۔
جنیوا،سوئزرلینڈ،۲۲/ ستمبر(پریس ریلیز)
گذشتہ شام یونیورسٹی آف جنیوا کے ایک لیکچر روم میں یونیورسٹی کے طلباء اور ممبروں نے آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ جوائنٹ سکریٹری اور چشتی فاؤنڈیشن کے صدرحاجی سید سلمان چشتی کا استقبال کیا۔
انہوں نے جموں وکشمیر کی موجودہ صورتحال کا ذکر کیاجس میں اس سال اگست کے آغاز میں ہندوستانی پارلیمنٹ میں آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کی منظوری دی گئی تھی۔ انہوں نے جموں و کشمیر کی روحانی تاریخ کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ زمین حکمت، انسانیت کے احترام، انسانی اقداراور انسانی حقوق کے اعلی اصولوں کو برقرار رکھنے کے عزم کے لئے جانی جاتی ہے۔نوآبادیاتی زمانے سے پہلے، یہاں ”ہم” اور ”ان” کا کوئی رواج نہیں تھااورکشمیر کوہندوستان کے متعدد خطوں میں رہنے والے لوگوں کی جامع ثقافت کہا جاتاتھا لیکن آج کشمیر میں انتہا پسندانہ نظریات کا دخل ہو چکا ہے جو ہندوستان کے لئے مضر ہے۔
اسی وجہ سے5 اگست کو، ہندوستان کی حکومت نے یہ قدم اٹھا یا اور آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کا انتہائی جرات مندانہ فیصلہ کیاجو کشمیر کے لئے محافظ اور سلامتی کا باعث ہے۔چشتی نے اس بات پر زور دیا کہ بالخصوص نوجوانوں کا بات چیت، گفت و شنید اور امن کی تحریکوں میں لازمی کردار ہوناچاہئے کیونکہ یہی وہ لوگ ہیں جو کشمیر اور آگے کی آئندہ نسلوں کی رہنمائی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ”یہ آوازیں نہ صرف پورے ہندوستان میں سنی جائیں گی، بلکہ عالمی سطح پر ایک مثال بنیں گی۔”
انہوں نے مزید اظہار خیال کیا کہ نفرت، خوف اور فرقہ وارانہ قوتوں کی وجہ سے کشمیر یوں کو جو نئے مواقع پہلے حاصل نہیں ہوسکتے تھے وہ آرٹیکل 370 کی منسوخی سے حاصل ہوں گے۔ ہر ہندوستانی کا فرض ہے کہ وہ ہر ایک کشمیری کے ساتھ کھڑے ہوں۔ سید سلمان چشتی نے کہا کہ ”ہندوستان ایک ایسی سرزمین ہے جہاں ہر شخص کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی ہے جو حق ہندوستانی آئین فراہم کرتا ہے۔
چشتی نے کانفرنس کے اختتام میں مغل بادشاہ جہانگیر کے ایک مشہور قول کا ذکر کیا جب انہوں نے 17 ویں صدی میں کشمیر کا دورہ کیا”گر فردوس بروئے زمین است،ہمیں است، ہمیں است، ہمیں است“(اگر زمین پر کہیں جنت ہے تو وہ یہیں ہے،یہیں ہے، یہیں ہے)