تحریر : مسعود جاوید

سود کی لعنت شراب کی حرمت زنا فحاشی اور غصب و غبن پر ہم مولویوں کی بات نہیں سنتے اور ہر قسم کے گناہ کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں تو ایک گناہ اور سہی …. سائنس اور ٹیکنالوجی میں امتیاز حاصل کرکے ایجادات کریں .
الزام تراشی اور blame game مسئلے کا حل نہیں ہے یہ راہ فرار ہے. یہ عذر لنگ ہے. اس طرح ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی تعمیری سوچ اور کام کی راہ میں رخنہ ڈالے گی اور بس . اسکول لیول سے ہی ٹیلنٹ سرچ شروع کیا جائے ان میں سے چمکتے ستاروں کی grooming کی جائے تب ہی قابل فخر سائنسدان اور ریسرچ اسکالر ہماری قوم میں بهی ہوں گے.
بات مغربی یا مشرقی نظام تعلیم کی نہ کرکے اگر ہم تعلیم سائنس اور ٹیکنالوجی اور علمی تحقیق ریسرچ کے میدان میں مسلم ممالک میں پسماندگی کے خلاف مہم چلائیں تو ملت اسلامیہ کے لئے مفید ہوگا اور اس کی مخالفت کسی جہت سے نہیں ہوگی اور اگر ہوئی یا ہوگی تو بهی who cares
مخالفت کی وجہ وہ شبیہ ہوتی ہے جسے دانستہ اور غیر دانستہ طور پر منقولات اور عقائد کے سلسلے میں جوڑ کر دیکها جاتا ہے کہ دیکهیئے ڈارون تهیوری تخلیق انسانی اور وجود عالم کے بارے میں یہ کہتی ہے اور مغربی محققین کی بڑی تعداد دین بیزار ملحد ہیں وغیرہ وغیرہ. لیکن الوہیات کے علاوہ بھی موضوعات ہیں جن میں مذہب اور بالخصوص اسلام سے تصادم نہیں ہے.
ذاتی زندگی میں ہم کسی ملحد کے ایجاد کردہ طبی آلات کو ترک نہیں کرتے روز مرہ کی زندگی میں ان کی ایجاد کی ہوئی اشیاء آلات اور مشینوں جن سے زبدگی آسان سے آسان تر ہوتی جارہی ہے دنیا جہاں کی آسانیاں پیدا ہوئی ہیں اس کے استعمال کرنے میں ہمیں ذرہ برابر جهجک محسوس نہیں ہوتی اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں صاف لفظوں میں ارشاد فرمایا ہے کہ پوری دنیا زمین و آسمان تمہارے لئے مسخر کردیا ہے. اب اگر اس مسخر کرنے کا علم مسلمان نہیں ملحد حاصل کرے تو اس میں اس علم سائنس اور ٹیکنالوجی کا کیا قصور اور اس کے سیکهنے والے خواہ کسی مذہب کے ہوں یا لا مذہب ہوں کیا فرق پڑتا ہے. جہاں تک مغربی فلسفیوں کی الوہیات میں ریسرچ اور غلو کی بات ہے تو یہ مغربی تعلیم کے ساتھ مرتبط نہیں ہے عالم اسلام میں بهی اس طرح کے ریسرچ کرنے والے تھے جو معتزلہ اور خوارج کے نام سے جانے جاتے ہیں.
تیسری بات یہ ہے قوموں کے عروج و زوال تداول کرتا رہتا ہے … یہ اللہ کی سنت ہے. مسلمانوں کے سنہرے دور میں بے شمار ایجادات ہوئیں پهر مغرب کا ستارہ عروج پر پہنچا تو ان کے یہاں علمی تحقیق ریسرچ اور اس کے نتیجے میں ایجادات ہوئیں اور ہو رہی ہیں.