بالآخر دروپدی مرمو ہندوستان کی نئی صدر جمہوریہ منتخب ہو گئیں، انہوں نے اپنے حریف اور حزب مخالف کے متفقہ امیدوار یشونت سنہا کو بھاری اکثریت سے شکست دی، جمہوریت میں صلاحیتوں کی قدر نہیں ہوتی، فیصلے سروں کو گن کر کیے جاتے ہیں، اور سر گننے کے عمل میں دروپدی مرمو جیت گئیں، یہ در اصل صلاحیت پر طبقہ واریت کی جیت ہے، ذات پات، قبائلیت اور ووٹ کی سیاست کی جیت ہے، ورنہ صحیح اور سچی بات یہ ہے کہ صلاحیت اور سیاست میں وزن کے اعتبار سے یشونت سنہا ہر اعتبار سے دروپدی مرمو پر فائق تھے، لیکن اب امیدوار جن چیزوں کو سامنے رکھ کر منتخب کیاجاتا ہے ، یشونت سنہا اس کسوٹی پر پورا اتر نہیں پائے اور انہیں ہار کا منہہ دیکھنا پڑا۔
 دروپدی مرمو صدر جمہوریہ ہونے کے ساتھ ہندوستان کی خاتون اول بھی بن گئی ہیں، صدر کے عہدہ کی وجہ سے اب ان کی رہائش پارلیامنٹ ہاؤس کے سامنے والے پہاڑی پر واقع ساڑھے چار ایکڑ اراضی پر پھیلے اس عمارت میں ہوگی، جس میں تین سو چالیس کمرے، چون بیڈ روم، دفاتر، باورچی خانے، پوسٹ آفس دنیا بھر میں مشہور مغل گارڈن ، کھیل کے میدان اور دربار ہال ہیں، دربار ہال تک پہونچنے کے لیے بتیس زینے چڑھنے پڑتے ہیں، مرکزی حصہ کے اوپر واقع اس کا گنبد ایک سو ستہر (۱۷۷) فٹ بلند وبالا ہے۔
 دروپدی مرمو کی ولادت جون ۱۹۵۸ء میں اڈیشہ کے ضلع میور بھنج کے ایک چھوٹے سے سنتھالی گاؤں اوپر بیڈا میں ہوئی، ان کی تعلیم بی اے تک ہے، ان کے آنجہانی شوہر شیام چرن مرمو تھے، جو اپنے بیٹے کے حادثاتی موت کا صدمہ برداشت نہیں کر سکے اوردنیا سے سدھارے، دروپدی مرمو بھی اپنے دو بیٹیوں ، شوہر، ماں اور بڑے بھائی کی ایک سال کے اندر مر جانے سے ٹوٹ گئی تھیں، لیکن انہوں نے خود کو سنبھالا ورزش کے مختلف طریقوں کو اپنا کر اعصاب مضبوط کیے اور سیاسی ، سماجی میدان کار کو اپنے لیے منتخب کیا۔
 انہوں نے اڈیشہ کے سکریٹریٹ میں کلرک کی نوکری سے اپنے کیریر کا آغاز کیا، اس میں طبیعت نہیں جمی تو انہوں نے اسکول میں معلمی کا پیشہ اختیار کیا، ۱۹۹۷ء میں وہ اڈیشہ کے رائے رنگ پور ضلع میں بی جے پی کے ٹکٹ پر کونسلر منتخب ہوئیں، تین سال بعد بی جے پی کے ٹکٹ پر اسمبلی پہونچیں، ۲۰۰۰ء میں بھاجپا اور بیجو جنتا دل کی مخلوط حکومت میں وہ پہلی بار وزیر بنیں، ۲۰۱۵ء میں وہ مودی حکومت کی جانب سے جھارکھنڈ کی پہلی خاتون گورنر بنائی گئیں، اور اب ۲۰۲۲ء میں صدارتی محل ان کے استقبال کے لیے تیار ہے ۔
دروپدی مرمو کھانے پینے کے اعتبار سے سبزی خور ہیں، ان کا نفسیاتی مطالعہ کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک جذباتی خاتون ہیں، لیکن موقع کے اعتبار سے انہیں اپنے فیصلے پر جمنا بھی آتا ہے، اللہ کرے وہ ہندوستان کے روایتی ربر اسٹامپ صدر کی فہرست میں سر فہرست نہ بنیں، فی الوقت نیک خواہشات ہی پیش کی جا سکتی ہیں، وقت بتائے گا کہ وہ کیسی صدر جمہوریہ ہیں؟
صدر جمہوریہ کا جو عہدہ ہے وہ مذکر اور مؤنث دونوں کے لیے اردو میں استعمال ہوتا ہے، اسی طرح راشٹر پتی ایک قانونی اصطلاحی ہے، جسے لفظ مذکر مؤنث کے خانہ میں نہیں بانٹا جاتا ، اس کا مطلب یہ ہ کہ خاتون راشٹر پتی کو بھی راشٹر پتی ہی کہا جائے گا۔