مسلم قوم ، بحیثیت مجموعی، پوری دنیا میں ایک جذباتی قوم کی حیثیت سے جانی جاتی ہے. دینی جذبات اسلامی حمیت اور غیرت بلا شک و شبہ اوصاف حمیدہ ہیں اور متعدد احادیث نبویہ علیہ السلام اس کی تاکید کرتی ہیں. مسلم ایک جسم کی طرح ہیں اگر ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو پورے جسم کو بخار اپنے لپیٹ میں لے لیتا ہے.
خلافت راشدہ کے بعد کے ادوار میں اسلامی اخوت کی یہ سوچ مدهم پڑتی چلی گئی یہاں تک کہ مسلمانانِ عالم اس بحث میں پڑ گئے کہ قومیت کی تشکیل اور تحدید مذهب سے ہوتی ہے یا وطن سے. اگر مذہب سے ہوتی ہے تو چہار دانگ عالم میں بسنے والے مسلمان ایک قوم ہے – مسلم قوم . اس قوم کو سرحدیں جدا نہیں کرتیں …. اللہ کی زمین وسیع ہے جس کا جہاں جی چاہے بود و باش اختیار کرے. ان کو دینی اخوت جوڑتی ہے یہ ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں ایک دوسرے کی خوشحالی اور تعمیر و ترقی ان کے لیے باعث فخر ہوتی ہے.
دوسرا نظریہ یہ ہے کہ قوم ملک سے ہے نا کہ مذہب سے. ایک ملک میں پیدا ہونے والے اور نسل بعد نسل رہنے والے، یا مستقل اقامت اختیار کرکے یا کسی اور بنا پر شہریت حاصل کرنےوالے شہریوں سے قوم کی تشکیل ہوتی ہے ان شہریوں میں ضروری نہیں کہ ایک ہی مذہب کے ماننے والے ہوں. مختلف مذاہب کے ماننے والے شہری اس ملک کی قوم کہلاتی ہے. جیسے ہندوستانی قوم برطانوی اور امریکی قوم وغیرہ. پوری دنیا میں یہی نظریہ غالب ہے کہ قوم مذہب سے نہیں ملک سے ہے.
مذکورہ بالا مختصر وضاحت کے بعد میں اپنے بعض جوشیلے نوجوان دوستوں سے عالمی اسلامی اخوت کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں کہ آج کے دور میں ان کی دینی حمیت اور زمینی حقیقت میں کتنی مناسبت ہے ؟. اب جب دنیا کے ہر خطے میں ہر ملک اور اس کے حکمراں اپنے ملکی مفادات کی حفاظت کے لئے نت نئے قوانین بنا کر محفوظ ہے تو ارض الله واسعة اور جسد واحد کا حوالہ دے کر کیا ہم اور آپ کسی ملک میں ، شہریت تو دور کی بات ہے، بحیثیت پناہ گزیں رفیوجی پناہ لے سکتے ہیں؟ ظاہر ہے نہیں. تو پهر باتیں بهی اتنی ہی کرنی چاہئے جتنی ہماری اوقات ہے. 30 دن 60 دن یا 90 دنوں کا ویزہ ہے اگر اس سے زیادہ اس ملک میں رک گئے اور پکڑے گئے تو آپ کا ٹھکانہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوگا.
آپ کا ملک اور یہاں کا قانون دنیا کے دوسرے مہذب ملکوں کی طرح اس کی اجازت نہیں دیتا کہ دوسرے ملکوں کے تنازع میں ببفس نفیس شریک ہوں یعنی ان کی لڑائی میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتا اس لئے بہتر ہے کہ اپنے غم و غصہ کا اظہار مظلوموں کے ساتھ اظہار ہمدردی اور ان کے لیے بارگاہ رب العزت میں دعائیں ظالموں کے ظلم و بربریت کی مذمت ان کے خلاف مظاہرے کریں. اپنے ساتھ ہونے والے مظالم زیادتی بهید بهاو کے خلاف دستور میں میسر حقوق کی ضمانت کا سہارا لے کر قانونی لڑائی لڑی جائے. لیکن افسوس اس وقت ہوتا ہے جب بعض احباب اپنی تحریر اور اس کی منفی تاثیر اور خمیازے کا اندازہ لگائے بغیر لکھ مارتے ہیں کہ اب دو ہی راستے بچے ہیں جہاد یا ہجرت.! .. جہاد کس کے خلاف اور کن وسائل سے اور ہجرت کس ملک کی طرف؟ پاکستان نے اپنے ہی اردو اسپیکنگ شہریوں کو بنگلہ دیش میں ریفیوجی کیمپوں میں چهوڑ دیا ان کو بنگلہ دیش قبول کر رہا ہے نہ پاکستان. 48 برسوں سے وہ کسمپرسی اور امید و بیم کی زندگی گزارتے ہوئے اور اپنی نئی نسلوں کو دلاسہ دیتے ہوئے کہ ” ایک دن ہم اپنے ملک پاکستان جائیں گے” اس دارفانی سے کوچ کر رہے ہیں.
اسرائیل نے دنیا بھر میں بسنے والے یہودیوں کے لئے اپنے ملک کا دروازہ کهول دیا لیکن (چند ایک ملک جیسے ترکی اور سعودیہ کو چهوڑ کر) کیا کسی مسلم ملک نے روہنگیا کے مسلمانوں یا شامی یا فلسطینی مسلمانوں کے لئے دروازے کھولے ؟