ہاں، یہ فارمولا M-4 ہے، اسے ہلکیمیں لینے کی بھول مت کیجئے گا۔ویسے ہندوستان میں اس وقت ایک سیبڑھ کر ایک عالم علم پھیلارہے ہیں، کوئی آئنس ٹائن کو غلط ثابت کررہا ہے، کوئی نیوٹن کے گرے ویٹیقانون پر بیان دے رہا ہے۔ آخر ایسے میں اگر میں بھی آپ کو کوئی فارمولا دوں تو اسے غور سے سنیں اور اس پر یقین کریں۔
ابھی کچھ ہی دن گزرے ہیں جب جمعیتہ علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سنگھ سربراہ موہن بھاگوت سے تقریبا ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات کی ہے، حالانکہ اس پر بہت زیادہ وبال تو نہیں ہوا کیونکہ عوام کافیحد تک معاملات کو سمجھ رہے ہیں۔ اس کے بعد مولانا محمود مدنی کا ذکر آتا ہے،جن کی اپنے چچا سے مستقل طور پربیزاری کی خبریں رہتی ہیں اور سب جانتے ہیں کہ جمعیتہ دو دھڑوں میں تقسیم ہے، ایک ارشد مدنی کیمپ اور دوسرا محمود مدنی کا یہاں تک کہ دہلی میں ایک مسجد پر قبضہ کو لے کر ناراضگی حد سے تجاوز کر گئی۔
خیر آپ کو یا مجھے ان کی جنگ سے کیا لینا دینا ہے کیوں کہ ہمیں توفارمولا سمجھنا اور سمجھانا ہے۔تو ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کے بعد مولانا محمود مدنی نے اس ملاقات کی حمایت کی اور اس کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ نے اپنا دل بڑا کرنے میں طویل وقت لے لیا لیکن چلئے اب جب انہوں نے دل بڑا کیا ہے توہم بھی ان کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ مولانا نے کہا کہیہ ملاقاتمسلسل ہوتی رہنی چاہئے اور اس طرح کی ملاقات سے حالات سازگار ہوں گے۔ کس کے حالات سازگار ہوں گے،یہ انہوں نے نہیں بتایا۔ویسے آپ اگر سمجھ سکتے ہیں تو سمجھئے،ورنہ ملک کے ماحول میں بہتری آئے گی اور فاصلے کم ہوں گے آپ اس طرح بھی سوچ سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں، یہ معاملہ آپ کی اپنی سمجھ بوجھ پر ہے۔
ویسے حالات تو سازگار ہو رہے ہیں اور ہوا میں خبر اڑ رہی ہے کہ مولانا آسام سے راجیہ سبھا میں جاسکتے ہیں۔اس خبر میں کتنی سچائی ہے یہ تو نہیں کہا جاسکتالیکن ابھی تک نہ بی جے پی قیادت نے اس کی تردید کی ہے اور نہ خود مولانا نے اور اپنے خاص انداز میں ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ مذاق میں اڑایا ہے۔ویسے یہاں ایک بات اور دیکھنے والی ہے کہ جب موہن بھاگوت نے ارشد مدنی سے ملاقات کی اس کے دوسرے ہی دن آسام کی این آر سی رپورٹ آگئی کہ کتنے لوگ ملک کی شہریت کا ثبوت نہیں دے سکے اوراس لڑائی کو لڑ رہے مولانا ارشد مدنی صاحب نے آر ایس ایس سربراہ کے ساتھ چائے کی چسکیاں لیں۔
آپ کو ذہن پر بہت دباؤ نہیں ڈالنا چاہئے، یہ پہلی بار نہیں۔بس اب فرق اتنا آیا ہے کہ لوگوں نے چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھنا شروع کردیا ہے،ورنہ پہلے بھی نسبندی جیسے معاملات ہوتے رہے ہیں جس پر رویہ ایسے ہی نرم ہوا ہے لیکن وشواس کے پردے زیادہ موٹے ہونے کی وجہ ہم واضح طور پر نہیں دیکھ پاتے تھے،خیر یہ بات واضح ہے کہ جمعیت آزادی کے بعد سے مسلسل کانگریس کے ساتھ کھڑی رہی ہے لیکن 2014 میں جب صورتحال بدلی توکانگریس کے ساتھ جمعیت بھی اقتدار سے بے دخل سی ہو گئی لیکن ایک وشواس رہا کہ اگلے انتخابات میں واپسی ہوگی اس لئے بہت کھل کر مرکزی حکومت کے قریب جانے کے لئے ہاتھ پیر نہیں مارے لیکن حکومت سے دوری نے جمعیت کے لئے اندر سے خطرے کھڑے کر دیئے اور اب تک حکومتی نظام سے مسلم معاشرے سے متعلق دیگر تنظیمیں جمعیت کی جگہ آنے لگیں جس میں صوفی اور شیعہ مسلم تھے جس سے کھلبلی مچی اور جمعیتہ نے اپنا رخ تبدیل کرنا شروع کر دیا۔
جمعیتہ نے دہلی میں ورلڈ صوفی فورم کے ہوتے ہی وزیر اعظم سے ملاقات کی اور اس کے بعد سے مستقل کسی نہ کسی طرح یہ کوشش ہوتی رہی۔ 2019 کے انتخابات سے قبل وہ کہیں نہ کہیں کانگریس کے لئے نرم نظر آئی لیکن 2019 کے انتخابات میں کانگریس کی شکست کے بعد بالکل لہجہ بدل دیاور مولانا ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات اسی کڑی کا حصہ سمجھی جارہی ہے۔
دوسری طرف جب بی جے پی نے 2019 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر اعظم نے ”سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس“ کا منتر دیا تومحمود مدنی نے وزیر اعظم کو مبارکباد دیتے ہوئے ایک خط لکھا اور ان کے بیان کا خیرمقدم کیا، اگرچہ یہ صحیح تھا اور ہونا چاہئے، اس وقت کسی نے بھی اسے ایشو نہیں بنایا کیونکہ یہ ایک فطری رد عمل ہے لیکن آہستہ آہستہ جمعیتہ کے بل کمزور پڑتے گئیجس کی ایک مثال دہلی میں جمعیتہ کے زیر اہتمام پروگرام میں صوفی برادری کی موجودگی کے روپ میں نظر آیاجس نے بتایا کہ جمعیتہ اب کیا سوچ رہی ہے۔
حالانکہ لوگوں نے اس تبدیلی کی حمایت کی کیونکہ ملک کی مسلم کمیونٹی میں اس وقت یکجہتی کے لئے چرچا جاری ہے اور تقریبا 80 فیصد لوگ اس کے حق میں ہیں کہ معاشرہ فرقہ پرستیکو ایک جرم کے طور پر دیکھ رہا ہے اور آخرمیں اس بات پرسب متفق ہیں کہسب اپنے اپنے عقائد پر قائم رہیں لیکن جب معاشرے کا کوئی سوال آتا ہے تو سب کو ایک جگہ متحد ہونا چاہئے۔
لہٰذا جمعیتہ کے بلاوے پر پروگرام میں صوفی برادری کی شرکت کو سراہا اور اسے خوش آئند قرار دیا، جمعیتہ کے لئے یہ پروگرام ایک موقع ثابت ہوا کیونکہ صوفی معاشرے کی بین الاقوامی سطح پر جوپرامنشبیہہ ہے اور بنیاد پرستی کے سامنے ہندوستان میں یہ ایک فکر ہے جو ہندوستانی ثقافت سے جڑتی ہے لہٰذا اس پروگرام کی وجہ سے اپنی شبیہہ کو سدھار کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی حالانکہ یہ بھی پہلا موقع نہیں اس سے پہلے مولانا توقیر رضا جو کہ بریلوی طبقے سے آتے ہیں،ان سے مل کر ایسا کرنے کی کوشش کر چکے ہیں لیکن یہ کوشش ناکام رہی۔ وجہ توقیر رضا کی اپنی شبیہہ۔ اور بریلویطبقے میں موجود بنیاد پرستی نے بھی اسے کامیاب نہیں ہونے دیا۔
لیکن اب جب صوفیبرادری کی شراکت پر فخر کر رہے مولانا محمود مدنی کواس میں بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے کیونکہ صوفی برادری نے واضح طور پر کہا تھا کہ ہم صرف حضرت خواجہ معین الدین چشتی کے نظریہ پر ہی متحد ہوسکتے ہیں تو پہلے جمعیتہ کے جنرل سکریٹری نیخود کو چشتی کہا پھر اجمیر درگاہ کے بہت دورے کئے۔ یہاں تک کہ اجمیر میں ہی ایک بڑی کانفرنس کر ڈالی۔
اس کانفرنس کے بعد بھی صورتحال جمعیتہ کے حق میں نہیں دکھائی دی جبکہ حکومت کی نظر میں یہ تبدیلی آ گئی اور آہستہ آہستہ مولانا محمود مدنی بھی این ڈی اے حکومت کے قریب ہوگئے، یہ حکمت عملی کارگر ثابت ہوئی اور اب ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات بعد میں جگ ظاہر بھی ہوگئی۔
حالانکہ یہ بات بھی کہی جاتی رہی ہے کہ جمعیتہ آزادی کے بعد سے آج تک آر ایس ایس کے خلاف نہیں رہی،اس کا ایسا کوئی تلخ بیان اس کے خلاف نہیں آیا اور نہ ہی کبھی آر ایس ایس کا ہی ٹیڑھا رخ جمعیتہ کے خلاف دکھا، اس بات کو الزام کے طور پر نہیں بلکہ تاریخ کی کسوٹی پر پرکھا جانا چاہئے کیونکہ جمعیتہ نے کانگریس سے اپنی قربت کے چلتے بی جے پی کی مخالفت کی لیکن ایک تنظیم کے طور پر کبھی آر ایس ایس کو آڑے ہاتھ نہیں لیا جو بہت کچھ سمجھنے کے لئے کافی ہے۔
میں جانتا ہوں اس بات کی کاٹ کے طور پر بہت سارے فکری دلائل دیئے جاسکتے ہیں جنہیں فوری طور پر قبول بھی کرلیا جائے گا لیکن جیسے ہی گزرے برسوں کے بڑے واقعات پر غور کیا جائے گا یہ دلائل خود ہی بونے ہوتے چلیجائیں گے۔یہ میرا دعویٰ نہیں، آپ خود اسے آزمائیں،کچھ کام آپ بھی کیجئے۔
بہر حال، اب آتے ہیں فارمولہ M-4 پر،آخر یہ کیا ہے؟ سبھی جانتے ہیں کہ 2019 میں 3 ریاستوں کے انتخابات ہونے جا رہے ہیں، جن میں سب سے اہم مہاراشٹرا ہے۔مہاراشٹر میں جس طرح کی ہوا چل رہی ہے اسے صرف اس ریاضی فارمولے کے ذریعے ہی اپنیحق میں کیا جاسکتا ہے۔
اس فارمولے سے سامنے جو نتائج آئیں گے اس سے بی جے پی کو سیدھا فائدہ ہوگا اور اس فارمولے پر کام کرتے ہوئے آر ایس ایس مکمل طور پر متحرک ہوچکاہے جس کا پہلا مرحلہ دارالعلوم دیوبند میں مولانا ارشد مدنی سے ملاقات کے بعد مکمل ہوا، اس ملاقات کے بعد مولانا محمود مدنی نے دو کام کیے، ایک طرف ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں کشمیر کو ہندوستان کا اٹوٹ انگ سمجھا گیاجو کہ ہر ہندوستانی دہائیوں سے مانتا ہے جبکہ پورے ملک کے لئے این آر سی کی حمایتکی، یہ معاملہبس یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ مولانا نے ایک انٹرویو میں ایک بے موسم برسات جیسا راگ آلاپ دیا۔
جمعیتہ کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے مغلبادشاہ اورنگ زیب اور چھترپتی شیواجی مہاراج کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرمجھے اورنگ زیب اور شیواجی میں نمبر دینا ہوں تو میں اورنگ زیب کو 7 اور شیواجی کو 10 نمبر دیتا ہوں کیونکہ شیوا جی نے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا تھا، اس لئے وہ ایسا کریں گے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس بات کا کیا مطلب ہے،تو یہی ہے فارمولا جو سمجھنا ضروری ہے، ایسے تو مولانا کی اس بات کا کوئی مطلب نہیں نکلتا لیکن جب اسے مہاراشٹر اسمبلی انتخابات کے ساتھ دیکھا جاتا ہے تواس کا ایک بڑا مطلب نکلتا ہے اور دماغ کی بتّی جلا دیتا ہے۔
جی ہاں، مہاراشٹر میں جہاں ایک طرف دلت تحریک انگڑائی لے رہی ہے، وہیں مراٹھی افتخاراپنے آپ میں ایک بہت بڑا مسئلہ رہا ہے، مراٹھیوں میں شیواجی کے لئے جو جذبات ہیں اس کا سیاسی استعمال کیسے کیا جائے یہ سمجھنے کا موضوع ہے۔ مولانا نے بیان دے دیاجس کا نتیجہ سوشل میڈیا پر نظر آرہا ہے، کچھ دنوں میں بی جے پی آئی ٹی سیل اس سلسلے میں اپنی سرگرمی ظاہر کرے گا جس سے اورنگ زیب کی طرف مسلمانوں کا جھکاو ظاہر ہوگا اور شیواجی کے سلسلے میں طرح طرح کی باتیں کہی جائیں گیجس سے ایک ماحول بنے گا، ایک طرف اورنگ زیب کی معاون جماعت اوردوسری طرف شیواجی کا احترام کرنے والے جذباتی لوگ۔
آپ شاید اب کچھ سمجھ رہے ہوں کہ کس طرح مہاراشٹرا میں مولانا محمود مدنی کا یہ بے وقت آلاپ گایا راگ مہاراشٹر میں اقتدار دلا سکتا ہے، اگر ایسا ہوتا ہے تو جمعیتہ کامیاب ہوگی۔ مہاراشٹر انتخابات میں شیواجی بمقابلہ اورنگ زیب ایک مسئلہ بن سکتا ہے۔ایک طرف مسلم جو بی جے پی کے ووٹر نہیں، دوسری طرف وہ لوگ جوکہیں نہ کہیں بی جے پی سے ناراض ہیں لیکن اس جذباتی مسئلے کی وجہ سے بی جے پی شیوسینا اتحاد کے لئیایک ساتھ ہوں گے۔
ویسے بھی مسلمانوں میں جس طرح کے جذبات دیکھے جاتے ہیں اس سے بھی کام آسان ہوجاتا ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں پولرائزیشن کے لئے اس سے بہتر ایشو نہیں جو ایک طرف بے روزگاری اور کسانوں کی خودکشی کے بحران جیسے موضوعات سے سیدھے توجہ ہٹا کراسمیتا کی اور لے جا ئے گا۔یعنی فارمولا کامیاب، یہ فارمولا کچھ اور نہیں مودی، موہن، مدنی اور مہاراشٹر ہے،یعنی یہ چوکڑی اب انتخابی منافرت کا مرکز ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہکشتی چلتی ہے کہ نہیں،اب فیصلہ آپ کی سمجھ پر ہے ، آگاہ ہوں یا مجھے گالیاں دیں، آپ کو دونوں میں سے انتخاب کرنا ہوگا کیوں کہ ہر ایک جیت رہے ہوں گے، ہاریں گے تو صرف ہم اور آپ۔