جموں وکشمیر کے لاکھوں لوگوں کی قیدوبند کی زندگی کو ایک مہینہ ہوگیا ہے۔۔۔۔ اگر عارفہ خانم شیروانی کی طرح کے چند صحافیوں کے تجزیات پر ہی ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یقین نہیں آتا کہ ہم ہندوستان میں ہی آباد ہیں ۔۔۔

عارفہ خانم ایک ہفتہ سری نگر میں گزارکر لوٹی ہیں ۔۔۔ اس دوران انہوں نے کئی ویڈیو پروگرام بنائے ہیں جو The Wire نامی یوٹیوب چینل پر موجود ہیں ۔۔۔ انہوں نے وہاں نہ صرف مسلمانوں سے بلکہ کشمیری سکھوں اور عیسائیوں سے بھی تفصیلی انٹرویو کئے ہیں ۔۔۔

عارفہ خانم نے عراق اور افغانستان سے’ حالتِ جنگ میں بھی رپورٹنگ کی ہے۔۔۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے حالات’ میں نے ان دونوں ملکوں میں جنگ کی تباہی کے دوران بھی نہیں دیکھے ہیں ۔۔۔

اس ایک مہینہ میں جس اولاد نے اپنی ماں کو کھودیا ہو اس کی تو پوری دنیا ہی اجڑگئی۔۔۔۔ عارفہ نے بتایا ہے کہ کئی معاملات ایسے بھی روشنی میں آئے کہ ماں کے انتقال کی خبر اولاد کو تین اور سات دن بعد ملی ہے۔۔ عارفہ کہتی ہیں کہ ایک بات انہیں کشمیر کے ہر مقام پر بار بار سننے کو ملی۔۔۔ اور وہ یہ کہ ہر کشمیری یہی کہتا تھا کہ ہمیں بہت ذلیل کیا گیا ہے ۔۔۔۔

بہت سے بیمار ہسپتال تک نہیں پہنچ پارہے ہیں ۔۔۔ اگر کسی طرح تیماردار اپنے بیمار کو ہسپتال پہنچا دیتے ہیں تو پھر اس کی کوئی ضمانت نہیں کہ انہیں اپنے بیمار کی صحت یا موت کی خبر کب ملے گی۔۔۔

عارفہ کے مطابق حکومت اپنی اس کوشش میں ناکام رہی ہے کہ کوئی ایک کشمیری بھی مظاہرہ نہ کرسکے۔۔۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کشمیر میں مسلسل مظاہرے ہوئے ہیں اور بڑی تعداد میں بچے اور بڑے پیلٹ گنوں سے بری طرح زخمی ہوئے ہیں ۔۔۔ بہت سے اپنی آنکھوں کی بینائی سے محروم ہوگئے ہیں ۔۔۔

میں سوچ رہا ہوں کہ وہاں تو پیلٹ گنوں سے بچے بینائی سے محروم ہورہے ہیں’ مگر ملک کے اِس حصے میں تو بغیر پیلٹ گن کے ہی "بڑوں” کی بینائی چلی گئی ہے۔۔۔ قرآن کا یہ فرمان یاد آتا ہے کہ اندھے وہ نہیں ہیں جن کی آنکھوں میں بینائی نہیں ہے’ بلکہ حقیقی اندھے وہ ہیں جن کے سینوں میں موجود دل اندھے ہوگئے ہیں ۔۔۔۔ بارِ الٰہا تجھ سے دل کی بینائی کی بھیک مانگتے ہیں ۔۔۔۔ کہ تیرے سوا اب کوئی راستہ نہیں بچا ہے