از ناصر رامپوری مصباحی

یہ جو ضد ہے نا کہ اگر وہ حضرت مولٰی علی یا حضرت امیر معاویہ کو ایسا کہتا ہے تو میں اس کے بر عکس ایسا کہوں گا, یہی فتنہ کی اصل جڑ ہے,

نوجوان علما و فضلا کہ جن کے کاندھوں پر موجودہ سخت حالات میں ملتِ مسلمہ کے مستقبل کو بہتر بنانے کی بڑی ذمہ داری ہے,

اُنہیں واجبی طور پر اِس بحث میں پڑنے سے ہی بچنا چاہیے, یعنی وہ کسی بھی طرف سے اس بحث کے فریق کا حصہ نہ بنیں, اگر وہ کوئی خاص خیال رکھتے ہوں تب بھی نہیں, بلکہ برداشت کریں,

نوجوان علما و فضلا کو سمجھنا ہوگا کہ فریق بن کر اِس بحث کی کوئی حد ہے اور نہ اس کا کوئی حل, آپ جتنی بھی بحث و دلیل کر لیجیے نتیجہ صرف آپسی انتشار ہی نکلے گا, جب کہ سالوں بعد بھی بحث اپنی جگہ لاینحل ہی ملے گی,

قُدما نے یوں ہی اس ٹاپک پر سکوت کو واجب نہیں کہا ہے, بلکہ اُنہوں نے بنی امیہ اور بنی عباس کا اس حوالے سے بڑا آتنک دیکھا ہے اور امت کو بے نتیجہ مرتے کٹتے دیکھا ہے, ہر بڑا فتنہ اس سے اُبھرتا دیکھا ہے, جب کہ بحث جوں کی توں لاینحل رہی,

اسی لیے قومِ مسلم کے لمبے نقصان اور طویل فتنہ و فساد اور خود اپنے لمبے تجربے کے بعد علماے قدیم نے بالآخر امتِ مسلمہ کو یہی نصیحت کی ہے کہ اس ٹاپک پر جتنی بھی خیر ہے, وہ صرف سکوت و صبر میں ہے,

لہذا فضلاے جدید کو چاہیے کہ وہ خود تجربہ و فتنہ میں نہ پڑ کر اپنے اسلاف کرام کے تجربات سے فائدہ اُٹھائیں اور اس ٹاپک پر جواب الجوابی بالکل بند کر دیں, بلکہ سب مل کر اُس کے خلاف کھڑے ہو جائیں جو اس ٹاپک کو چھیڑے اور بحث بڑھائے.