ممبئی،23نومبر (اے یو ایس) اگر آپ عمدہ کام کرنے کا ارادہ اپنے ذہن میں رکھیں گے تو دنیا میں کوئی بھی پریشانی آپ کو اس کام سے روک نہیں سکتی ہے۔ آج، ہم 27 سالہ آنگن واڑی کارکن ریلو واسوا کے بارے میں بات کر رہے ہیں جو روز کشتی کے ذریعہ دریا کا 18 کلومیٹر سفر کرتی ہے۔ناسک کے ضلع نندربار ضلع میں رہنے والے ریلو کو قبائلیوں کے ایک گروپ نے آنگن واڑی میں داخلے سے روک دیا تھا۔ جس کے بعد ریلو کو قبائلیوں تک پہنچنے کا راستہ ڈھونڈ نکالا ہے۔

ریلو مہاراشٹر کے نندرور ضلع کے دور دراز قبائلی گاؤں چیمالخادی میں ایک آنگن واڑی میں کام کرتی ہے۔ اس گاؤں میں جہاں وہ رہتی ہے وہاں کوئی سڑک نہیں ہے بسوں تک پہنچنے کے لئے مقامی لوگوں کو کشتی کے ذریعے 18 کلومیٹر سفر کرنا پڑتا ہے اور دریا عبور کرنا پڑتا ہے۔ ریلو نے اپنے کام کے لئے ایک ماہی گیر سے ایک کشتی ادھار لی ہے اور اس کے ذریعہ دریا عبور کرتی ہے۔