نئی دہلی،03جولائی (اے یوایس) سپریم کورٹ نے نوپور شرما کو پیغمبر اسلام کے بارے میں ان کے ریمارکس پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے بعد سے ججوں کے تبصروں پر ذاتی حملے ہو رہے ہیں۔نوپور شرما کی سرزنش کرنے والی بنچ کا حصہ رہنے والے ایک جج نے ذاتی حملوں کی مذمت کی ہے۔ جسٹس جے بی پاردی والا نے ایک تقریب میں کہاججوں پر ان کے فیصلوں کے لیے ذاتی حملے ایک خطرناک منظر نامے کی طرف لے جاتے ہیں۔

جسٹس پارڈی والا اور جسٹس سوریہ کانت دونوں کو سوشل میڈیا صارفین نے اپنی درخواست کی سماعت کے دوران نوپور شرما کے خلاف زبانی ریمارکس کے بعد نشانہ بنایا۔نوپور شرما نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف ملک بھر میں درج تمام ایف آئی آر کو ایک ساتھ جوڑ کر دہلی منتقل کیا جائے۔اپنی درخواست میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں اور ان کے خاندان کو سیکورٹی خطرات کا سامنا ہے اور انہیں تحفظ کی ضرورت ہے۔اپنے ریمارکس میں، سپریم کورٹ نے یہ بھی سوال کیا تھا کہ نوپور شرما کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا اور اسے ملک بھر میں جذبات بھڑکانے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔