[اشہر ہاشمی]
ہندوستان کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ ہندوستان صرف جمہوری ہی نہیں بلکہ ایک سوشلسٹ ، سیکولر ملک بھی ہے ۔ دنیا کی تاریخ میں ہندوستان کی جمہوری پہچان اس لحاظ سے اہم ہے کہ ہر پانچ سال کے بعد عوام کو اس کا موقع ملتا ہے کہ وہ اپنی پسند نا پسند کا کھل کر اظہار کریں اور ان کی پسند نا پسند کا اظہار حکومت سازی میں جھلکتا ہے ۔ انتخابی دھاندلی کی وارداتیں گو کہ ہو تی ہیں لیکن ان پر گرفت کا نظام بہت مستحکم ہے اس لئے جمہوریت ہندوستان میں برا ئے نام ہو نے یا مضحکہ کا سبب بننے سے بچی ہو ئی ہے ۔
ملک جب آزاد ہو ا تھا تب جمہوری ملک نہیں تھا ۔ گو کہ کام کے طور طریقے جمہوریت کی صورتوں سے ملتے جلتے تھے لیکن با ضابطہ جمہوری پہچان 26جنوری1950کو ملی ۔ اس طرح آپ ہندوستانی جمہوریت کی عمر بھی 65سال ہو چکی ہے ۔ ان 65برسوں میں ملک نے کئی انقلابات دیکھے ۔ ایمر جنسی دیکھی لیکن حکمران طبقے یا حکمران جماعت کی کسی حرکت پر عوامی رد عمل کو ہمیشہ جمہوری طریقوں سے پیش کیا گیا ۔ ان برسوں میں ایسی ان گنت مثالیں موجود ہیں جب پارلیمنٹ میں یا سڑکوں پر عوام کی رائے کی شدت کا احترام کیا گیا ۔ اس میں عدلیہ کا بھی ایک بڑا رول ہے لیکن سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جمہوریت کا ڈھانچہ حکمرانوں کو ان کی سیاسی مصلحتوں اور ضرورتوں کے باوجود گمراہ نہیں ہو نے دیتا ۔
گو کہ 1975میں اندرا گاندھی کے حکم سے ملک میں ایمر جنسی نافذ کرنے کا معاملہ آج بھی مطلق العنامی کی ہر واردات پر یا د کیا جا تا ہے لیکن ایمر جنسی کا نفاذ بھی جمہوریت کے ڈھانچے کے اندر ہی کیا گیا تھا ۔ یہ دوسری بات ہے کہ عوام نے اس فیصلے کو مسترد کیا اور ایمر جنسی کے بعد جو انتخابات ہو ئے ان میں اندرا گاندھی کی کانگریس پارٹی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا ۔ گو کہ اپوزیشن کی کوئی واضح شکل تب تک نہیں بنی تھی ۔ کئی طرح کی پارٹیاں صرف کانگریس کی مخالفت کی بنیاد پر یکجاں ہو ئی تھیں اور انہوں نے ہندوستان کی بیشتر ریاستوں سے کانگریس کو سمیٹ کر اقتدار سے باہر کر دیا تھا ۔
آج 40برس بعد حالات مختلف ہیں ۔ ان برسوں میں جمہوریت اور جمہوری ادارے دونوں مضبوط ہو ئے ہیں ۔ جمہوریت پر عوام کا اعتماد بڑا ہے اور دنیا کو اس کا یقین حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان کا سیاسی نظام بھٹک کر کسی اور نظام کی طرف نہیں جا ئے گا بلکہ پا رلیمانی جمہوریت کے ذریعہ حکمرانی کا کام کاج آگے بڑھتا رہے گا اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر ہندوستان مسلسل ترقی کر تا ہوا اس مرحلے تک پہنچا ہے کہ اسے ایشیا میں تیزی سے پھو لتی پھلتی ہو ئی معیشتوں میں گنا جا تا ہے ۔ بعض حلقے اس صدی کو ایشیا کی اورخاص کر ہندوستان کی صدی بھی اسی بل پر کہتے ہیں کہ ہندوستان کا سیاسی نظام جمہوریت پر مبنی ہے اور عوام کا فیصلہ تمام فیصلوں پر بھاری ہوتا ہے ۔
ایسا نہیں کہ ہندوستانی جمہوریت کو چیلنجوں کا سامنا نہ ہو ۔ کسی بھی دوسرے نظام کی طرح ہندوستان انہیں جمہوریت کا گلا گھونٹنے کی کو ششیں ہو تی رہی ہیں جس کی ایک مثال ایمر جنسی ہی ہے ۔ لیکن ہندوستانی نظام عدل پوری ذمہ داری کے ساتھ ملک کی اس شناخت کو بر قرار رکھنے کے لئے اپنے ادارے کا استعمال کرتا ہے ۔
جمہوریت میں اصل طاقت عوام کی ہوتی ہے اور عوام کو با خبر رکھنے کی ذمہ داری میڈیا کی ہے ۔ اسی لئے میڈیا کو عدلیہ ،مقننہ اور انتظامیہ کے بعد جمہوریت کا چوتھا ستون کہتے ہیں ۔ ہندوستان میں میڈیا ابھی تک آزاد ہے ۔ یعنی میڈیا پر سرکاری کنٹرول نہیں ۔ میڈیا کے جو ادارے سرکاری کنٹرول میں ہیں ان کو بھی آزادی اظہار یقینی بنانے کے اقدامات کئے گئے ہیں ۔
مجموعی طور پر جو صورت حال بنتی ہے اس میں امید زیادہ ہے ۔ اس بات کی امید کہ ہندوستان کسی فرد ، ادارے یا گروپ کی ذاتی امنگوں کی بنیاد پر اپنی پہچان نہیں بدلے گا ۔ یہ امید برقرار رہتی ہے کہ ایسی کوئی کوشش عدلیہ اور میڈیا دونوں کی چھان پٹک سے گزرے گی اور عوام کے سامنے سچائی ہر حال میں اجاگر ہو کر رہے گی ۔ یہ امید ہندوستان کے جمہوری کردار کی دین ہے ۔ اس امید کو بر قرار رکھنا جمہوری اداروں اور عوام دونوں کا فرض ہے ۔کیونکہ اگر کسی وجہ سے جمہوریت پر ضرب لگتی ہے تو یہ عوام کی شخصی آزادی اور آئینی حقوق پر بھی ضرب ہو گی اور جس کی اصل مار پوری قوم کو جھیلنی پڑے گی ۔ اسی لئے ہر یوم جمہوریہ پر ہندوستان کا ہر شہری اپنے نظام پر فخر محسوس کرتا ہے اور ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے ملک کو جمہوری پہچان دی اور اس پہچان کو بر قرار رکھنے کے لئے تحفظات کا بھی اہتمام کیا ۔
65ویں یوم جمہوریہ پر ہندوستان کی عوام کو پھر ایک بار اس کا عہد کرنا ہے کہ جو طاقتیں غیر جمہوری ہونے کے باوجود جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر ملک کی پہچان مٹانے کی کو ششیں کرتی نظر آئیں گی ان کی شناخت کرنے ، ان کی طرف نشاندہی کرنے اور ان کی کو ششوں کو ناکام بنا نے کے لئے ہر جمہوریت نواز اپنی سکت بھر کوشش کر ے گا ۔ جیسا کہ اوپر لکھا گیا ہے کہ جمہوریت کو چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ یہ ملک کے عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان چیلنجوں میں چھپے ہو ئے خطرات کو قبل از وقت دیکھ کر اس سے ہو شیار ہونے کی کوشش کریں اور اس چیز کی حفاظت کے لئے متحد ہو جا ئیں جو جمہوریت کے نام سے جا نی گئی اور جس نے ہندوستان کو ایک ذمہ دار ملک بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا ۔