آج کے اس پرآشوب دور میں جس طرح بڑی تیزی سے ایمان کے لٹیرے سادہ دل سنی صحیح العقیدہ مسلمانوں پر اپنا آزمودہ تخریبی حربہ استعمال کر رہے ہیں، وہ کسی بھی صاحب حساس طبیعت پر پوشیدہ نہیں. تبلیغ کے چکا چوند لبادے میں ملبوس ہو کر حور و غلماں کے جو یہ سنہرے خواب دکھاتے ہیں، شاید ہی آپ کو کہیں اور دوسری جگہ اس کی مثال مل پائے. بس اسی خواب کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ چند دن کا یہ پروردہ، بھولا سا انسان شریعت کے اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کے باب میں اپنے سماج و معاشرے کے لیے ایک زبردست عالم بن کر ابھرتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے گمرہی و بد عقیدگی کا جال اپنے ارد گرد بڑی چابک دستی سے بن دیتا ہے۔
نتیجتاً دیکھنے میں یہاں تک آیا ہے کہ پھر اس حدود میں مدت مدید تک کی آنے والی نسلیں ایمانی تباہی سے دوچار ہوتی رہتی ہیں اور شریعت و روحانیت کی حقیقی تعلیمات سے بھی وہ ہمیشہ کے لیے یتیم ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے۔
    اپنے بزرگوں سے اگر آپ کسی دن فرصت پا کر ان نومولودں کے حوالے سے پوچھ بیٹھیں تو یقیناً یہی انکشاف ہوگا کہ ” یہ تو آج سے ساٹھ/ ستر سال پہلے کہیں بھی نظر نہیں آتے تھے "۔ مگر آج ہے کہ ایک سے بڑھ کر ایک آبادی گمرہی و بدعقیدگی کے دہانے پر ہیں. ہاں! ُاس دور کے ہمارے باکمال بزرگوں نے اس کے گھناؤنے راز بھی فاش کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن و احادیث سے قرارا جواب بھی عنایت کیا۔ وقتی طور پر تو یہ حادثہ ذرا تھم سا گیا مگر ___مگر قدرے مرور ایام کے بعد ہی اس نے پھر سے اپنے بال و پر جمانے شروع کر دئیے اور پھر ہر گزرتے ایام کے ساتھ ہی قرآن و سنت کے حقیقی نغموں سے سرشار ہونے والی انگنت بستیاں اپنی سنہری شناخت کھو بیٹھیں۔
ہاں! اس دور کے ہمارے ذمہ داروں نے اگر ناکہ بندیاں بھی کی تو وہ بس جلسے و جلوس کی صورت میں۔ کوئی ایک شب اس کے لیے خاص ہوئی، بڑے بڑے پھکڑ باز مقرروں اور لمبے و گھنگریالے زلفوں والے شعرا کی بھیڑ جمع ہوئی، پھینکم پھاک، دھواں دھار تقریر اور چیخ دار آواز میں نعتیں پڑھی گئیں، بھولے بھالے عوام نے رات بھر خوب اُچھل اُچھل کر داد دیں، کتنوں کی نماز فجر خواب خرگوش کی نظر ہوئی، اور صبح کا سورج طلوع ہوتے ہی رات کے دھندلکے میں ان خطبا و شعرا نے موٹے موٹے نذرانوں سے اپنے اپنے جیب گرم کر کے اپنی اپنی راہ ناپ لیں___اس کے آگے کچھ نہیں۔ یہاں تک کہ فائدہ بھی صفر رہا۔۔۔ عوام سے بھی گر صبح سویرے افادہ و استفادہ سے متعلق دریافت کیا گیا تو یہی جواب ملا کہ "ہاں یہ بات معلوم ہوئی کہ فلاں شاعر کی آواز بہت سریلی تھی۔۔۔
وہ خوب ڈائلاگ بک رہے تھے __اپنی داستان سفر اور پروگراموں کی تفصیل بتا رہے تھے اور ہاں فلاں مقرر صاحب کی تو مت پوچھئے جناب! وہ تو کرسی خطابت پر ایسے دہاڑ رہے تھے کہ پورا اسٹیج جھوم رہا تھا __ہاں بھائی! کچھ ہو نا ہو مجھے تو اس کا دہاڑنا بہت پسند آیا۔۔۔ "
     جی ہاں! آج کے ہمارے اکثر جلسوں کی حالت بھی کچھ یہیں تک ترقی یافتہ ہے۔ کچھ ہو یا نا ہو؛ ہاں ہمارے اس طرزِ عمل سے یہ نتیجہ ضرور نکلا کہ پھر ہم جلسے و جلوس میں الجھ کر رہ گیے اور یہ گمراہ گر دیگر نیے نرالے انوکھے حربے استعمال میں لا کر دن بدن ہمارے ایمان و عقیدے پر دھاوا بولتے رہے۔ حتی کہ نذرانے میں ہمیں اپنی ایمانی پونجی سے بھی اس کا ہاتھ رنگنا پڑا۔۔۔ جی ہاں! ہمارا فکری دھارا، کج فکریوں کے بہاؤ میں ہمیشہ کے لیے بہ گیا۔۔۔ لچھے دار تقاریر نے ہمیں سوائے چالیس دن کے چلوں کے اور کہیں کا نہیں چھوڑا۔ نہ ہم نے جوابی کارروائی کے لیے کوئی دفاعی کوششیں کیں اور نہ ہی ہماری عقل و خرد کو ذرہ برابر تدبر و تفکر کی آہ لگی۔
نتیجہ یہاں تک سامنے آیا کہ ہمارے وہ بچے جو اسکول و کالج میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اسے سہی طور پر نہ تو کلمہ طیبہ یاد ہے اور نہ ہی صحتِ نماز، روزہ کی بنیادی چیزوں و دیگر اخلاقی فریضوں کے اسرار و رموز سے آگہی۔ ہاں! اس سے اگر آپ یہی پوچھ لیں کہ آپ کس نبی کا کلہ پڑھتے ہیں اور امتی کن کے ہیں؟ تو جواب ندارد ___
    مجھے یاد آتا ہے کہ ابھی ایک سال قبل جب شرح عقود کی گھنٹی میں ہمارے مربی شیخ شمس الھدی مصباحی صاحب قبلہ نے کچھ خارجی باتیں چھیڑی دیں تو یہی امتی ہونے نا ہونے سے متعلق بات چل نکلی۔ غالباً اپنے یا کسی اور کے حوالے سے فرما رہے تھے کہ : "ایک موقع پر جب کسی دیہات میں جانا ہوا تو دیکھا کہ ایک آٹھ نو سالہ بچی مسجد کے دیوار سے گوبر پاتھ رہی تھی۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ تم کس کے امتی ہو تو کہنے لگی اپنے باپ کی امتی ہوں”۔۔۔ اب بھلا آپ ہی بتائیں اور فیصلہ کریں کہ ہمارا تعلیمی گراف کہاں تک بلند ہے اور ہم اپنے نونہالوں کی کیسی علمی و عملی تربیت کر رہے ہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہمیں اس حوالے سے کل بروز قیامت جواب دہ ہونا پڑے؟ سوچیں اور خوب۔۔۔خوب سوچیں!!! واقعی یہ سر پیٹ لینے کا مقام ہے کہ ہم نے اس کے لیے اسلامی تعلیم کے لیے کوئی بند و بست نہیں کیا۔۔۔ اگر کچھ کیا بھی تو بس دین کے نام پر چندے اکٹھے کر کے کسی شب ایک بھاری بھرکم جلسہ کر لیا اور اپنے لیے اسے توشہ آخرت سمجھ کر پھر ہمیشہ کے لیے کان میں تیل ڈالے سو گیے۔