43 Views

قرآنی مفہوم کی غلط تشریح اور من مانی تاویل ہی مسلمانوں میں جنون کی کیفیت پیدا کررہی ہے۔ اپنے سیاسی مفاد کو حاصل کرنے کے لئے کچھ لوگ قرآن و حدیث کی غلط ترجمانی اور بے جا توضیح سے بھی باز نہیں آتے۔ جس طرح سے جہاد کو لے کر ایک بڑا تنازع پوری دنیا میں قائم ہے اور مسلمانوں کو اس کی وجہ سے نہ جانے کتنی غیر ضروری آزمائشوں سے گزرنا پڑ رہا ہے اسی طرح سے الوراء اور الولاء کا بھی مسئلہ ہے۔

یہ سچ ہے کہ قرآن کی ایک سے زائد آیتوں میں غیر مسلم سے جہاد کرنے کا ذکر موجود ہے جس کا انکار کسی بھی مسلم کے لئے ممکن نہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ کوئی بھی مسلم جب چاہے جس غیر مسلم کو چاہے جان سے مار دے۔ قرآنی فرامین و احکامات کو ان کے سیاق و سباق میں سمجھنا اشد ضروری ہے ورنہ کوئی بھی جنونی مولوی نما شخص کسی بھی اردو نام والے فرد کو سیاسی مفادکے لئے جہاد کے نام پر قربان کر دے گا۔ اس کی تو جان جائے گی ہی ساتھ ہی دین کی بدنامی ہوگی سو الگ سے۔
دنیا میں جتنے بھی قانون بنتے ہیں ان کے عمل درآمد میں سیاق و سباق کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ مثلا کسی کو گولی مارنا جرم ہے۔اس پر قتل کی سزا نافذ ہوگی۔ لیکن سزا کا قانون نافذ کرنے سے پہلے یہ دیکھا جائے گا کہ قتل کی وجہ کیا ہے۔اگر اس نے اپنے دفاع میں کسی کو قتل کیا ہے تو اس پر قتل کی سزا کا اطلاق نہیں ہوگا۔اس لئے قرآن کے معلم اور مبلغوں پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ قرآنی احکام کی تعلیم و تبلیغ سے پہلے خود پر بھی یہ بات واضح کر لیں کہ جن احکامات کی ترغیب و تربیت وہ دے رہے ہیں

ان پر انہیں خود کتنا اعتماد ہے۔ خاص طور پر ان معاملات میں زیادہ غور و فکر درکار ہے جن کا تعلیق باہمی معاشرے سے ہو۔ حقوق العباد کے مسائل زیادہ سنجیدہ اور نازک ہیں۔ مذہبی تشدد پر لگام لگانے کے لئے شریعت کے مآخذ کا سیاق و سباق سے پڑھنا نہایت ہی ضروری ہے۔جہاد اور الولاء و البراء جیسے اہم ترین مسئلوں پر مباحثے، سیمینار اور ورک شاپس ہونے چاہئے جس سے ان سے متعلق سمجھ پختہ ہو سکے اور مذہب کے نام پر تشدد اور انتہا پسندی پر قدغن لگائی جا سکے۔