم اور ریسرچ سے ان کی مراد کیا ہے ؟
ہمارے یہاں پرائمری کلاس سے لے کر سیکنڈری تک ایک composite curriculum ہے. اس کے تحت انگریزی زبان سائنس ریاضی ماحولیاتی سائنس تاریخ جغرافیہ معلومات عامہ اور مادری زبان کی تعلیم دی جاتی ہے.
دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد گیارہویں اور بارہویں کے لئے selective curriculum ہے جس میں طلباء کو اپنے ذہنی میلان اور مستقبل میں کیا بننا ہے اس کے مطابق مختلف شعبوں میں سے چننے کا اختیار ہوتا ہے . مثال کے طور پر اگر اسے بارہویں پاس کرنے کے بعد میڈیکل کالج میں داخلہ لینا ہے تو وہ 11th میں ہی PCB فزکس کیمسٹری بایولوجی لے گا اور اسی میں بارہویں بهی کرے گا لیکن اگر اسے انجینئرنگ میں ایڈمیشن لینا ہے تو PCM فزکس کیمسٹری میتھمیٹکس لے گا. بعض طلبہ PCBM لیتے ہیں تاکہ دونوں اسٹریم میں قسمت آزمائی کرے یا جو میڈیکل اور انجینئرنگ نہیں کچھ اور کرنا چاہتے ہیں جیسے Bio Sc یا Bio Tech میں یا کمپوٹر سائنس میں گریجویشن …. اسی طرح آرٹس Humanities یا کامرس اسٹریم میں گریجویشن …. اس کے بعد پوسٹ گریجویشن اس کے بعد M.Phil اس کے بعد Ph.D. اس کے بعد مزید اسپیشیلائزڈ ریسرچ . …. کیا یہ نظام تعلیم پاکستان میں نہیں ہے ؟
جہاں تک تحقیق اور ریسرچ سے دوری کا تعلق ہے تو دینی نقطہ نظر سے یہ ریسرچ معرض بحث اس وقت ہوگی جب یہ منقولات اور معتقدات کو مس کرے گی اور جب یہ الحاد کی طرف لے جائے گی. اس لئے کہ ہمارا ایمان غیب پر ہے اور منقولات سے ہمیں یہ معلوم ہوا ہے کہ مرنے کے بعد قبر میں منکر نکیر سوال جواب اس کے بعد روز حشر ہمیں اٹهایا جائے گا اسی طرح جنت ہے جہنم ہے میزان ہے جزا و سزا ہے یہ غیب کی باتیں ہمیں اللہ نے اور اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم نے بتایا ہے …. منطقی ریسرچ کرنے والوں کی سمجھ میں یہ باتیں نہیں آتی ہیں اسی لئے وہ ان کا انکار کرتے ہیں اور اسی لئے ہم انہیں ملحد دہریہ اور بے دین کہتے ہیں. تزئین صاحبہ کے ” ریسرچ کی مخالفت کیوں ” سے میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ریسرچ سمجها اور اسی کے مطابق تنصرے کئے تهے کہ ممکن ہو ابهی ان کے حریف ملک نے چاند پر کمند ڈالنے کی کوشش کی تو پاکستان کیوں نہیں ؟ لیکن بعد میں دهیرے دهیرے یہ اسلامسٹ اور نان اسلامسٹ کی آپسی چپقلش کا عندیہ دیا.
ہمارے یہاں بهی بے شمار ایسے مسلم ماہرین تاریخ شاعر ادیب نقاد سائنسدان گزرے ہیں اور ہیں جنہوں نے اپنی علمی لیاقت کا لوہا منوانے کا شارٹ کٹ راستہ اسلام اور مسلمانوں کی تنقید اور تنقیص کو اپنایا. غیروں نے دانشمندی کے تمغے دیئے تالیاں بجائیں اور اس طرح بائیں بازو حلقوں میں مقبول رہے اور مسلم سماج جن سے ان کی کم عقلی پچهڑا پن تنگ نظری اور مغربی آزادی اور بے راہ روی کے خلاف سوچ کی وجہ سے نفرت کرتے رہے مگر مرنے سے قبل یہ تمنا کی کہ مسلمانوں کی طرح ہی ان کی تجہیز و تکفین ہو !
آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے !