11 Views
 آج 25 صفر المظفر 1439 ہے۔ آج سے ٹھیک 99 سال پہلے اس دنیا سے اس عظیم ہستی نے کوچ کیا تھا، جس کے علم و فضل اور عبقریت نے ایک دنیا پر حکومت کی بلکہ اس کی حکم رانی کا دائرہ دن بہ دن وسعت پذیر ہے۔ وہ عظیم ہستی امام عاشقاں، نابغہ روزگار، عبقری الہند، ابو حنیفہ ثانی، امام احمد رضا خاں محدث بریلوی  برد اللہ مضجعہ کی ہے۔ امام اہل سنت صرف ایک عالم دین نہ تھے، بلکہ علم و عمل  ، عشق رسالت پناہ، تصلب دینی، حمیت اسلامی، سیاسی بصیرت، شخصیت سازی، فراست مومنانہ اور حسن تدبر سمیت درجنوں میدانوں میں وہ امام وقت تھے، جن کی دینی امامت  اور حسن قیادت کا لوہا ان لوگوں نے  بھی تسلیم کیا جو فکری اور مسلکی طور پر ان سے اتفاق نہیں رکھتے تھے۔
امام اہل سنت کی تہہ دار شخصیت کے کئی  ایک امتیازات ہیں، جو انھیں کا حصہ ہیں:
 (1)ان کی تصانیف میں تقریبا پچپن علوم و فنون کی جلوہ گری نظر آتی ہے۔ بیک وقت وہ کئی درجن دینی علوم اور ان سے متعلقات میں غیر معمولی مہارت کے ساتھ عصری علوم میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔
 (2) عشق رسول کا جو نمایاں پہلو ان کے ہاں نظر آتا ہے، ماضی قریب میں اس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ماضی قریب کے علما میں یہ ایمانی حرارت نہ تھی جس کے بغیر ایمان بھی کامل نہیں ہوتا لیکن اس کا یہ مطلب ضرور ہے کہ جس شان کے ساتھ بہت دور سے ہی امام اہل سنت کے یہاں یہ عنصر پہچان میں آتا ہے، اوروں کے یہاں یہ بات نہیں۔
 (3) دینی کتابوں سے علاقہ رکھنے والے باریک بیں اہل علم و ذوق اس بات کی تصدیق کریں گے کہ  دینی تصلب کا جو رنگ امام اہل سنت کے یہاں ملتا ہے ، ماضی قریب  بلکہ ماضی بعید میں بھی کافی دور تک وہ رنگ نظر نہیں آتا۔ اس اجمال کی مزید تفصیل علم کلام کی کتابوں کے مطالعہ سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
 (4) ایک زاہد بوریہ نشیں جس کا شبانہ روز شغل خدمت علم و دین رہا ہو، اس  کی سیاسی بصیرت اور فکری گیرائی کس قدر ہو سکتی ہے؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں لیکن امام اہل سنت کا وہبی امتیاز یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنے زمانے پر نہ صرف گہری نظر رکھی بلکہ حالات سے بہت اوپر اٹھ کر کرامتی انداز میں ایسی مدبرانہ قیادت فرمائی کہ آج سو سال بعد ان کی قیادت کی داد دیے بنا کوئی چارہ نہیں۔ یہ بات صرف  دو ایک اتفاقی مسائل میں نظر نہیں آتی بلکہ آزادی سے ٹھیک پہلے کی اتھل پتھل میں کوئی سیکڑوںمسائل ایسے تھے، جن میں انھوں نے اپنی حسن قیادت اور اصابت رائے کا لوہا منوایا۔
 (5) مذہب اسلام کی یہ خوبی رہی ہے کہ اس کے متبعین میں ایسی ہستیاں بھی گزری ہیں جنھوں نے فکر معاش اور سماجیات سے بالکلیہ مستغنی ہو کر کل وقتی طور پر اپنے آپ کو خدمت دین کے لیے وقف کر دیا ہو،ماضی قریب میں امام اہل سنت کے علاوہ اس کی مثالیں  کم ملتی ہیں۔
(6) کامیاب قیادت کا سب سے نمایاں پہلو ہوتا ہے شخصیت سازی،  کیوں کہ کام مر سکتے ہیں لیکن کامیاب شخصیات امر ہوتی ہیں۔ امام اہل سنت کی زندگی کا حیران کن پہلو یہ ہے کہ ان کی چٹائی نے پوری سادگی کے ساتھ اپنے وقت کے بڑے بڑے کج کلاہوں کو سر نیاز خم کرنے پر مجبور کر دیا۔
 امام اہل سنت کے آستانے سے ایک ایسی ٹیم تیار ہوئی جو مدتوں بعد کسی استاذ یا کسی رہ نما کا مقدر ہوتی ہے بلکہ سچ یہ ہے ایسے تلامذہ تیار کرنے والے استاذ کو کار شخصیت سازی کے علاوہ کسی کام کے لیے فرصت ملنی ہی نہیں  چاہیے تھی جبکہ یہاں حال یہ ہے کہ جیسے کامیاب تلامذہ اور خلفا تیار کیے ہیں، ویسے ہی بہت بڑی تعداد میں نایاب تحقیقی تصانیف کا تحفہ بھی دیا ہے۔آپ کے تلامذہ اور خلفا کی فہرست پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے فقہ و فتاوی ، علوم حدیث، سیاست، طریقت اور تبلیغ اسلام جیسے ان تمام  میدانوں کے لیے رجال فراہم کیے جو بالواسطہ یا بلا واسطہ اسلام کے فروغ و    استحکام سے متعلق ہیں۔
(7) باطل فرقوں کے رد و ابطال کے لیے آپ نے تن تنہا اتنا زیادہ اور اتنا با وزن مواد فراہم کر دیا کہ ا ب اس مواد کی  تسہیل و تجدید اور جدید انداز میں پیش کش کے علاوہ  مزید محنت کی کچھ خاص  ضرورت نہیں۔
  (8) عقائد و معمولات اہل سنت کو جس تحقیقی، معیاری ، مدلل،خوب صورت اور علم کلام کے جدید لہجے میں امام اہل سنت نے پیش کیا ، ابطال باطل کی طرح اس سلسلے میں بھی اہل سنت کو ا ب اس مواد کی  تسہیل و تجدید اور جدید انداز میں پیش کش کے علاوہ مزید محنت کی کچھ خاص   ضرورت نہیں۔