ایک زمانہ وہ تھا جب کسی بچے کا اسکول میں داخلہ ہوتا تھا تو اس کا باپ یا سرپرست بچے کے استاذ سے کہتا تھا ”ماسٹرجی بچہ آپ کا ہے،آپ کے حوالے،اب ہڈی میری مانس تمہارا“۔یہ وہ زمانہ تھا جب اسکول کی عمارات عالی شان نہیں تھیں،پرائیویٹ اسکول نہیں ہوتے تھے۔سرکاری اسکول تھے۔ہر گاؤں میں وہ بھی نہیں تھے،بعض بچوں کو’ندی پار‘ پڑھنے جانا پڑتا تھا۔بیٹھنے کے لیے ٹاٹ اور پلاسٹک کی بوری ساتھ میں لیجانا پڑتی تھی۔بارش ہوجاتی تھی تو اسکول تالاب کا منظر پیش کرتے تھے۔حالانکہ یوپی اور بہار کے سرکاری پرائمری اسکولوں میں تو اب بھی بہت زیادہ کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے۔اب شاید بیٹھنے کا انتظام سرکار کی طرف سے ہوگیا ہے۔اب کاپی کتابیں اسکول سے ملتی ہیں،یہ الگ بات ہے وہ سیشن ختم ہوتے ہوتے آتی ہیں،یونیفارم بھی اسکول کی جانب سے فراہم کی جاتی ہے اور مڈڈے میل کے نام پر دلیہ،کھچڑی دی جارہی ہے۔پہلے زمانے میں بھی سرکار کے سارے کام پرائمری اسکول کے اساتذہ کیا کرتے تھے اور اس ڈیجیٹل دور میں بھی میں یہی دیکھ رہا ہوں۔البتہ آج سے 40-45سال پہلے سرکاری اسکولوں میں تعلیم ہوتی تھی،جس کا اب نام و نشان ہی باقی رہ گیا ہے۔

تعلیم کے میدان میں ایک بڑی تبدیلی استاذ اور شاگرد کے رشتے میں آئی ہے۔پرانے زمانے میں استاذ کے اندر پدرانہ شفقت پائی جاتی تھی۔ایک باپ کی محبت اور ایک استاذ کی محبت میں کوئی فرق محسوس نہیں کیا جاسکتا تھا۔بلکہ بعض اساتذہ باپ سے بھی زیادہ محبت دیتے تھے۔بالکل غیر محسوس طریقے سے طلبہ کے اندر اپنے استاذ سے عقیدت پیدا ہوتی جاتی تھی۔شاگرد استاذ کی موجود گی میں یہ محسوس کرتا تھا کہ اس کے سر پر ایک سائبان ہے۔نئے زمانے میں جب سے اکیسویں صدی کا آغاز ہوا ہے یہ رشتہ محض تجارتی اور قانونی ہوکر رہ گیا ہے۔

ایک طرف تعلیم کو کاروبار بنادیا گیا ہے۔پرائیویٹ اسکولوں نے اس کو معاشی خوش حالی کا ذریعہ بنالیا ہے۔ان کے سامنے ہر وقت پیسہ رہتا ہے۔کسی نہ کسی بہانے فیس وصولی جارہی ہے۔مہنگی سے مہنگی کتابیں داخل نصاب کی جاتی ہیں،پھرہر سال نصاب تعلیم بدل دیا جاتا ہے تاکہ کمیشن خوری کی جاسکے۔ بعض اسکولوں میں ہر سال داخلہ فیس دینا پڑتی ہے۔اس کے بعد بھی بچوں کو ٹیوشن پڑھنا پڑتا ہے۔آج کل ٹیوشن اور کوچنگ بھی ایک پیشہ بن گیا ہے۔ کوچنگ کے نام پر تو لاکھوں روپے لیے جاتے ہیں اور کروڑوں کا منافع کمایا جاتا ہے۔صاحب مال لوگ اسکول بالکل ویسے ہی کھول رہے ہیں جیسے کوئی کمپنی یا فیکٹری کھول رہے ہوں۔اسکولوں کے اس رویہ نے والدین اور عوام کو بھی کمرشیل بنادیا ہے۔وہ بھی یہ دیکھنے کے بجائے کہ تعلیم کہاں اچھی ہے،کہاں کا نصاب تعلیم کیسا ہے،کہاں کا ماحول کیا ہے؟کس اسکول میں تربیت کا نظام ہے؟ یہ دیکھتے ہیں کہ کم فیس میں سہولیات کہاں زیادہ ہیں؟

تربیت کے لفظ سے یاد آیا کہ نئے زمانے میں یہ لفظ اسکول کی ڈکشنری سے نکال دیا گیا ہے۔اب بھولے سے بھی نہ تو اسکول مینجمنٹ کو،نہ ہی اساتذہ کو اور نہ ہی سرپرستوں کو تربیت کا خیال آتا ہے۔پرانے زمانے میں اسکول ”تعلیم و تربیت“ کا مرکز تھے آج کے زمانے میں صرف ”تعلیم کا مرکز“ بن کر رہ گئے ہیں۔پہلے تعلیم کے ساتھ تربیت کا لفظ لازمی بولاجاتا تھا،ہندی میں بھی ”شکشاکے ساتھ دیکشا“کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔اب تربیت کا لفظ سننے کو کان ترستے ہیں۔اسی تربیت کا نتیجہ تھاکہ ہم اپنے استاذ سے آگے نہیں چلتے تھے۔اگر ہمیں آہٹ بھی ہوجاتی کہ استاذ آرہے ہیں تو ہم ایک کنارے کھڑے ہوجاتے،جب استاذ گزر جاتے تب ہم ان کے پیچھے چلتے۔تربیت کے معاملے میں مدارس کا حال اب بھی قدرے غنیمت ہے۔

ایک زمانہ تھا جب طلبہ اپنے اساتذہ سے ڈرتے تھے۔ان کو یہ خطرہ رہتا تھا کہ پٹائی ہوجائے گی۔اب یہ ڈر ختم ہوگیا ہے۔اب قانوناً بچوں کے حقوق کے تحفظ کے نام پر پٹائی کرنے پر پابندی ہے۔صرف استاذ ہی نہیں ماں باپ بھی اپنے بچوں کو سزا نہیں دے سکتے۔اگر بچے نے شکایت کردی تو ماں باپ کو جیل جانا پڑے گا۔بچوں کے حقوق کے نام نہاد محافظ کہتے ہیں کہ مارنے اور پیٹنے سے بچوں کے اندر احساس کمتری پیدا ہوتا ہے،ان کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچتی ہے،کلاس کے سامنے ان کی رسوائی ہونے سے کارکردگی متاثر ہوتی ہے،ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک مستقبل میں انھیں مجرم بناسکتا ہے۔خیر یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ان نام نہاد ہمدردوں نے اس طرح کی قانون سازی کے ذریعے پورے تعلیمی نظام کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے۔حالانکہ کسی زمانے میں بھی مارنے پیٹنے کو پسنددیگی کی نظر سے نہیں دیکھا گیا،استاذ بالکل آخرہ چارہئ کار کے طور پر ڈنڈا اٹھاتا تھا۔پھر بھی طلبہ کو ڈنڈے کا خوف رہتا تھا۔

آج اس خوف سے بچے آزاد ہیں۔اُس زمانے میں والدین اور سرپرست اپنے سامنے اپنے بچے کو پٹتا دیکھتے تھے،لیکن کبھی استاذ کو برا نہیں کہتے تھے۔بعض لوگ ضرور شکایات لے کر پہنچ جاتے تھے۔لیکن وہ بھی یہ کہتے تھے ”ماسٹر صاحب میں مارنے کو منع نہیں کررہا ہوں لیکن دیکھ کر مارو“۔ایسا بھی تب ہوتا جب کسی بچے کے جسم سے خون نکل آتا تھا۔ اس کے باوجودبچہ اپنے گھر والوں سے نہیں کہتا تھا بلکہ اس کے ساتھی اس کے گھر اطلاع دیتے تھے۔میرا تجربہ (راقم گیارہ سال ایک ہائر سیکنڈری اسکول میں پرنسپل رہ چکا ہے)ہے کہ استاذ کی مار بچوں کو کندن بناتی ہے۔البتہ یہ احتیاط لازم ہے کہ بچہ کو کسی طرح کا جسمانی نقصان نہ ہو،بعض اساتذہ کان پر اس قدر زور سے مارتے ہیں کہ بچہ بہرا ہوجاتا ہے۔کوشش یہی ہونی چاہئے کہ مارنے کی نوبت ہی نہ آئے۔موجودہ قوانین کا احترام ضروری ہے۔

ایک اور تبدیلی جو اس رشتے میں آئی ہے وہ خدمت استاذ کے تعلق سے ہے۔بیسویں صدی میں استاذ کی خدمت خوب کی جاتی تھی،اکیسویں صدی میں اس کا تصور ختم ہوگیا۔استاذ کے گھر کے کام کیے جاتے تھے،گرمی ہورہی ہے تو پنکھا جھلا جاتا تھا۔بعض اساتذہ سرپر مالش بھی کراتے تھے،مدارس میں تو کپڑے تک دھلوالیے جاتے تھے۔خدمت کا یہ عمل اس حد تک تو درست تھا جس حد تک کہ بچے کی استطاعت تھی یا اس کا دائرہ کار تھا۔لیکن اس کے آگے یہ مناسب نہیں تھا،پینے کا پانی منگوالیجیے،بڑے طلبہ سے چھٹی کے بعد بازار سے سودا سلف منگوالیجیے،لیکن پاؤں دبوانا،مالش کرانا،یا کپڑے دھلوانا مناسب نہیں۔بچوں کے اندربڑوں کی خدمت کا جذبہ پیدا ہو یہ اچھا ہے لیکن وہ یہ خدمت خوشی سے کریں اور اس خدمت سے ان کا تعلیمی نقصان نہ ہواس کا خیال کرنا بھی ضروری ہے۔یہ بھی ذہن میں رہے کہ خدمت کا یہ جذبہ استاذ کے شفقت کے جذبے پر منحصر ہے۔ہمارے ایک استاذ تھے جو کلاس میں خوب مارتے تھے،بعد میں اس بچے کی خیریت معلوم کرتے،اگر کہیں چوٹ زیادہ لگ جاتی تو اپنے ہاتھ سے مرہم لگاتے جاتے اور اسے سمجھاتے جاتے تھے،سمجھانے کا یہ اندا ز اکثر استاذ اور شاگرد دونوں کو رونے پر مجبور کردیتا۔

تعلیمی میدان میں استاذ اور شاگرد کے بدلتے رشتوں کا سب سے زیادہ نقصان ملک کا ہورہا ہے۔اب ملک کا مستقبل ڈگریاں تو حاصل کررہا ہے۔لیکن اس کے پاس اخلاق نہیں ہے۔کسی بھی شعبے میں چلے جائیے ایسا لگتا ہے یہاں انسان نہیں روبوٹ کام کررہے ہیں۔سڑک پر حادثہ ہوجاتا ہے،حادثہ کا شکار انسان مدد کے لیے چلاتا ہے،لیکن لوگ گزرجاتے ہیں۔اب بڑے شہروں میں اتنا ہوگیا ہے کہ پولس یا ایمبولنس کو فون کردیا جاتا ہے۔کسی کو انسانیت سے ہمدردی نہیں،ہر کوئی دوسرے کی جیب کاٹنا چاہتا ہے۔بغیر تربیت کی تعلیم نے انسانی سماج کو غیر محفوظ بنادیا ہے۔ارباب حل و عقد کو استاذ اور شاگرد کے رشتوں پر از سر نو غور کرنا چاہئے۔اساتذہ کو سمجھنا چاہئے کہ ان کا پیشہ کوئی معمولی کام نہیں ہے۔اس کام کے لیے اللہ انبیاء بھیجاکرتا تھا۔
ادب تعلیم کو جوہر ہے،زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاذ کرتے ہیں
برج نرائن چکبست