احمد آباد،28جولائی(اے یوایس)گجرات میں زہریلی شراب سے اب تک 46 اموات ہو چکی ہیں۔ اس تعلق سے لگاتار اپوزیشن پارٹیاں انتظامیہ کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں اور بی جے پی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔ گزشتہ کچھ دنوں سے ہو رہے ہنگامے کے بعد اب جا کر انتظامیہ کی نیند کھلی ہے۔ ریاست کے محکمہ داخلہ نے بوٹاد اور احمد آباد ضلعوں کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کے تبادلے کا حکم صادر کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ چھ دیگر پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا گیا ہے۔قابل ذکر ہے کہ زہریلی شراب واقعہ کی جانچ میں سامنے آیا ہے کہ لوگوں کو شراب کے نام پر زہریلا کیمیکل پینے کے لیے دے دیا گیا تھا۔

اس معاملے میں ملزم جیش نے 600 لیٹر متھائل الکحل کی چوری کی تھی اور بعد میں اسے 40 ہزار روپے میں فروخت کر دیا۔ اسی متھنال کا استعمال زہریلی شراب میں کیا گیا۔ پورے معاملے کی جانچ ایس ا?ئی ٹی کے حوالے کر دی گئی ہے۔زہریلی شراب معاملے میں ایڈیشنل چیف سکریٹری برائے داخلہ راج کمار کا کہنا ہے کہ ”ہم نے بوٹاد کے پولیس سپرنٹنڈنٹ کرن راج واگھیلا اور احمد آباد کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ویریندر سنگھ یادو کا تبادلہ کر دیا ہے۔ دو ڈپٹی پولیس سپرنٹنڈنٹ، ایک سرکل پولیس انسپکٹر، ایک پولیس انسپکٹر اور دو سَب انسپکٹر کو معطل کر دیا گیا ہے۔“اس سے قبل گجرات کے وزیر داخلہ ہرش سنگھوی نے بدھ کو بتایا تھا کہ 25 جولائی کو بوٹاد میں زہریلی شراب پینے کے بعد بوٹاد اور پڑوسی احمد آباد ضلع میں اب تک 46 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ تنہا بوٹاد میں 32 لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں۔ انھوں نے یہ بھی جانکاری دی کہ بھاؤنگر، بوٹاد اور احمد آباد میں کم از کم 97 افراد مختلف اسپتالوں میں داخل ہیں جن کا علاج جاری ہے۔