آسام میں بی جے پی کی قلبی خواہش کے مطابق انجام پانے والی NRC کی اتنی طولانی مشق کا جو نتیجہ آیا ہے اُس سے خود بی جے پی حیرت زدہ ہے۔۔۔ مگر چند دنوں حیرت میں رہنے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ پھر اُسی ڈگر پر واپس آگئے ہیں۔۔۔ انہوں نے بڑی وضاحت کے ساتھ دو باتیں کہی ہیں ۔۔۔

1- پورے ملک میں این آر سی نافذ کریں گے۔۔۔
2- گھس پیٹھیوں کو نکال باہر کریں گے۔۔۔

جب امت شاہ "گھس پیٹھیے” کہتے ہیں تو اس سے ان کی مراد مسلمان اور عیسائی ہوتے ہیں ۔۔۔ یہ بات خود انہوں نے ہی واضح کی ہے۔۔۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے واضح کردیا تھا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان سے (ناجائز طور پر نقلِ مکانی کرکے آنے والے) ہندؤوں کو شہریت دیدی جائے گی۔۔۔ باقی سب کو نکال باہر کیا جائے گا۔۔۔

لہذا یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ این آر سی یا اسی طرح کی کوششوں کا واحد نشانہ مسلمان ہیں ۔۔ آسام میں قومی خزانہ کا 1500 کروڑ روپیہ برباد کرنے کے بعد بھی مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور مسلمانوں سے زیادہ بڑی تعداد میں غیر مسلم این آر سی سے باہر ہوگئے ۔۔۔ چھ لاکھ کی تعداد میں جو مسلمان باہر ہوئے ہیں ان میں سے بھی امید ہے کہ 60 فیصد سے زائد واپس شامل ہوجائیں گے۔۔۔ وجہ یہ ہے کہ بیشتر کے والدین’ بہن بھائی حتی کہ بیوی اور شوہر تک این آر سی میں شامل ہیں اور کچھ تکنکی خامیوں کے سبب انفرادی طور پر صرف وہی باہر ہوئے ہیں ۔۔۔

ہمارے آئین کا آرٹیکل 5 شہریت سے بحث کرتا ہے۔۔۔ اس کے سیکشن 3 کے مطابق ( مختلف ترامیم کے ساتھ) ہندوستان کے شہری مندرجہ ذیل زمروں کے افراد ہوں گے:

1- جو لوگ 26 جنوری 1950 اور یکم جولائی 1987 کے درمیان پیدا ہوئے ہوں۔۔۔

2- جو لوگ یکم جولائی 1987 سے 2 دسمبر 2004 کے درمیان پیدا ہوئے ہوں ۔۔۔ اور ان کے والدین میں سے کوئی ایک ہندوستان کا شہری ہو۔۔۔

3- جو لوگ 2 دسمبر 2004 کے بعد پیدا ہوئے ہوں اور ماں باپ دونوں ہندوستان کے شہری ہوں ۔۔۔ یا دونوں میں سے ایک ہندوستانی ہو مگر دوسرا ناجائز طور پر نقلِ مکانی کرکے نہ آیا ہو۔۔۔

اس کے علاوہ آئین کے نفاذ کے وقت جو لوگ پچھلے پانچ سال سے ہندوستان میں آباد تھے وہ سب ہندوستانی تسلیم کر لئے گئے تھے۔۔۔۔

پچھلے دنوں صدر جمہوریہ نے مردم شماری مہم یا نیشنل پاپولیشن رجسٹر کا ذکر کیا تھا۔۔۔ یہ مہم اپریل 2020 سے شروع ہونی ہے۔۔۔ اس مہم کے دوران صرف یہ ریکارڈ کیا جائے گا کہ کون کہاں رہتا ہے۔۔۔

اب ایک بات سمجھنی بہت ضروری ہے:

آسام کی این آر سی کی بنیاد دوسری تھی۔۔۔ وہاں شہریت کا قانون بھی دوسرا تھا۔۔۔ وہاں شہریت کی حد کا تعین 24 مارچ 1971 سے کیا جارہا تھا۔۔۔ جبکہ ملک کے باقی تمام حصوں میں یہ حد 30 جون 1987 رہے گی۔۔۔ این آر سی کے لئے مندرجہ ذیل دستاویزات درکار ہوں گی ۔۔۔

1-پاسپورٹ 2- کوئی بھی سرکاری لائسنس 3- ایل آئی سی 4- بورڈ سرٹیفکیٹ 5- یونیورسٹی سرٹیفکیٹ 6- راشن کارڈ 7- آدھار کارڈ 8- اور دیگر دستاویزات

نوٹ: ووٹر کارڈ ضروری نہیں کہ کارگر ہو۔۔۔ اس لئے کہ اکثر رہائش بدلنے کے سبب یا سیاسی مکروفریب کے سبب بعض ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے خارج کردئے جاتے ہیں ۔۔۔ لہذا اگر ووٹ دینے کا ریکارڈ ہو تو وہ رکھ لیا جائے ۔۔۔ وہ کارگر ہوسکتا ہے۔۔۔

یہ ذہن نشین رہے کہ ہر دستاویز میں نام کی ترتیب اور اس کے ہجّے spelling ایک ہی ہوں ۔۔۔ اگر کوئی فرق ہے تو ابھی درست کرانے کا وقت ہے۔۔۔

بہر حال اب امت شاہ نے واضح کردیا ہے تو NRC بھی نافذ ہوگا ہی۔۔۔ یہ بی جے پی کی شرپسندانہ ضد ہے جس میں فرقہ وارانہ منافرت کا عنصر بھی شامل ہے۔۔۔ ہماری قیادت کو اس کے تعلق سے کوئی متحدہ’ متفقہ اور موثر لائحہ عمل طے کرنا تھا لیکن مسلم قیادت کے مختلف ستون ابھی باہم دست بگریباں ہیں ۔۔۔ ایک کہتا ہے کہ این آر سی پورے ملک میں نافذ ہوجانی چاہئے ۔۔۔ ایک کہتا ہے نہیں ہونی چاہئے ۔۔۔ معلوم نہیں دونوں میں سے کون مخلص ہے۔۔۔ لیکن این آر سی کے حامی مسلم قائدین سے حکومت بہت خوش ہے۔۔۔