شرافت۔ مذہبی گالیاں کیسی گالیاں ہیں؟؟
احمد صفی۔یہ ایسی گالیاں ہیں کہ جس کو دیتے وقت دینے والے کو جذبہ خیر اور خدمت دین کا احساس ہوتا ہے۔

شرافت۔گالیاں دیتے ہوئے خدمت دین کا احساس یہ کیسے ممکن ہے جبکہ گالیاں دینا شریعت کے خلاف ہے؟؟
احمدصفی۔آپ نے صحیح کہا لیکن خدمت دین کا احساس ہوتا ہے وہ اس لئے کہ یہ مذہبی گالیاں جو ٹھہریں ان گالیوں کا استعمال لوگ اپنے نظریاتی حریف کو مقہور و مذموم ثابت کرنے کے لیے خدمت دین کے جذبہ سے سرشار ہوکر کرتے ہیں اور ایسے مذہبی گالی بازوں کو خوب پزیرائی بھی ملتی ہے مزید خدمت دین کا ٹائٹل بھی۔
شرافت۔مذہبی گالیاں دیتا کون ہے؟؟
احمد صفی۔ آپ نے یہ سوال پوچھ کر مجھے پریشانی میں ڈال دیا اگر میں جواب نہیں دیتا ہوں تو بات نامکمل رہ جائے گی اور اگر دیتا ہوں تو تختہ دار پر کہیں چڑھا نہ دیا جاؤں لیکن حق بات کہنے میں ڈر کیسا سنیئے جواب ایسی گالیاں وہ دیتا جو خود کو مذہبی کہتے ہیں لیکن وہ مذہبی روح سے معرا ہوتے ہیں، خود کو علامہ و فہامہ گمان کرتے ہیں لیکن جہالت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتے ہیں، یہ وہ متشدد ہوتے ہیں جن کی نظر میں شریعت وہی ہوتی ہے جو ان کے پیر کہتے ہیں بس اتنے پر ہی اکتفاء کرتا ہوں۔
شرافت۔یہ مذہبی گالیاں ہیں کیا؟؟؟
احمد صفی۔ سنیئے مذہبی گالیاں۔شیعہ کھٹمل،قبر پرست صوفی، کافر ساز بریلوی، حلوہ کھور مولوی، ہرا طوطا ،وہابڑا، یہودیوں کا ایجنٹ، نجدی سور، حرامی النسل وغیرہ لمبی فہرست ہے ۔
شرافت۔ان گالیوں کو دیتے وقت کیا یہ احساس نہیں ہوتا ہے کہ یہ غلط ہیں؟؟
احمد صفی۔بلکل نہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ اتنے زیادہ متشدد ہوتے ہیں کہ اپنے نظریہ کو حرف آخر تصور کرتے ہیں اس کے خلاف سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور اپنے نظریہ کو منوانے کے لیے جائز و ناجائز کی تمیز کیے بغیر ہر وہ حربہ اپناتے ہیں جن پر وہ قادر ہوتے ہیں۔
شرافت۔آپ کی نظر میں ایسی گالیاں دینا کیسا ہے؟؟
احمد صفی۔میری نظر میں یہ سراسر اسلام کی روح کے خلاف ہے کیونکہ اسلام ایسا مذہب ہے جس نے کافروں کے جھوٹے خداؤں کو بھی گالی دینے سے روکا ہے تو چہ جائیکہ ہم ایک مسلم کو گالی دیں باوجودکہ احترام مسلم واجب ہے۔
اور ان کی حیثیت میری نظر میں فسادی کی ہے جس کو قرآن نے کچھ یوں بیان کیا ہے۔وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّمَا نَحۡنُ مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡمُفۡسِدُوۡنَ وَ لٰکِنۡ لَّا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۲﴾بقرہ
ترجمہ۔جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ زمین پر فساد مت مچاؤ تو وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم لوگ تو اصلاح کرنے والے ہیں ،خبر دار یہی لوگ فسادی ہیں لیکن ان لوگوں کو احساس نہیں ۔