ایک بار میں ڈاکٹر دمودر ٹهاکرصاحب انگلش ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ کے یہاں ناشتے پر مدعو تها. ناشتے کے بعد چائے سرو کرتے ہوئے میڈم نے پوچها چینی کتنی تو میرے کچھ کہنے سے پہلے ڈاکٹر صاحب نے مزاحا کہا ” श्रद्धा अनुसार یعنی عقیدت کے مطابق. یعنی جتنی ان کو مجھ سے عقیدت ہے اسی کے مطابق شکر ڈالی جائے.
جناب محمود مدنی صاحب جب کبهی ایسی کوئی بات کرتے ہیں جو مسلمانان ہند کی اکثریت کی سوچ کے برعکس ہوتی ہے تو بهکت گن تو اس کا بھرپور دفاع کرتے ہیں مگر اور بهی کئی طبقے ایسے ہیں جو محاورة "حب علی میں نہ سہی بغض معاویہ میں” اس کی تاویل کرکے ان کو حق بجانب قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں.
مثال کے طور پر اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی صاحب کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے قائد بننے کی کوشش نہ کریں. وہ اپنے آپ کو اور اپنی پارٹی کو حیدرآباد یا زیادہ سے زیادہ تلنگانہ اور آندهرا تک محدود رکھیں…. … سوال یہ ہے کہ اتحادالمسلمین ایک رجسٹرڈ پولیٹیکل پارٹی ہے الیکشن کمیشن سے اسے ملک بهر میں سیاسی سرگرمیوں اور انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت حاصل ہے تو مدنی صاحب کے پاس خواہ مخواہ مسلمانان ہند کے قائد بننے یا نہ بننے کی بات کرنے کا کیا جواز تها؟ قیادت کے سلسلے میں سوال تو ان پر بهی اٹهے گا کہ کیا وہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے behalf پر بات کرنے کے مجاز ہیں؟ اویسی صاحب کو روکنے کے مجاز ہیں؟
لیکن عقیدت مندوں نے عقیدت کے مطابق چائے میں شکر ڈالنے اور زبانی لغزش کہ کر پیوند کاری کی بجائے غیر منطقی اور غیر موضوعی دفاع کیا. اسی طرح ان دنوں وہ عالمگیر رح اور شیوا جی کا موازنہ کشمیر کے ناگفتہ بہ حالات اور این آر سی کے موضوع پر بیان دے کر چرچے کا وشئے بنے ہوئے ہیں. بهکت دفاع کر رہے ہیں اور عقیدت مند تاویل مگر دفاع اور تاویل کے درمیان مدنی صاحب کی طرف سے رجوع بے چارے بهکتوں اور عقیدت مندوں کو مشکل میں ڈال دیا ہے.