مکرمی! کتاب وسنت میں شادی یعنی نکاح کرنے کی کی رغبت و فضیلت موجود ہے اور طاقت ہونے کے باوجود شادی نہ کرنے والوں کے متعلق بڑی وعیدیں بھی ہیں اور شادی کرنے کے بہت سے فوائد بھی بتاۓ گئے ہیں۔ شادی سے بنی نوع انسان میں اضافہ ہوتا ہے اور دنیا کا نظام قائم ودائم رہتا ہے۔ مسنون شادی کے بعد خاوند کو بیوی انمول ہدیہ کے طور پر ملتی ہے۔ رسول اللہ علیہ و سلم کا فرمان عالی شان ہے ’’دنیا کی بہترین چیز نیک عورت ہےاور ایک حدیث میں فرمایا تین چیزوں میں لیٹ نہ کرو: (۱) نمازکو جب اسکا وقت ہوجائے۔ (۲) بچی کی شادی کو جب کہ اس کو حیض آنے لگے۔( ۳) جنازے کو جب حاضر ہوجائے۔
بچوں کی شادی میں تاخیرکرنا ہمارے معاشرے کا رواج بنتا جارہا ہے۔شادی میں تاخیر کے اصل ذمے دار والدین ہوتے ہیں۔ جو اچھے سے اچھے رشتے کی تلاش میں اپنے بچوں کی عمر زیادہ ہونے تک بٹھائے رکھتے ہیں۔ اور کہیں کہیں پر تو خود بچے ذمے دار ہوتے ہیں۔ کیونکہ ہماری نوجوان نسل آج سیٹل ہونے کے چکر میں اپنی جوانی کا قیمتی وقت ضائع کر رہے ہیں۔ آج کل شادی کےلئے کہا جاتا ہے کہ لڑکا کچھ کمائے، سیٹل ہو تو پھر شادی کر دیں گے۔ اگر ہماری نوجوان نسل مغرب کی طرف دیکھنے کے بجائے اپنے آپ کو قرآن و سنت کی روشنی سے بدل لیں اور وقت پر شادی کرلیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل اور اللہ کی عبادت بھی ہو جائے گی اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق انہیں جلد ہی سیٹل بھی کر دے گا۔
ایک مرتبہ ایک صحابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر جب تنگیِ رزق کی شکایت کی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نکاح کا مشورہ دیا۔ جیسا اللہ تعالی کا ارشاد ہے:“تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام اور لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔(سورة النور۔32) شادی ایک پاکیزہ اور مقدس بندھن ہے کہا جاتا ہے کہ ہر کام اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے شادی بھی اگر مناسب وقت پر کی جائے تو وجود میں آنے والا خاندان اپنے فرائض بہتر انداز میں سر انجام دے سکتا ہے نیز وقت پر شادی کرنے سے بہت سے ایسے مسائل سے بچا جا سکتا ہے کہ جو تاخیر سے شادی کی صورت میں پیش آتے ہیں ہمارے یہاں موجودہ معاشرے میں تاخیر سے شادی کا رجحان فروغ پا رہا ہے
جس کی بہت سی وجوہات ہیں مثلاً اب خواتین اعلی تعلیم حاصل کر کے ملازمت کرنا چاہتی ہے لہذا وہ اپنی تعلیم کے دوران شادی نہیں کرنا چاہتیں کچھ والدین بھی سمجھتے ہیں کہ بچیاں اچھی طرح ذمہ داریاں سنبھال نے کے قابل ہو جائیں تب ہی ان کی شادی کی جائے دسرے کئ مسائل کی طرح بے روزگاری بھی ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے نوجوان اچھی نوکری کے حصول کی خاطر در در بھٹکتے ہیں لیکن بعض اوقات مناسب نوکری ملتے ملتے سال گزر جاتے ہیں دوسری طرف والدین بچیوں کے لئے بر سر روزگار رشتے تلاش کرتے ہیں یہ بھی شادی میں تاخیر کی اہم وجہ ہے شادیوں میں تاخیر کی ایک اور محرک لڑکا اور لڑکی دونوں کے والدین کے معیار اور حد سے بڑھتی ہوئی امیدیں ہیں
والدین اپنی اولاد کے لیے بہتر سے بہتر جیون ساتھی تلاش کرنی کی جستجو میں کئی معقول اور قابل قبول رشتے ٹھکرا دیتے ہیں نتیجے میں بچیوں کی عمر بڑھ جاتی ہے لیکن ان کے معیار نہیں بدلتے یہاں تک کہ لڑکوں اور لڑکیوں کی عمر زیادہ ہوجاتی ہے اور رشتے ہاتھ نکل جاتے ہیں مذہب اسلام  شادی میں تاخیر کرنے سے منع کرتا ہے والدین کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو پڑھائیں لکھائیں ان کی بہترین تربیت کریں اور مناسب وقت پر اچھی جگہ ان کی شادی کردیں کیونکہ اسی میں پورےمعاشرے کی بھلائی ہے.