ذیشان احمد مصباحی

انسانی نفسیات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کے اندر شہوت و طلب کی غیر معمولی قوت ودیعت کر دی گئی ہے اور جب اس کی یہ طلب پوری نہیں ہوتی تو پھر وہ غضب کا شکار ہو جاتاہے۔ اس کی پوری زندگی اسی طلب اور غضب کی اسیر بن کر گزر جاتی ہے۔
انسانی طبیعت میں شہوت کے کتنے پہلو ہیں؟ اس پر غور کرنے سے پانچ چیزیں زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتی ہیں۔ دولت وعزت اور شہرت کی طلب اورپیٹ اور شرم گاہ کی طلب۔ انسان کی جانبِ حیوانی میں ان پانچوں خواہشات کی طلب غیر متناہی مقدار میں موجود ہے۔ اگر وہ ان شہوات و مطالبات کا اسیر ہوجائے تو پھر اس میں اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ وہ دنیا کا دولت مند ترین انسان بھی بن جائے تو بھی وہ دولت سے سیر نہیں ہو پاتا۔ عزت و شہرت کی اس بلندی پر پہنچ جانا چاہتاہے جہاں پوری انسانیت ہر جہت سے اس پر رشک کرنے لگے۔ انسانوں کی یہ بھوک زیادہ نمایاں دکھتی ہے۔
اس کے بعد پیٹ اور شرم گاہ کی بھوک ہے جو نسبتاً چھپی ہوئی، مگر بہت زیادہ خطرناک ہے۔ ان میں بھی شرم گاہ کی طلب ایسی ہے جو ایک اچھے بھلے انسان کو جانور بلکہ درندہ بنادیتی ہے۔ شرم و حیا نہ ہو اور دینی و دنیوی بندشیں نہ ہوں تو انسان دن رات اسی میں ڈوبا رہے اور پوری زندگی کا ہر لمحہ حسن کے ایک نئے باغ کی سیر کرتاگزاردے۔ بعض ماہرین نفسیات نے تو سیکس کو ہی انسان کی تمام خواہشات کی بنیادقرار دیا ہے۔
ان پانچ خواہشات کے ساتھ انسان کے اندر پانچ مدرکات بھی ودیعت کی گئی ہیں،جن سے وہ ان لذتوں کا احساس و ادراک کرتاہے:
۱- آنکھ جس سے وہ اچھے مناظر سے لطف اندوز ہوتاہے۔
۲- ناک جس سے وہ اچھی خوشبوؤں سے لطف اندوز ہوتاہے۔
۳- لمس، جس سے وہ نرم و گداز چیزوں کے مساس سے لطف اندوز ہوتاہے۔
۴- زبان، جس سے وہ اچھے ذائقوں سے لطف اندوز ہوتاہے۔
۵- کان، جس سے وہ اچھی آوازوں سے لطف اندوز ہوتاہے۔
انسانی شہوت ان مدرکات خمسہ میں بہتر سے بہتر کی طلب میں سر گرداں ہوتی ہے۔ پھر انسان کی جو سب سے بڑی شہوت ہے یعنی جنسی شہوت، وہ اس کی تکمیل بھی ان پانچوں ذرائع سے کرنا چاہتاہے۔ وہ جس وقت اپنی جنسی پیاس بجھا رہا ہوتاہے، اس وقت ان پانچوں ذرائع کو آخری حد تک استعمال کردینا چاہتاہے۔
۱- وہ چاہتاہے کہ وہ اپنی جنسی تسکین وہاں کرے جہاںکامنظر حسین سے حسین تر ہو۔
۲- وہ چاہتاہے کہ وہ اپنی جنسی تسکین وہاں کرے جہاں کی فضا خوشبوؤں میں نہائی ہوئی ہو۔
۳-وہ چاہتاہے کہ وہ اپنی جنسی تسکین وہاں کرے جہاں سیج قیمتی، نرم و نازک اور دلکش ہو۔
۴-وہ چاہتاہے کہ وہ اپنی جنسی تسکین وہاں کرےجہاں لذت کا م و دہن کا اعلیٰ انتظام ہو۔
۵-وہ چاہتاہے کہ وہ اپنی جنسی تسکین وہاں کرے جہاںنغمگی و موسیقی کا نوں میں رس گھولتی ہو۔
جنسیات کا بھوکا ان پانچوں جمالیات کو عورت کے اندر بھی دیکھنا چاہتا ہے اور اس جگہ اور مجلس میں بھی دیکھنا چاہتاہے۔مذکورہ پانچوں ارکان جمالیات میں آخری دو سب سے اہم ہیں؛ لذت کام و دہن اور نغمگی و موسیقی۔ وہ اپنی لذت شباب کو شراب وکباب سے دوبالا کرتاہے اور پھر اس کے ساتھ موسیقی و نغمگی کو ملا کر شراب و کباب اور شباب کی لذت کوسہ آتشہ کرنا چاہتاہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شریعت نے مدرکات خمسہ میں سے کسی کو بھی Totally Ban نہیں کیا ہے۔ وہ انسان کو ان لذات خمسہ سے محروم کرنا نہیں چاہتا، بلکہ اس نے ان لذات کو طیبات و خبائث میں بانٹ کر ان میں تحدید کردی ہے۔ لذات خمسہ کو طیبات و خبائث میں بانٹ کر اسلام نے انسانیت پر بہت بڑا حسان کیا ہے۔ اسلام اگر ان پانچوں لذتوں کی غیر محدود اجازت دے دیتا تو انسان ان کی طلب میں جانور بن جاتا اور اس کے اندر جو انسانی اور اس سے بڑھ کر ملکوتی و روحانی قوتیں ہیں وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے مر جاتیں اور اگر ان لذتوں کو کلی طور پر ممنوع کر دیتا تویہ انسان کو اپنی فطرت کا کلی باغی بنانا ہوتا،جوممکن نہیں ہے۔ لذات خمسہ کو طیبات و خبائث میں تقسیم کر کے شریعت نے انسانی فطرت کے لیے ایک معتدل راہ کی تشکیل کر دی۔
اب ایک اور دلچسپ چیز دیکھیے! اسلام نے جب خبائث کی فہرست بنائی تو ان میں شراب کو ام الخبائث قرار دیتے ہوئے سر فہرست رکھا۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ حواس خمسہ کے اوپر جو عقل ہے، جو محسوسات خمسہ کا ادراک کے بعد ان کے تعلق سے کوئی رائے قائم کرتی ہے،یہ اسے ہی مختل کر دیتی ہے۔ شراب ادراک و شعور کے سب سے بڑے جو ہر، عقل کو مار دیتی ہے اور جب انسان کی عقل ہی مر جائے تو پھر وہ انسان ہوتے ہوئے بھی انسانیت سے کلی طورسے نکل جاتاہے۔اسی لیے اسلام نے شراب کو کلی طورپر ممنوع قرار دیا۔ واضح رہے کہ شراب بظاہر قوت ذائقہ کی آخری طلب ہے، جس کا باطنی اٹیک براہ راست عقل پر ہوتا ہے۔
اب فوراً سوال یہ ہوتاہے کہ پھر نغمگی و موسیقی کے تعلق سے اسلام کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ چوں کہ شراب و شباب کے بعد انسانی فطرت کے لیے جو سب سے بڑا نشہ ہو سکتاہے وہ نغمگی و موسیقی ہے۔ اس سوال کا جواب جاننے سے پہلے شباب کے تعلق سے ہی اسلام کا نقطۂ نظر دیکھ لیا جائے جو انسانی شہوات وخواہشات میں مرکزی حیثیت رکھتاہے۔ اس سلسلے میں:
۱- اسلام نے عورت کو مرد کے لیے اور مرد کو عورت کے لیے جائز و مباح رکھا۔ نسل آدم کے فروغ اورطبع آدمی کی تسکین، دونوں غرض سے جنسی آسودگی جائز ہے۔
۲- البتہ قانونی بیوی اور باندی کے سوا یہ تلذذکلی طورپر حرام ہے۔
اب رہی بات نغمگی اور موسیقی کی، تو چوں کہ اس کامقام شراب و شباب کے بعد آتا ہے۔ ایسے میں یہ متصورہی نہیں ہو سکتا کہ اسلام اسے کلی طورپرممنوع قرار دے دے۔ ہاں! اگر یہ شراب (مطلقاً) اور شباب (بصورت حرام) کے ساتھ ہو تو ضرور حرام ہے۔ یوں ہی اگر یہ شراب ا اور شباب (بصورت حرام) کی طرف داعی ہوتو بھی ضرورحرام ہے۔
اسلام کا ایک مزاج یہ بھی ہے کہ جب وہ کسی بری چیز پر پابندی لگاتاہے تو سد ذرائع کے لیے اس کے قریبی ساتھیوں اور داعیوں پر بھی پابندی لگادیتاہے۔ شراب حرام کیا تو اس کے ساتھ اس کے برتنوں حنتم اور دباکے استعمال کو بھی منع کر دیا۔({ FR 8393 }) ظاہرہے کہ مقصود شراب کی ممانعت تھی جو ام الخبائث ہے، ان کے برتنوں کی ممانعت اس لیے تھی کہ یہ برتن شراب کی یاد دلانے والے تھے اور ایک ایسی قوم نے جو ابھی ابھی شراب چھوڑی ہے، اس سے متعلق یادگاری چیزوں کو دیکھ کر کہیں پھر مائل بہ شراب نہ ہوجائے، اس لیے شراب کے برتنوں کو بھی حرام قرار دے دیا۔ علمائے محققین فرماتے ہیں کہ جب حرمت شراب اہل اسلام کے دلوں میں راسخ ہوگئی اور پھر وہ شراب کے خیال سے بھی آزاد ہو گئے تو اس کے بعد ان کے لیے ان برتنوں کا استعمال روا ہو گیا۔
ٹھیک یہی حال شراب و شباب کے ساتھ نغمگی و موسیقی کا ہے۔ جب شراب کو حرام کیا جارہا تھا تو اسی وقت نغمگی و موسیقی کی بھی سرکار رسالت پناہ نے سخت سے سخت الفاظ میں مذمت کی۔ اس سے روکا اور منع کیا۔ لیکن دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ خود آپ صلی ا للہ علیہ و سلم نے نغمہ و موسیقی سنا اور بعض مواقع پر اس کی ترغیب بھی دی۔ پیغمبر اسلام کی ان دو باتوں کو جب ہم ملاتے ہیں اور ان کے بیچ تطبیق کی راہ تلاش کرتے ہیں تو یہ عقدہ کھلتاہے کہ نغمہ و موسیقی کا معاملہ شراب کی طرح کلی ممانعت کا نہیں ہے، بلکہ شباب کی طرح جزوی ممانعت کا ہے۔ نغمگی وموسیقی،شراب و بدکاری کے ساتھ ہو یا ان کی طرف داعی ہو تو یقیناً حرام ہوگی، بصور ت دیگر اس میں جواز کی راہ ہوگی اور ان کی تفصیل کی جائے گی اور یہ تفصیل اس طرح ہوگی:
دین کے اندر بے شمار احکام ہیں۔ یہ سارے احکام چند اصولوں کے تابع ہیں اور وہ سارے اصول پانچ مقاصد کے تابع ہیں اور پھر وہ پانچوں مقاصد ایک اصل الاصول کے تابع ہیں۔ وہ اصل الاصول کیاہے؟ وہ اصل الاصول ہے لہو۔ لہو کے دو پہلو ہیں:
۱- لہو عن الخلق اور یہ مطلوب ہے۔
۲- لہو عن الحق اور یہ ممنوع ہے۔
ہر وہ چیز جو حق کی طرف لے جانے والی ہو وہ مطلوب ہے اور ہر وہ چیز،جو حق سے پھیرنے والی ہو وہ ممنوع ہے۔ اب اس اصول کے طے ہوجانے کے بعد ہمیں نغمگی و موسیقی کا حکم بہت آسانی سے معلوم ہو سکتاہے۔
۱- نغمگی و موسیقی حق سے پھیرنے والی اور حق کے حرام کردہ چیزوں کی طرف لے جانی والی ہو تو یقیناً حرام ہے۔
۲- نغمگی و موسیقی حق کی طرف پھیرنے والی اور حق کے مامور چیزوں کی طرف لے جانے والی ہو تو یقیناً مستحب ہے۔
۳- نہ محرمات کی طرف لے جانے والی ہو، نہ مطلوبات کی طرف لے جانے والی ہو، فقط تفریح نفس کا سامان ہو، تو یہ جائزو مباح ہو، جیسے اچھے مناظر کو دیکھنے، بیویوں سے تسکین حاصل کرنے، قیمتی مکانات و باغات میں رہنے اور اچھی غذائیں کھانے اور پینے کی اجازت ہے، اسی طرح اس کی بھی اجازت ہے۔ ایسے امور کو لہو یسیر کہا جاتاہے، جو جائز و مباح ہیں اور جو حضرات لہو صرف انہی امور کو کہتے ہیں جو حق سے پھیرنے والے ہوں،ان کی اصطلاح میں یہ امور سرے سے لہو ہیں ہی نہیں۔ ان حضرات کی اصطلاح میں اس بات کو یوں کہا جائے گا:
۱-نغمگی و موسیقی از راہ لہو حرام ہے۔
۲- نغمگی وموسیقی از راہ ذکر مندوب ہے۔
۳- نغمگی و موسیقی از راہ تفریح مباح ہے۔
نغمگی و موسیقی کے حوالے سے کتب احادیث میں جو دو طرح کی روایتیں پائی جاتی ہیں، ان کے بیچ تطبیق کی یہ احسن صورت ہے، جو مذکور ہوئی۔ یہی منہج محققین کا ہے اور یہی مجھے پسند ہے۔ البتہ اہل علم کا ایک طبقہ وہ بھی ہے جو نغمہ و موسیقی کو کلی طور پر حرام کہتاہے اور سیرت سے ان کے جوواقعات ثابت ہیں، انہیں مستثنیٰ قرار دیتاہے۔ گویاان علما کی تطبیق حکم عام اور استثناکے اصول پر ہے۔ ان کے نزدیک نغمہ و موسیقی کے بارے میں حکم عام حرمت کا ہے، البتہ بعض صورتیں ان سے مستثنیٰ ہیں۔ اور ہماری تطبیق مقاصد پر مبنی ہے۔ مقصد خیر ہو تو نغمہ و موسیقی خیر اور مقصد شر ہو تو نغمہ و موسیقی شر اور اگر مقصد مباح ہو تو نغمہ و موسیقی مباح۔ والاُمُورُ بِمَقَاصِدِھَا۔ دین کے تمام احکام خاص مقاصد کے تابع ہیں۔ ھٰذا مَاظَہَرَ لِی وَالعِلمُ عِندَ اللہِ وَعِلمُہُ اَتَم۔