مسلم پرسنل بورڈ کی جانب سے نکاح کو آسان بنانے کے لئے ایک دس روزہ مہم کا آغاز کیا گیا ہے جو 27th  مارچ  تا 5th اپریل 2021 چلے گی۔ یہ وقت کی اہم ترین ضرورت تھی۔ بورڈ کے اِس اقدام کا ہر ہر شخص پر ساتھ دینا لازمی ہے۔ اس مہم کا اہم ایجنڈا لوگوں سے ایک اقرار لینا ہے۔ بورڈ کے علما نے خود یہ اقرار نامہ جاری کیا ہے اور اس کے ساتھ ہی کچھ قراردادوں کا مجموعہ بھی تیار کیا گیا ہے جو سوشیل میڈیا اور کئی اخبارات میں شائع ہوچکا ہے۔ اس قرار داد کا ایک تجزیہ پیش کیا جارہا ہے۔
 بورڈ کے ذمہ دار حضرات جن میں تمام مسالک سے وابستہ جیّد علما، مفتی، مشائخین اور سجّادے حضرات ہیں، ان تمام سے درخواست ہے کہ اس تجزیہ پر غور فرمائیں اور اقرار نامہ میں رہ گئی خامیوں کو دور کرکے ایک ایسا طاقتور اقرار نامہ تیار کریں جس سے نہ صرف صحیح سنّت نکاح قائم ہو بلکہ غیرمسلم برادری کو بھی یہ پیغام پہنچ جائے کہ اسلام میں شادی کتنی آسان ہے۔
ورنہ پیش کردہ اقرار نامہ بہت ہی کمزور اور مبہم ہے۔یہ اقرار نامہ ایسا ہے گویا کینسر کے مریض کاجسے فوری سرجری کرکے پھوڑا نکال پھینکنے کی ضرورت ہے، اس کو صرف ڈیٹال سے دھوتے رہنے اور وِکس یا بام لگاتے رہنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اس پورے اقرار نامے اور قراردادوں میں جو مجموعی بیان سامنے آرہا ہے وہ یہی ہے کہ جو سسٹم چل رہا ہے چلنے دو، بس تھوڑا سا خرچ کم کردو، اور لڑکی والوں پر تھوڑا سا بوجھ کم ڈالو۔ ہمیں یقین ہے کہ بورڈ کے علما اسے تنقید نہ سمجھتے ہوئے، ان امور پر ضرورتوجہ فرمائیں گے۔
عائشہ کی خودکشی کے بعد لوگوں میں جو  عبرت لینے کا جذبہ پیدا ہوچکا ہے، یہ ایک سنہری موقع ہے کہ ان کے ذہنوں سے مشرکانہ رسم و رواج ہٹا کر نبی ﷺ کی اُس سنّت کو راسخ کردیا جائے جس سنّت کو  غربت و افلاس کا خاتمہ کرنے والی سنّت کہا جاسکتا ہے یعنی نکاح،  بشرطیکہ مکمل نبی ﷺ کے طریقے پر ہو۔ لیکن اس اقرارنامے میں سنّت پر کہیں زور نہیں دیا گیا،  البتہ مہارانی جودھابائی کی لائی ہوئی رسموں کو چھانٹ کرکیا بہتر ہے وہ قبول کرلینے کی ترغیب دی گئی ہے۔ پورے اقرار نامے میں کہیں نقد مہر کی اہمیت پربات نہیں کی گئی۔
اس دور کی سب سے بڑی خرافات تو اُدھار مہر ہے۔ یہ کس نے اور کب جائز کیا، سنت سے خلاف جاکر کہاں سے جواز لائے، اس کی تحقیق تو ہونی ہے لیکن مختصراً یہ کہ سنت میں یا قرآن میں کہیں بھی مہر کو ادھار رکھنے کی ایک بھی روایت نہیں ملتی۔ نقد مہر عورت کی مرضی اور آزادی کا ٹوکن یا علامت تھا۔ لیکن جہیز نے اس حکم کو مکمل پامال کردیا۔ اب یہ علما جانیں کہ طلاق اگر شریعت کے مطابق نہ ہو تو رشتہ حلال نہیں رہتا، اسی طرح مہر واجب ہے، اگر یہ شریعت کے مطابق نقد ادا نہ ہو تو نکاح حلال ہوگا یا نہیں؟ اگر نقد مہر کے وجوب کی تفصیل لوگوں کو معلوم ہوجائے تو یہی ایک نکتہ جہیز اور
کھانوں کا خاتمہ کرنے کافی ہے۔
پہلا عہد یہ لیا گیا کہ ”نکاح کو آسان بنائیں گے“۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نکاح کو آسان بنانے والے ہم کون ہوتے ہیں؟ رسول اللہ ﷺ نے جو نکاح کیئے ان کا طریقہ کیا مشکل تھا؟ آپ کو یہ کہنا چاہئے تھا کہ ”نکاح کو مکمل سنّت کے مطابق نافذ کریں گے“۔ نکاح صرف قاضی صاحب کی موجودگی میں ہونے والی کاروائی کا نام نہیں ہے  بلکہ لڑکا لڑکی کے انتخاب سے لے کر بات چیت اور پھر شادی کی آخری رسم تک ہونے والے تمام کاروائیوں کا نام ہے۔ ہم پہلے یہ طئے کریں کہ نکاح پورا کا پورا نبیﷺ کی سنّت کے مطابق انجام دینا کیا ضروری ہے؟ یہ کیا ہے، فرض ہے، واجب ہے، موکّدہ ہے غیر موکّدہ ہے، نفل ہے یا مستحب ہے جس کو کرلیں تو ٹھیک ہے ورنہ کوئی بات نہیں؟ اگر کوئی شخص نکاح میں غیراسلامی رسومات داخل کردیتا ہے اور شدت پسندی پر اترآتا ہے تو ایسے گستاخِ رسول کی شادی کا دعوت نامہ قبول کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
عہد نمبر 3 میں آپ یہ اقرار کرواتے ہیں کہ نکاح کے دن کا کھانا صرف بیرونِ شہر سے آنے والوں کو کھلائیں گے اور گھروالوں کو۔ پہلا سوال یہ کہ نکاح کے دن کے کھانے کا  جواز کس سنت رسولﷺ سے لیا گیا؟ دوسرا سوال یہ کہ نکاح کے دن مہمانوں کو جمع کرنے کی روایت اسلام کی ہے یا ہندوؤں کی؟ تیسرے یہ کہ جب آپ مہمانوں کو جمع ہی کررہے ہیں تو کیا عین کھانے کے وقت لوگوں سے یہ کہہ دیں گے جو جو شہر میں رہنے والے لوگ ہیں وہ  اپنے گھر تشریف لے جائیں اور شہر سے باہر سے جو آئے ہیں وہ  دستر خوان پر تشریف لائیں؟
بورڈ کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کھانے ہی تو اصل فساد کی جڑ ہیں۔ جہیز تو ایک دو لاکھ کا ہوتا ہے لیکن یہ منگنی اوربارات کے کھانے، پھر سانچق، مانجے، جمعگی کے کھانے، نوروز اور مبارکہ کے کھانے، اُدھر ولیمہ کے خلافِ سنت مہمانوں کے سینکڑوں کے ہجوم کے کھانے،یہی  تو وہ فتنہ ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے گھر بِکتے ہیں، لڑکیاں گھروں سے بھاگتی ہیں، لڑکے شادی میں تاخیر کی وجہ سے آوارہ ہوتے ہیں۔جب شادی کے دن کے کھانے کا کوئی جواز نہیں تو پھر اس میں آسانیاں پیدا کرکے دینے کا کیا مقصد ہے؟اگر اپنے اپنے مہمانوں کو جمع کرکے کھلانے کا اتنا ہی شوق ہے تو نکاح اور ولیمہ ایک ساتھ کیجئے، مغرب میں نکاح اور عشا بعد ولیمہ کھلادیجئے، کسی کا مہمان بھوکا نہیں جائیگا۔شریعت میں اس کی اجازت ہے۔
عہد نمبر 4 میں آپ پھر وہی کھانوں کو لے آتے ہیں، اور اقرار کرواتے ہیں کہ غیر شرعی دعوت میں ضرور جائیں گے لیکن کھانا نہیں کھائیں گے۔ پہلا سوال یہ کہ سینکڑوں لوگ جو دعوت میں آپ کو موجود دیکھیں گے انہیں کیا خبر کہ آپ نے کھایا یا نہیں کھایا؟ ان کے لئے یہی کافی ہے کہ آپ جیسے مولانا دعوت میں شریک تھے۔دوسرا سوال یہ کہ کھانا کیوں نہ کھائیں؟۔ یہ حرام ہے؟ مکروہ ہے؟ یا کیا ہے، یہ وضاحت کیجئے۔ اگر یہ کھانا جائز نہیں تو پہلے کھلانے والوں سے اور کھانا مانگنے والوں سے عہد لیجئے۔
عہد نمبر 5 میں آپ یہ اقرار کروارہے ہیں کہ ولیمہ سادگی سے کریں گے اور دولت کی نمائش نہیں کریں گے۔سوال یہ ہے کہ کس کی سادگی آپ کے پاس معیار ہے؟ کیونکہ ہر شخص کی سادگی کا معیار اس کی آمدنی اور Status کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے۔جس کے پاس کئی کروڑ ہیں، ایک کروڑ کی شادی اس کے لئے سادگی ہے۔ NRI یا مڈل کلاس والے کے لئے پندرہ بیس لاکھ بھی سادگی ہی ہے۔ معمولی غریب لوگوں کے لئے دو چار لاکھ روپئے سادگی ہے، لہذا آپ بتایئے کہ سادگی کا معیار کیا ہے؟ اگر آپ نے ہر ایک کو اپنے اپنے اسٹانڈرڈ کے مطابق سادگی اختیار کرنے کا اختیار دیا تو آپ وہی چور دروازے کھول کر دے رہے ہیں جس کی وجہ سے شادیاں آج ناممکن ہوگئی ہیں۔
آپ صاف صاف  یہ کیوں نہیں کہہ ڈالتے کہ ولیمہ میں  سادگی کا معیار صرف رسول اللہ ﷺ یا حضرت علیؓ کا ولیمہ ہے یا پھر عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کا،  جنہوں نے رسول اللہﷺ کو دعوت بھی نہیں دی، جس سے ثابت ہوا کہ ولیمہ میں بڑے بڑے لوگوں کو بلانا قطعی ضروری نہیں ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا کوئی لکھ کر دے گا کہ وہ دولت کی نمائش نہیں کررہا ہے؟ شادی ہال اور کتنے ڈِش رکھے گئے یہ ثبوت ہے دولت کی نمائش کا۔ اب ایسی دعوت میں علما ہوں کہ دوسرے، جائیں گے یا نہیں؟ اگر جائیں گے تو پھر اس عہد5 کا لینا ہی بے کار ہے، کیونکہ آ ج کے دور کے چلن کے پیشِ نظر آپ شادی خانوں اور کئی کئی ڈِش کے کھانوں کو جائز کرتے ہیں، اور ان میں شرکت کرتے ہیں تو یہ اقرار نامے کے اثر کو مکمل ختم کردیتا ہے۔
عہد نمبر 6 میں آپ یہ اقرار کروارہے  ہیں کہ خلافِ شریعت دعوت ہو تو آپ اظہارِ ناپسندیدگی کریں گے۔ لیکن کس طرح؟ کیا منہ پُھلا کر؟ بات چیت بند کرکے؟ جب نبی ﷺ نے ایسے منکرات سے کس طرح کا رویہ رکھنا ہے یہ طریقہ بتادیا ہے  تو آپ سیدھے سیدھے وہی طریقہ کیوں پیش نہیں کرتے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمادیا کہ جب تم برائی کو دیکھو تو پہلے ہاتھ سے روکو، یا زبان سے یا پھر دل سے نفرت کرو۔ یعنی بائیکاٹ کرو۔  لہذا اظہارِ ناپسندیدگی بائیکاٹ کے علاوہ کچھ نہیں، جس وقت دعوت نامہ آئے،  اسی وقت ان سے معذرت کرلیں۔ یہ بھی ایک طرح کا جہاد ہے۔  لیکن یہاں پر علما حضرات ہی رشتہ داروں کے حقوق، صلہ رحمی اور قطع رحمی کی حدیثیں لاکر بائیکاٹ کے حکم کو موقوف کردیتے ہیں۔
فتاویٰ عالمگیری، درمختار اورفتاویٰ نذیریہ اور فتاویٰ رضویہ کے فتوے دکھاتے ہیں۔
ایسی دعوتوں میں شرکت کیوں حرام ہے جہاں جہیز یاکھانے ہوں، لڑکی والوں کی طرف سے خرچ کیا جارہا ہو، ان کے حرام ہونے کی ایک نہیں کئی وجوہات ہیں۔ فتاویٰ عالمگیری اور در مختار کو لکھے گئے 370 سال ہوچکے۔ فتاویٰ نذیریہ یا رضویہ کو لکھے گئے 150 سال ہوچکے۔ فتوے یا اجماع وقت اور مقام کی تبدیلی کے ساتھ ہی بدل جاتے ہیں، یہ فقہ کا اصول ہے۔ اس زمانے میں یہ چلن تھا ہوگا کہ جو بھی کھانا یا جہیز دے دے لے لیا جاتا، اگر کوئی نہیں دیتا تو کوئی برانہیں مانتا۔ لیکن آج 2020s  کا دور ہے۔ اب جہیز اورکھانے کے بغیر 99% شادیاں ناممکن ہیں۔ اب پرانے فتوے اور اجماع شادیوں کے معاملے میں نہیں چل سکتے۔ آج جہیز اور کھانے ایک ایسی رشوت ہیں جس کے دیئے بغیر شادی ناممکن ہے، اس لئے یہ حرام ہیں۔