مسٹر خان، مدراس اور میٹرک کے سلیبس کو یکجا کرنا ایک ناقص اور فرسودہ خیال ہے۔ دقیانوسی نظامیہ سلیبس کی بجائے ، "بیت ال حکمت” کا سلیبس رائج کرنے کی ضرورت ہے۔

"اسلامی دنیا، ڈا ونچی اور جوہان بوچ جیسی عبقری شخصیات کیوں پیدا نہیں کر پا رہیں؟”

مجھ سے اکثر مندرجہ بالا سوال کیا جاتا ہے، اسکے جواب کیلئے ہمیں تاریخ کو کنگھلنا ہوگا اور درخشاں مستقبل کا تعین کرنا ہوگا۔ مزید براں، یہ بھی پوچھا جاتا ہے کہ اسلامی دنیا مجددین اور نوبیل انعام یافتہ شخصیات میں باقی دنیا سے بہت پیچھے کیوں ہے۔ اسکا جواب طویل ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ نا تو یہ عالمی سازش ہے نا ہی دشمن اغیار ہیں، یہ ہم ہی اپنی تباہی کا باعث ہیں۔
پیچھے ره جانے کی وجہ سادہ سی ہے، جمودی سیاسی نظام, قرون وسطیٰ، مذہبی جنونیت، تعصب پسندی ، مکتوب پر مسلمہ یقین اور ان خصوصیات سے ازلوں کا قلبی تعلق، اس پر طرہ یہ کہ خود فریبی میں مبتلا کہ دشمن کہیں باہر سے ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ غیر عقل پسند رویہ معاشرے میں عقل و خرد کی راہیں تنگ اور عدم برداشت کو ہوا دے رہیں ہیں۔
آئمہ کی سرپرستی میں اسلامی دنیا نے فلسفے اور اجتہاد کو خیر آباد کہہ دیا جب کہ عیسائی پاپائیت کے قدامت پرست دور میں بھی جامعہ سلامنکا، آکسفورڈ، جامعہ پیرس اور بولوگنا کی درس گاہوں نے نشونما پائی۔
انکی کل کی مذہبی خانقاہیں آج کی جامعات ہیں، جب کہ ہمارے ال اظہر اور نظامیہ مدارسِ علم کا دائرہ کار صرف حدیث کے علوم اور زندگی بعد از موت کے انعامات کی جانکاری تک محیط رکھنے کی وجہ سے فکری جمود کا شکار ہو گئے۔
سن بارہ سو پچپن میں، پوپ الیگزینڈر چہارم نے جامع سلامانکہ کو دنیائے علم کے چار درخشاں چراغوں میں سے ایک ہونے کا لقب دیا۔(آکسفورڈ، جامع پریس اور جامع بولوگنا بھی اسی شمار میں ہیں)
کرسٹوفر کولمبس نے سلامنکا کا قصد کیا تو ڈومینیکن پادریوں اور سان استبیان کانونٹ کی سرپرستی کی وجہ سے ملکہ اسابیلا نے اس کو سمندر پار مہمات کیلئے اجازت نامہ دیا اور یوں امریکہ کی دریافت ممکن ہوئی۔ اہل یورپ حیات نو کے آغاز میں جان گئے کہ خطروں سے ہم کنار ہوئے بغیر ایجادات کے درخشاں باب کی شروعات نا ممکن ہے۔ یوں مسلم دنیا میں بھی یہ نظریہ کہ سب کچھ مکتوب ہے، فاسد و فاجر ٹھہرا اور جستجو پر سیر حاصل بحث کا آغاز ہوا۔
تقدیر پر بحث کا ماخذ ابن رشد اور الغزالی کے مابین ہونے والی علمی بحث ہے جسمیں الغزالی کا پلڑا بھاری ہے۔ ال فارابی، ابو سینا اور ابن رشد کی مشترکہ کوششیں یونانی عقل پسندی کو اسلام کے دائرہ کار میں زم کرنے کی تھیں۔ انکو عقائد اور خرد مندی کا ملاپ درکار تھا۔ ایسے نظریات کی ترویج پر انکو جلاوطنی سہنی پڑی، طرح طرح کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا جب کہ ملائیت کی دِین،
"الہامی علوم ماورا عقل ہیں لہذا اندھی تقلید کی جائے” جیسی سوچ نے عوام و خواص میں جگہ بنا لی۔ یوں تدبیر کی راہوں کی بیخ کنی ہوئی اور تقدیر کی فوقیت پر قناعت کر کے متجسس سوچ کا خاتمہ کیا گیا۔
"اللہ کی مرضی ہے” ، "جو خدا کو منظور” جیسے فقرے عام ہوئے اور تخلیقی صلاحیتوں اور جدت پسندی جرم ٹھہری۔ اسی فلسفے پر عمل درآمد کرتے ہوئے انشورنس اور بینکنگ کو حرام کہا گیا۔ یہی سوچ کا جمود تھا کہ جامعہ الاظہر، قرطبہ اور نظامیہ کسی بھی قسم کی سائنسی تحقیق نا کر سکیں اور نا کوئی کولمبس پیدا ہوا جو شاہی منشاء پر سات سمندر پار بھیجا جاتا۔ یہی وجہ ہے آکسفورڈ اور کیمبرج جو کہ خانقاہیں تھیں، بڑی درسگاہوں میں تبدیل ہوگئیں اور جامعہ ال اظہر قصہ پارینہ بن گئی۔
یہی وجہ ہے مسلمانوں کا دائرہ کار صرف بحیرہ روم رہا، ان وقتوں میں دور پار بھیجے جانے والے بحری جہازوں کو سرمایہ اور سرکاری سرپرستی درکار ہوتی تھی جو سلطنت عثمانیہ کی ترجیحات میں نہیں تھی، عثمانی بحیرہ روم اور اُسکے آس پاس کے جزیروں میں جنگوں تک محیط رھے اور سرمایہ بحری ٹیکنالوجی بنانے میں لگانے کا سوچا تک نہیں۔
سائنسی تحقیق کو اُجاگر کرنے کی بجائے، ہزاروں علماء پیدا کیئے گئے جنکا واحد مقصد زندگی بعد از موت کیلئے لوگوں کو تیار کرنا اور فانی دنیا کو تیاگنے پر اکسانا تھا، حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کے ارشادات ، ” علم حاصل کرو چاہے تمھیں چین جانا پڑے” اور ” عالم کا قلم اور سیاہی، تلوار سے زیادہ کاری اور طاقتور ہے” کو یکسر پسںِ پشت ڈال دیا گیا۔
مدارس کے سلیبس میں صرف قرآنی آیات اور احادیث کو رٹنے پر توجہ دی گئی جب کہ سائنسی علوم اور علمل فلکیات شجر ممنوعہ قرار دیئے گئے۔ اِصطَرلاب (اسٹرولبل) ایجاد کرنے والوں نے یہ اور باقی ایجادات اغیار کے ہاتھوں دے کر اپنا دامن تہی کر لیا۔ جامعہ ال اظہر کجا، کوئی ایک یونیورسٹی بھی پائے کی تحقیق مرتب نا کر سکی
یہ کہانی تھی مسلمانوں کے قرب ناک زوال کی۔

تحریر: اقبال لطیف
مترجم: حرا ایمن