اللہ رب العزت نے اپنی تمام مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا اور فر مایا۔تر جمہ:اور تمہارے پاس جو نعمت ہے سب اللہ کی طرف سے ہے۔(القرآن،سورہ النحل13:آیت53) اِن بے شمار نعمتوں میں سے یقینا ماہِ رمضان المبارک اور قر آن پاک بھی ہے۔ ہم اپنے رب کا جتنا بھی شکر ادا کریں کم ہے، ماہ رمضان المبارک ہماری تر بیت وتزکیہ نفس کے لیے بہترین ذریعہ ہے اور سارے انسانوں کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب قرآن پاک جو یقینا راہِ نجات ہے اورنعمت بھی ہے،قرآن پاک کوماہ رمضان المبارک میں ہی عطا فر مایا اَلْحَمْدُ لِلّٰہ۔
سبھی لوگوں کا طریقہ یہی ہے کہ اپنے آنے والے مہمان کی عزت وتکریم حسب حیثیت کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے۔مہمانوں کا استقبال اور مہمان نوازی رب تعا لیٰ کو بھی پسند ہے قرآن پاک میں مہمان نوازی کے احکام مختلف اندازسے 15جگہوں میں بیان کئے گئے ہیں۔
تر جمہ: جس دن ہم پر ہیز گاروں کو رحمن کی طرف لے جائیں گے مہمان بناکر۔(القر آن،سورہ،مریم:19،آیت85) رب تعالیٰ فر مارہا ہے: ”کہ اے محبوب ﷺ آپ اپنی قوم کو تر غیب دینے اور ڈرانے کے طور پر وہ دن یاد دلائیں جس دن ہم پر ہیز گاروں اور اطاعت شعاروں کو ان کے رب کی بارگاہ میں مہمان بناکر جمع کریں گے جو اپنی وسیع رحمت کے ساتھ انہیں ڈھانپ لے گا“۔
اسلام میں مہمان نوازی کی بہت تاکید کی گئی ہے خود نبی کریم ﷺ مہمانوں کی بہت عزت وتکریم فر ماتے اور مہمانوں کی آمد سے خوش ہوتے۔

مہمان نوازی نبی کریم ﷺ کی سنت مبارکہ ہے بلکہ دیگر انبیاکرام کا بھی پسندیدہ عمل اور طریقہ رہا ہے۔ چنانچہ ابوا لضَّیفان حضرت ابراہیم خلیل اللہ بہت ہی مہمان نواز تھے آپ بغیر مہمان کے کھانا تنا ول نہ فر ماتے تھے۔ ہمارے آقا ﷺ فر ماتے ہیں جس گھر میں مہمان ہو اس میں خیر وبرکت اُونٹ کی کوہان(اونٹ کی پیٹھ کی بلندی) سے گر نے والی چھڑی سے بھی تیز آتی ہے۔(ابن ماجہ،ج:4،ص51،حدیث3351) احادیث طیبہ میں بے شمار فضائل موجود ہیں۔
حالات حاضرہ لاک ڈاؤن میں،ماہ شعبان ورمضان کا پیغام!: ماہ رمضان رب تعالیٰ کا مہمان ہے،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا نے نبی کریم ﷺ سے دریافت فر مایا کہ آپ (شعبان کے پورے)مہینہ روزے کیوں رکھتے ہیں تو آپ نے فر مایا:”اس مہینہ میں اُن لوگوں کے نام لکھے جاتے ہیں جو ا س سال مرنے والے ہوتے ہیں پس میرا جی چاہتا ہے

اگر اِسی سلسلہ میں میری اَ جل بھی آنے والی ہو تو میں خدا کی بہترین عبادت روزے میں مشغول ہوں“۔(مسند ابو یعلی،حدیث4911)۔ حضور نبی کریم ﷺ کا یہ معمول رہا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اکٹھا فر ماتے اور خطبہ دیتے جس میں انہیں رمضان کے فضائل بیان فر ماتے، رمضان کی عظمت و اہمیت کے پیش نظر اس کی تیاری کی جانب متوجہ فر ماتے۔لہذا ہمیں بھی چاہیے آمدِ رمضان کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اس کی تیاری کریں لوگوں تک اپنے نبی ﷺ کے فر مان و عمل کو پہنچائیں۔ آج پوری دنیا کو وڈ- 19 بیماری سے پریشان ہے،آنے والے رمضان المبارک میں ہم اس مہلک بیماری کی للکار، چیلنج، challenge کے اثرات سے بچتے ہوئے لاک ڈاٗون کی حفاظتی تدابیر کو اپناتے ہوئے رمضان کی تیاری اور رمضان کے معمولات کو پورے کریں۔ یا درہے کہ روز ے کے بے شمار فوائد و مقاصد میں انسان کی صحت کو بہتر رکھنے کا بھی عظیم مقصد ہے تو ہماری ذمہ داری ہے کہ رب کی اطاعت و فر ماں بر داری بھی کریں اور اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے حکومت کی گائیڈ لائن کا بھی پالن کریں یہی اسلام کا بھی مقصد ہے۔

کورونا ایک وبائی مرض ہے جس سے امیرغریب، حاکم محکوم، بادشاہ اور رعایہ بلکہ ہر شخص اس خطرنا ک وائرس کی زد میں ہے اس قدرتی وبا اور قہر خداوندی کے چلتے ساری انسانیت لاچار و مجبور ہے۔
آمدِ رمضان کی مبارکباد سوشل میڈیا پر: غور کرنے کا مقام ہے کہ رمضان المبارک کی آمد کی مبارکباد دینے سے کیا رمضان المبارک کا حق ادا ہو جائے گا؟”ہرگز نہیں قطعی نہیں“ انسانوں کی بخشش و مغفرت کے لیے رب تعالیٰ نے اپنے بندوں کو رمضان المبارک نعمت!کے طور پر عطا فر مایا۔ ماہ رمضان آیا نہیں کہ ابھی سے آمدِ رمضان کی مبارک با دکی جھڑی سوشل میڈیا پر شروع ہے کیا یہ عبادت کے تقاضوں کو پوری کرتی ہے۔فجر کی نمازِ جماعت میں اول صف نمازیوں سے پوری نہیں ہوتی،مسجد بھر نے کی بات تو بہت دور ہے،لیکن صبح ہوتے ہی سوشل میڈیا پر دینی پیغامات کی جھڑی لگ جاتی ہے کیا یہی اسلام ہے نماز نہ ادا کرو اور دینی پیغامات بھیجو۔

پلیز آپ سوچیں ضرور سوچیں ہم رمضان المبارک کے تقا ضوں کو کیسے پورے کریں، کیا رمضان میں ہم افطار پارٹیاں کراکر تصویریں سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرنے اخبارت میں تشہیر کراکر رمضان کا حق ادا کررہے ہیں؟۔ کیا ہم صرف 5دن یا 8دن یا 15 دن کی تراویح میں قرآن سن کر پڑھ کر بعد میں آزاد ہو جائیں تو کیا رمضان اور قرآنِ مقدس کا حق ادا کردیں گے؟ کیا صرف طرح طرح کی افطاری بنا کر سجا کر اس کی تصویرسوشل میڈیا پر وائرل کر کے رمضان کا حق ادا کردیں گے؟ وغیرہ وغیرہ ”نہیں ہرگز نہیں قطعی نہیں‘ یہ سب نام ونمود دکھاوا ہے ایسی عبادتیں منہ پر ماردی جائیں گی خدارا خدارا س سے خود بچیں اپنوں کو بچائیں۔