اگر ہم ملک عرب کوکرہ زمین کےنقشہ پر دیکھیں تو اس کے محلہ وقوع سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی عزوجل نے ملک عرب کو ایشیاء، یورپ اور افریقہ تین بر اعظموں کے اعظم کے وسط میں جگہ دی ہے۔اس سے بخوبی یہ سمجھ میں آسکتا ہےکہ اگر تمام دنیا کی ہدایت کے واسطے  ایک واحد مرکز قائم کرنے کے لیے ہم  کسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیں تو اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں اور مناسب مقام ہے ۔خصوصا حضور اکرم صلی اللہ وسلم کے زمانے پر نظر کرکے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب افریقہ اور یورپ اور ایشیا کی تین بڑی بڑی  سلطنتوں کا تعلق ملک عرب سے تھا۔توظاہر ہے کہ ملک عرب سے اٹھنے والی آواز کو ان براعظموں میں پہنچائے جانے کے ذرائع بخوبی موجود تھے۔غالبا یہی وہ حکمت الٰہیہ ہے کہ اللہ تعالی نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ملک عرب میں پیدا فرمایا،اوران کو اقوام عالم کی ہدایت کا کام سپرد فرمایا۔ واللہ تعالیٰ اعلم ورسولہ
عرب کی سیاسی حالت:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے وقت ملک عرب کی سیاسی حالت کا یہ حال تھا کہ جنوبی حصہ پر سلطنت حبشہ کا۔اور مشرقی حصہ پر سلطنت فارس کا قبضہ تھا۔اوروشمالی ٹکڑا سلطنت روم کی مشرقی شاخ سلطنت قسطنطنیہ کے زیر اثر تھا۔اندرون ملک،بزعم خود ملک عرب آزاد تھا لیکن اس پر قبضہ کرنے کے لئے ہر ایک سلطنت کوشش میں لگی ہوئی تھی اور در حقیقت ان سلطنتوں کی باہمی رقابتوں ہی کے طفیل میں ملک عرب آزادی کی نعمت سے بہرہ ور تھا۔
عرب کی اخلاقی حالت:
عرب کی اخلاقی حالت نہایت ہی ابتر بلکہ بد سے بد تر تھی جہالت نے ان میں بت پرستی کو جنم دیا تھا اور بت پرستی کی لعنت نے ان کے انسانی دل و دماغ پر قابض ہو کر ان کو توہم پرست بنا دیا تھا۔ وہ مظاہرِ فطرت کی ہر چیز پتھر تھا، درخت، چاند ،سورج، پہاڑ،دریا وغیرہ کو اپنا معبود سمجھنے لگ گئے تھے۔اور خود ساختہ مٹی اور پتھر کی مورتوں کی عبادت کرتے تھے۔ عقائد کی خرابی کے ساتھ ساتھ ان کے اعمال و افعال بیحد بگڑے ہوئے تھے۔قتل ،رہزنی ،جوابازی، شراب نوشی، حرام خوری، عورتوں کا اغوا، لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا،عیاشی
 ،فحش گوئی، غرض کون سا ایسا گندہ اور گھناؤناعمل تھا جوان کی سرشت میں نہ رہا ہو۔چھوٹے بڑے سب کے سب گناہوں کے پتلے،اور پاپ کے پہاڑبنے ہوئے تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد:
بانی کعبہ حضرت ابرا ہیم علیہ سلام کے ایک فرزند کا نام حضرت اسمٰعیل علیہ السلام ہے جو حضرت بی بی ہاجرہ رضی اللہ تعالی عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو اور ان کی والدہ حضرت ہاجرہ کو مکہ مکرمہ میں لا کر آباد کیا۔اور عرب کی زمین انکو عطاء فرمائی۔
حضرتِ ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے فرزند کا نام حضرت اسحاق علیہ السلام ہے جو حضرت سارہ رضی اللہ تعالی عنہا کے مقدس شکم سے تولد ہوئےتھے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کو ملک شام عطا فرمایا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی حضرت قطورہ کے پیٹ سے جو اولاد "مدین” وغیرہ ہوئے ان کو آپ نے یمن کا علاقہ عطافرمایاتھا۔
اولاد حضرت اسماعیل علیہ السلام:
حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بارہ بیٹے ہوئے۔ اور ان کی اولاد میں خداوند قدوس نے اس قدر برکت عطا فرمائی کہ وہ بہت جلد تمام عرب میں پھیل گئے۔یہاں تک کہ مغرب میں مصر کے قریب تک ان کی آبادیاں جا پہنچیں۔اور جنوب کی طرف ان کی بستیاں ملک شام سے  جا ملیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ایک فرزند کا نام” قیدار” تھا بہت ہی نامور ہوئے اور ان کی اولاد خاص مکہ میں آباد رہی اور یہ لوگ اپنے باپ کی طرح ہمیشہ کعبہ معظمہ کی خدمت کرتے رہے جس کو دنیا میں توحید کی  سب سے پہلی درسگاہ ہونے کا شرف حاصل ہے!
     انہیں قیدار کی اولاد میں "عدنان” نامی نہایت اولوالعزم شخص پیدا ہوئے اور "عدنان ” کی اولاد میں چند پشتوں کے بعد قصی بہت ہی جاہ وجلال والے شخص پیدا ہوئے جنہوں نے مکہ مکرمہ میں مشترکہ حکومت کی بنیاد پر 440 عیسوی میں ایک سلطنت قائم کی اور ایک مجلس(پارلیمنٹ) بنائی جو” دارالندوہ” کے نام سے ہے ۔اور اپنا ایک قومی جھنڈا بنایا جس کو "لواء” کہتے تھے۔ اور مندرج ذیل چار عہدے قائم کۓ جنکی ذمہ داری چار قبیلوں کو سونپ دی ۔1.رفادہ  2.سقایہ  3. حجابة  4.قیادة۔
  ” قصی” کے بعد انکے فرزند” عبد مناف” اپنے باپ کے جانشین ہوئے۔پھر انکے فرزند "ھاشم "پھر انکے فرزند” عبد المطلب”  یکے بعد دیگرے ایک دوسرے کے جا نشین ہوتے رہے ۔انھی عبد المطلب کے فرزند حضرت عبداللہ ہیں ۔جن کے فرزند ارجمند ہمارے حضور رحمتہ اللعالمین  صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
        بہرحال اس بات پر ماہرین اور دانشور کا اتفاق ہے کہ قدیم انسانی تاریخ کی زیادہ تر اقوام اور ثقافتوں کا تعلق ملک شام،مصر،عراق اور جزیرہ نما عرب اور اسکے اس پاس کے علاقوں سے رہا ہے ۔چونکہ زیادہ تر آبادی بھی انہیں علاقوں میں موجود تھی تو ظاہر ہے کہ زیادہ تر رسول بھی انہیں علاقوں میں بھیجے گئے۔ہمارے دین کی بنیادی حقیقتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالٰی عزوجل نے اپنے بندوں پر حجت تمام کرنے کے لئے پیغمبر،رسول، نبی، کتابیں اور صحیفے بھیجیں اور ایسا نہیں ہوا ہے کہ یہ کسی قوم یا ایک ہی خطے میں بھیجی گئی ہوں ۔
بلکہ دنیا کی تمام اقوام اور علاقوں کی طرف اللہ ربّ العزت کی جانب سے وقتًا فوقتًا نبی،رسول اور پیغمبر بھیجے گئے اور آسمانی کتابیں اور صحیفے بھی اتاری گئیں۔ اللہ ربّ العزت قرآن مقدس میں ارشاد فرماتا ہے۔ترجمہ: ہم نے آپ کو حق کے ساتھ خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بھیجا ہے ۔اور کوئی امت نہیں مگر اس میں ہدایت کرنے والا گزرچکا ہے۔(قرآن)اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ ہم سبھوں کو دین اسلام سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔اورحضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں مر مٹنےکاجذبہ عطافرماے۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔