۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج جامعہ ملیہ کے ایک پی ایچ ڈی اسکالر سے ملاقات ہوئی، جو خیر سے ایک سنی بریلوی مدرسے سے فارغ التحصیل بھی ہیں۔ کہنے لگے کہ میں جامعہ کی مسجد میں نماز نہیں پڑھتا، آس پاس ٹہلتا رہتا ہوں تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ اساتذہ کے ساتھ نماز کے لیے نکلتا ہوں پھر پیچھے سے نکل لیتا ہوں۔
میں نے عرض کی: جمعہ کی نماز؟
وہ بھی نہیں پڑھتا۔ بعد میں ظہر پڑھ لیتا ہوں۔
وجہ؟
نماز ہوتی ہی نہیں، تو پڑھ کر کیا کریں گے؟ ہم لوگ اہل سنت ہیں۔
لیکن اہل سنت کے نزدیک سواے کھلے ہوئے کافر کے سب کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے۔ کراہت کے ساتھ ہی سہی، اہل سنت تمام اہل قبلہ کے پیچھے صحت اقتدا کے قائل ہیں اور کسی کی بد عقیدگی کو بنیاد بناکر ترک جماعت و جمعہ یہ اہل سنت کا نہیں اہل بدعت کا طریقہ ہے۔
لیکن ان کا عقیدہ تو الگ ہے؟
آپ نے جامعہ کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے جن اساتذہ سے پڑھا ہے، ان کی باتیں سنی ہیں، ان کا عقیدہ سنا ہے، اس کے بعد کیا آپ کا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ مسلمان نہیں، کافر ہیں۔
وہ گستاخ رسول تو ہیں!
کیا آپ نے ان میں سے کسی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی سنی ہے؟
لیکن وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر وناظر تو نہیں مانتے، جب کہ اعلی حضرت نے یہ عقیدہ لکھا ہے؟
تو کیا جو اعلی حضرت کو نہ مانے یا ان کی کوئی بات نہ مانے، وہ کافر ہو جائے گا؟
اعلی حضرت کو نہ ماننے سے کافر نہیں ہوگا، لیکن حاضر وناظر تو ماننا ہوگا؟
تو کیا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر وناظر نہ مانے وہ کافر ہو جائے گا؟
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور نہیں مانتے؟
جس طرح ہم نور مانتے ہیں اگر اس طرح کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نور نہ مانے تو کافر ہو جائے گا؟
لیکن ان لوگوں کو تو وہ مسلمان مانتے ہیں جن کو اعلیٰ حضرت نے کافر کہا ہے۔
آپ یہ بتائیں کہ اپنے اساتذہ کے اندر وہ کون سا عقیدہ دیکھا ہے جو کفر صریح ہو، جس کے بعد انسان مسلمان نہیں رہ جاتا؟
دیکھیے، میرا کوئی گہرا اور تفصیلی مطالعہ تو نہیں ہے، البتہ میں ان حضرات کو تقلیدی طور پر کافر کہتا ہوں۔ اپنے بڑوں سے یہی سنا ہے۔
جناب! آپ پی ایچ ڈی اسکالر ہیں!
ٹھیک ہے۔ اب تک تو اس مسئلے پر غور نہیں کیا تھا، اب غور کروں گا اور مطالعہ بھی کروں گا۔