نئی دہلی‘24 ستمبر (یو این آئی): جموں و کشمیر کی صورت حال کا جائزہ لے کر واپس آئے سماجی کارکنوں نے دعویٰ کیا ہے کہ آئین کی دفعہ 370ختم کرنے کے بعد سے پچھلے 51دنوں کے دوران 13ہزار سے زائد بچے غائب ہیں جب کہ حالات کافی خراب ہیں‘ لوگ فوج کے خوف کے سائے میں جی رہے ہیں اور متعدد وکلاء کو بھی جیلوں میں بند کردیا گیا ہے۔ پلاننگ کمیشن کی سابق رکن اور معروف ماہر تعلیم سعید ہ حمید کی قیادت میں پانچ خواتین پر مشتمل ایک وفد نے 17ستمبر سے 21 ستمبر تک کشمیر کے تین اضلاع کے 51 گاوں کا دورہ کرنے کے بعد اپنی جانچ رپورٹ جار ی کرتے ہوئے یہ دعوی کیا۔
اس ٹیم میں نیشنل فیڈریشن آف انڈین وومن کی جنرل سکریٹری اینی راجا‘ پرگتی شیل مہیلا سنگٹھن کی جنرل سکریٹری پونم کوشک‘ پنجاب یونیورسٹی سے سبکدوش پروفیسر کنول جیت کور اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر پنکھڑی ظہیر نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے جموں کشمیر کی صورت حال کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا اور کہا کہ 51دن بیت جانے کے بعد بھی صورت حال معمول پر آنے کے کوئی آثآر نہیں ہیں اور حکومت کے تمام دعوے جھوٹے ہیں کیوں کہ میڈیا پر سنسرشپ جیسی صورت حال اس لئے سچائی سامنے نہیں آرہی ہے۔