سپریم کورٹ کالجیم نے مدراس ہائی کورٹ کے چیف جسٹس’ جسٹس وی کے تاہل رمانی کا تبادلہ میگھالیہ ہائی کورٹ میں کردیا ہے۔۔۔۔

مدراس ہائی کورٹ’ تامل ناڈو جیسی بڑی ریاست کی کلیدی ہائی کورٹ ہے۔۔۔ یہ ریاست اتنی بڑی ہے کہ ہائی کورٹ کی دوسری بینچ مدورائی میں قائم ہے۔۔۔ ہائی کورٹ کی مدورائی بنچ میں 57 جج ہیں جبکہ مدراس ہائی کورٹ میں 60 جج ہیں ۔۔۔ میگھالیہ بہت چھوٹی ریاست ہے اور اس کی ہائی کورٹ میں صرف 3 جج ہیں ۔۔۔۔

جسٹس وی کے اب تک 116 ججوں کے سربراہ تھے۔۔۔ لیکن اب وہ محض 2 ججوں کے سربراہ بنادئے گئے ہیں ۔۔۔ یہ ترقی ہے یا تنزلی۔۔۔؟ ماہرین قانون کے مطابق یہ ہتک آمیز تنزلی ہے۔۔۔۔

عام طور پر تجربہ کار ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو ترقی دے کر سپریم کورٹ میں بلالیا جاتا ہے۔۔۔ بالکل اُسی طرح جس طرح کسی ہائی کورٹ کے سینئر جج کو کسی دوسری ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بناکر بھیجا جاتا ہے۔۔۔ گزشتہ روز ہی 9 ہائی کورٹس کے سینئر ججوں کو دوسری ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کے طور پر بھیجا گیا ہے۔۔۔۔ ان میں نسبتاً کچھ چھوٹی ہائی کورٹس کے بھی جج ہیں جیسے تلنگانہ اور گواہاٹی ہائی کورٹ ۔۔۔۔ یہاں تک کہ ان چھوٹی ہائی کورٹ کے سینئر ججوں کو بھی میگھالیہ جیسی انتہائی چھوٹی ہائی کورٹ کا چیف جسٹس بناکر نہیں بھیجا گیا ہے۔۔۔

اب سوال یہ ہے کہ پھر جسٹس وی کے تاہل رمانی جیسے تجربہ کار اور جہاندیدہ چیف جسٹس کو میگھالیہ کیوں بھیجا گیا۔۔۔؟ روی نائر نے اس راز سربستہ سے پردہ اٹھایا ہے۔۔۔ معروف وکیل پرشانت بھوشن نے روی نائر کے ایک ٹویٹ کو دوبارہ ٹویٹ بھی کیا ہے اور اس کی تائید بھی کی ہے۔۔۔۔

روی نائر نے بتایا ہے کہ جب جسٹس وی کے گجرات ہائی کورٹ میں تھے تو انہوں نے 2002 کے بدنام زمانہ گجرات فسادات میں مشہور بلقیس بانو کیس کے مجرموں کی عمر قید کی سزا برقرار رکھی تھی۔۔۔ لطف کی بات یہ ہے کہ گجرات ہائی کورٹ میں بھی ججوں کی تعداد 31 ہے۔۔۔۔ کیا یہ انصاف کرنے کی سزا نہیں ہے۔۔۔؟ اس سوال سے سپریم کورٹ کے کالجیم اور خصوصی طور پر چیف جسٹس کے وقار پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔