ملکی اقتدار کی باگ ڈور گذشتہ کئی سالوں سے جس تنظیم کے ہاتھوں میں ہے،یہ کوئی  اورنہیں بلکہ آرایس ایس ہے،اسی تنظیم سے وابستہ لوگ بھارت اور یہاں  کی ایک سو بیس کروڑ عوام کےلئے بڑے بڑے فیصلے کرتے ہیں،گویا کہ ان دنوں  بھارتی عوام کے سیاہ وسفید کی مالک  یہی تنظیم ہے،ملک کے تمام اہم اداروں میں انکے  لوگ فائز ہیں،جھوٹ،فریب،مکاری اور عیاری کے ذریعے یہ لوگ اقتدار کامزہ چکھ رہے ہیں،2014 سے پہلے بھی اس تنظیم کو اقتدار کی کرسی اٹل بہاری واجپئی کے زمانے میں ملی تھی لیکن یہ لوگ اسوقت اتنے طاقت ور نہیں تھے، اور نہ ہی انکااتنا اثر ورسوخ اسوقت تھا جتنا آج ہے،لیکن 2014 کے بعد پوری طاقت کے ساتھ ان لوگوں نے ملک کی باگ ڈور سنھال لی اور پوری قوت کے ساتھ اقتدار کی کرسیوں پر قابض ہوگئے،
یہ سب اس تنظیم کےلئے کیسے ممکن ہوا؟ انھیں یہ مقام کیسے ملا؟ اسکے اسباب وجوہات ہیں کیا ہیں ؟ ہماری ملی تنظیمیں اور قومی ادارے جامد کیوں ہوتے جارہے ہیں اسکے اسباب وجوہات کیا ہیں؟ یہ اور اس جیسے کئی ایک سوالات ہیں،جسکا جاننا ہما رے لئے انتہائی ضروری ہے،آئیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتےہیں کہ اس تنظیم کا وجود کب اور کیسے ہوا؟ وکی پیڈیا کے مطابق ” آرایس ایس یعنی راشٹریہ سویم سیوک سنگھ،بھارت کی ایک ہندو تنظیم ہے،یہ خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے،لیکن یہ بھی دیکھاگیا ہےکہ کئی دہشت گردانہ معاملوں اور فرقہ وارانہ فسادات میں اس تنظیم کا ہاتھ رہاہے،اسکی بنیاد 27 ستمبر ۶1925 میں ناگپور میں رکھی گئی،2014 تک اسکی رکنیت  50لاکھ سے 60لاکھ تھی، اسکا بانی کیشوا بلی رام ہیڈگیوار ہے،یہ ہندوسیوم سیوک سنگھ کے نام سے بیرون ممالک میں سرگرم ہے،وہاں سے خطیر رقم چندہ لایاجاتاہے،یہ بھارت کو ہندوملک گردانتاہے اوریہ اس تنظیم کا اہم مقصد بھی ہے،بھارت میں برطانوی حکومت نے ایک بار اور آزادی کے بعد حکومت ہند نے تین بار اس تنظیم کو ممنوع قراردیادیا تھا اوراس پر پابندی لگائی تھی،اس تنظیم کا مقصد اکھنڈ بھارت میں ہندو راشٹر قائم کرنا،ہندو قوم پرستی،ہندوتوا اور ہندو تہذیب کو فروغ دینا ہے،اس تنظیم کا طریقہ کار ورزش،میٹنگ اور نجی نشستوں کے ذریعے ذہن سازی اور جسمانی تربیت ہے،اسکا ایک چیف ہوتاہے،یہ تنظیم دایا بازو رضاکاری اور نیم فوجی دستہ تیارکرتی ہے”
          یہ تفصیلات وکی پیڈیا پرموجود ہے، لیکن "دی وائر” کے مطابق معروف قلم کار اور قانون داں اے جی نورانی نے پانچ سو صفحات پرمشتمل ایک ضخیم کتاب انگریزی میں لکھی ہے،جس میں اس تنظیم کے حوالے سے کئی اہم انکشاف کئے گئے ہیں، اس میں لکھا ہے کہ بی جے پی کے لیڈران روزمرہ کے فیصلے کرنے میں آزاد ہوتے ہیں،مگر اہم فیصلوں کےلئے انکو آرایس ایس سے اجازت لینی پڑتی ہے،بی جے پی میں سب سے طاقتور  آرگنائزنگ جنرل سکریٹری آرایس ایس کا ہی نمائندہ ہوتاہے،آرایس ایس کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ایک خاص پوزیشن کے بعد صرف غیر شادی شدہ کارکنان کو ہی اعلی عہدوں پر فائز کیاجاتاہے،آرایس ایس میں شامل ہونے اور پوزیشن حاصل کرنے کےلئے ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی اہلیہ جسودھا بین کو شادی کے چند سال بعد ہی چھوڑ دیاتھا،اسلئے آرایس ایس کی پوری لیڈر شپ غیر شادی شدہ لوگوں پر مشتمل ہے،
آرایس ایس کے سب سے نچلے یونٹ کو شاکھا کہتےہیں،ایک شہر یا قصبے میں کئی شاکھائیں ہوسکتی ہیں،اس کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ حکمراں پارٹی بی جے پی کی اصل طاقت کا سرچشمہ، اوراسکی نکیل ہندو قوم پرستوں کی مربی تنظیم سیوم سیوک کے پاس ہے جو بلاشبہ فی الوقت دنیا کی سب سے بڑی،منظم، اور خفیہ تنظیم ہے،جسکے مالی وانتظامی معاملات کے بارے میں بہت ہی کم معلومات ابھی تک منظرعام پر آئی ہیں،سینئر صحافی افتخار گیلانی صاحب لکھتےہیں کہ”گوکہ آرایس ایس خود کو ایک ثقافتی تنظیم کے طور پرمتعارف کرواتی ہے،مگر حال ہی میں اسکے سربراہ موہن بھاگوت نے یہ کہہ کر چونکا دیاتھاکہ ہنگامی صورتحال میں انکی تنظیم صرف تین دن سے بھی کم وقفے میں،20لاکھ سیوم سیوکوں(کارکنوں)کو جمع کرکے میدان میں لاسکتی ہے، جبکہ فوج  کو صف بندی اور تیاری میں کئی ماہ درکار ہوتے ہیں،شاید وہ یہ بتانے کی کوشش کررہے تھے کہ آرایس ایس کی تنظیمی صلاحیت اورنظم وضبط فوج سے بدرجہا بہتر ہے”
            اے جی نورانی نے اپنی کتاب” The RSS :A Menace to india” میں لکھتے ہیں کہ ہفتے میں کئی روز دہلی کی پارکوں میں یہ شاکھائیں ڈرل کے ساتھ ساتھ لاٹھی،جوڈو،کراٹے اوریوگا کی مشق کا اہتمام کرتے ہوئے نظر آتی ہیں، ورزش کے ساتھ ساتھ یونٹ کا انچارج ذہن سازی کا کام بھی کرتاہے،آرایس ایس کے سربراہ کو سرسنگھ چالک کہتےہیں،اور اسکی مدد کےلئے چار راشٹریہ ساہ کرواہ یعنی معتمد ہوتےہیں،اسکے بعد اسکے چھ تنظیمی ڈھانچے ہیں،جن میں کیندریہ کاریہ کاری منڈل،اکھل بھارتیہ پرتینیدھی سبھا،پرانت یا ضلع سنگھ چالک،پرچارک،پرانت یا ضلع کاریہ کاری منڈل اورپرانت پرتینیدھی سبھا شامل ہیں،پرانت پرچارک جو کسی علاقے یا ضلع کا منتظم ہوتاہے، اسکا غیر شادی شدہ یا خانگی مصروفیات سے آزاد ہونا لازمی ہوتاہے،بی جے پی کی اعلی لیڈرشپ میں فی الوقت وزیراعظم مودی اورامت شاہ آرایس ایس کے کارکنان رہےہیں،اسکے باوجود آرایس ایس نے اپنے دوسینئر پرانت پرچارک رام مادھو اور رام لال کو بی جے پی میں بطور جنرل سکریٹری تعینات کیاہوا ہے،تاکہ پل پل کی خبر موصول ہوتی رہے،
نورانی کے بقول اس تنظیم کی فلاسفی ہی فرقہ واریت،جمہوریت مخالف اورفاشزم پرٹکی ہے،سیاست میں چونکہ کئی بار سمجھوتوں اورمصالحت سے کام لینا پڑتاہے اسلئے اس میدان میں براہ راست کودنے کے بجائے اس نے 1951 میں جن سنگھ اور پھر 1980 میں بی جے پی تشکیل دی،بی جے پی پر اسکی گرفت کے حوالے سے  نورانی کا کہناہے کہ آرایس ایس کی ایماء پر اسکے تین نہایت طاقت ور صدور ماؤلی چندرا شرما،بلراج مدھوک اور ایل کے اڈوانی کو برخواست کیاگیا،اڈوانی کا قصور یہ تھاکہ اس نے 2005 میں کراچی میں بانیِ پاکستان محمدعلی جناح کو ایک عظیم شخصیت قرار دیاتھا،