ملک میں جمہوری نظام اور جمہوری اقدار کی بقا اِس وقت اسی قدر ناگزیر ہے جس قدر پانی اور غذا۔فسطائی حکومت کے قیام کے بعد جمہوری اقدار کی پامالی میں مزید تیزی آئی ہے۔حالانکہ جمہوری اقدار کا گلا گھونٹنے میں کوئی پیچھے نہیں رہا ہے۔جمہوریت کیا ہے؟جمہوریت ایک ایسا نظام سیاست ہے جس میں کسی ہٹلر اور مسولینی کے لیے کوئی جگہ نہیں،یہ وہ گلشن ہے جہاں ہر پھول کو کھلنے کی آزادی ہے۔ہر شخص کو اپنی بات کہنے کا حق ہے،انسان کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں۔ملکی آئین کے مطابق ہر شہری کو ترقی کے مواقع حاصل ہیں۔لیکن جمہوریت کی ان خوبیوں یا ان کے علاوہ بہت سی خوبیوں کے باوجود ہمارے ملک میں جمہوریت کا گلا دبانے کی مسلسل کوششیں جاری رہیں۔ایمرجنسی کا نفاذ اسی سلسلے کی کڑی تھی۔

یہ ہر گز ممکن نہیں کہ آپ کسی نظام کو اپنے لیے پسند نہ کریں اور ملک کے لیے پسند کریں۔اگر اسے آپ اپنے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں تو پھر کس طرح اسے آپ دوسروں کے لیے مفید سمجھ سکتے ہیں۔فطری طور پر پھر آپ ایسے نظام کی بقا اور تحفظ کے لیے کوئی اقدام کیوں کریں گے؟بھارت میں عجیب صورت حال ہے۔یہاں جمہوریت کو بچانے والی جماعتوں میں خود جمہوریت کا فقدان ہے۔چند پارٹیوں کو چھوڑ کر ہر جگہ موروثی سسٹم ہے۔مشرق سے مغرب اور شمال سے جنوب تک کی تمام پارٹیاں اس حمام میں ننگی ہیں۔ان کے قیام میں ہر طبقے نے کوششیں کیں،ان کے عروج میں سب کی قربانیاں رہیں لیکن ان کی قیادت اور فیصلہ ساز کمیٹی پر ایک فرد یا ایک خاندان کا اجارہ ہوگیا۔آپ کانگریس کوہی دیکھ لیجیے۔اس کے قیام میں کس کس نے قربانیاں دیں۔مسلمانوں نے تو مسلم لیگ کو دھتکار کر اسے آگے بڑھایا۔ہماری ایک مذہبی جماعت نے اس کی محبت میں کیا نہ کیا۔جب جب کانگریس پر برا وقت آیا ملک و ملت بچاؤ کانفرنسیں کیں۔کانگریس کو بچانے کے لیے دین کے نظریات تک میں تبدیلی کرنے سے گریز نہیں کیا۔اس نے سیاست کو دین سے باہر کردیا اور ملک میں ایک اسلامی جماعت کی مخالفت اسی بنیاد پر کی کہ یہ لوگ ملک میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔لیکن آزادی کے بعدکانگریس نہرو پریوار تک محدود ہوگئی۔ گاندھی جی کا صرف لاحقہ رہ گیا۔اس وقت پارٹی اپنے سب سے برے دور سے گزررہی ہے۔لیکن اب بھی خاندانی عفریت کی قید میں ہے۔

اس کے بعد جتنی بھی پارٹیں ہیں انھیں دیکھ لیجیے۔اترپردیش میں سماج وادی پارٹی قائم ہوئی۔بہت سے لوگوں نے محنت کی۔ملائم سنگھ اس کے صدر بنائے گئے لیکن وہ اس پر قابض ہوگئے اور اب ان کے بیٹے نے کمان سنبھال لی۔ان کی فیملی سے باہر کسی نام پر غور تک نہیں ہوا۔بہوجن سماج پارٹی میں محنت کانشی رام جی نے کی۔لیکن اس پر بھی ایک طرح سے قبضہ بہن جی نے کرلیا۔سرو سماج کے لیے بنی پارٹی ایک فرد کی ملکیت بن گئی۔یہی حال بہار میں دیکھنے کو ملا۔لالوجی جب مصیبت میں آئے تو انھوں نے انتہائی کم تعلیم یافتہ اپنی بیگم رابڑی دیوی کو وزیر اعلیٰ بنادیا۔جب بزرگی کا احساس ہوا تو اپنے بیٹے کو پارٹی کی کمان سونپ دی۔آخر یہ جمہوریت کا مذاق اور عوام کی خواہشات اور تمناؤں کا خون نہیں تو اور کیا ہے۔
اس ضمن میں کمیونسٹ پارٹیوں اور بی جے پی نے خاندان کے بجائے نظریات کو ترجیح دی ۔نظریاتی باتیں سب نے کیں۔کوئی رام منوہر لوہیا کے نظریات کو فروغ دینے کی بات کرتا رہا۔کوئی فاشزم کے خلاف کھڑا ہوا۔

لیکن رفتہ رفتہ نظریات کی جگہ مفادات نے لے لی اور پھر سب کچھ ہوا۔تلک ترازو کو جوتے مارنے والوں کا راج تلک انھیں کی کرپا سے ہوا۔کبھی بی جے پی اپنے فسطائی نظریہ کی بنیاد پر اچھوت سمجھی جاتی تھی،اٹل بہاری باجپائی جی کی سرکار ایک ووٹ سے گر گئی تھی۔لیکن وہی اچھوت پارٹی خود غرضوں کی محبوب پارٹی بن گئی۔جب آپ نظریات کو بھول جاتے ہیں تو پھر ذاتی مفادات کے حصار میں قید ہوجاتے ہیں،اور یہ حصارسب سے پہلے داخلی جمہوریت کا دم نکال دیتا ہے۔نظریات پر قائم رہنے والوں کے نزدیک دنیاوی رشتے ناطے کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔جو بھی ان کے نظریہ کا مخالف ہے وہ دشمن ہے چاہے باپ ہو یا بھائی۔جو ان کے نظریات سے اتفاق کرتا ہے وہ ان کا دوست ہی نہیں بلکہ بھائی ہے۔یہ اخوت کا رشتہ و ہی تو ہے جسے ایمان نظریہ کی بنیاد پر سارے اہل ایمان کو بھائی بھائی بناتا ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی میں کوئی اور خوبی ہو یا نہ ہو لیکن اس کی سب سے بڑی خوبی اور سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ اس نے پارٹی کو نظریاتی بنیاد پر مضبوط کیا۔اس نے اپنے نظریہ سے وقتی صلح تو کی لیکن کبھی فراموش نہیں کیا۔آج وہ اپنی اسی خوبی کی بدولت پورے ملک پر راج کررہی ہے۔اس کے ذمہ داران بھی چاہتے تو پارٹی کو اپنے باپ کی بپوتی سمجھ کر ذاتی ملکیت اور پرائیوٹ فرم بنالیتے۔یہی خوبی، بی جے پی کو دیگر پارٹیوں سے ممتاز کرتی ہے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں اگر ایک خاندان کی نہیں تو ایک نظریہ کا قبضہ ہے۔دوسرے نظریات کے حامل لوگوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔لیکن نظریہ کا غلبہ فطری امر ہے۔جب کہ خاندان کا غلبہ خیانت ہے۔ایک سوال یہ ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر نظریات کامیابی کی ضمانت ہیں تو کمیونسٹ پارٹیاں کیوں ناکام ہوگئیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ کمیونزم بین الاقوامی سطح پر اپنی نامعقولیت کی بنا پر ناکام ہوگیا۔جس کا اثر بھارت پر بھی پڑنا لازمی تھا۔غیر معقول نظریات کو وقتی طور پر کچھ کامیابی مل سکتی ہے۔لیکن ان میں صدیوں کا ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔ابتدا میں لوگ اس نظریہ کے ظاہر سے دھوکا کھاجاتے ہیں۔پھر جیسے جیسے وقت گزرتا ہے اس کے نتائج بد سامنے آنے لگتے ہیں اور پھر اسے رد کردیا جاتا ہے۔یہ بھی اصول ذہن میں رکھیے کوئی چیز اسی وقت رد ہوتی ہے جب رد کرنے والوں کے سامنے قبول کرنے کو دوسری چیز ہوتی ہے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ بی جے پی کے نظریہ کو عوام رد کردے تو عوام کے سامنے کوئی معقول نظریہ پیش کرنا ہوگا۔

بھارت میں جمہوریت کا فقدان صرف سیاسی جماعتوں میں ہی نہیں ہے۔بلکہ یہاں کی خالص مذہبی جماعتوں کا بھی یہی حال ہے۔ سوائے ایک دو کو چھوڑ کر۔یہاں خاندانی بادشاہت کی طرح خاندانی امامت ہے،خاندانی مجاورت اور اور پشتینی سجادہ نشینی ہے۔یہاں مدارس اپنے نام سے زیادہ اپنے بانی کے نام سے جانے جاتے ہیں،فلاں مولوی کا مدرسہ،فلاں مفتی کا مدرسہ وغیرہ حالانکہ ان مدارس میں مفتی اور مولوی صاحبان کا اپنا کچھ نہیں ہوتا سب کچھ قوم کے مال سے بناہوا ہوتا ہے لیکن قبضہ حضرت کا ہوجاتا ہے۔وہ اپنے گرد تقدس کا ہالا بن لیتے ہیں۔اب آپ ہی بتائیے ایسے ماحول میں پرورش پانے والے اور مسولینی و ہٹلر کا مزاج رکھنے والے جمہوریت کی پاسبانی کیسے کرسکتے ہیں؟جو لوگ اپنی صفوں میں کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دیتے جو کسی سے مشورہ کرنے کو بھی اپنی ذلت سمجھتے ہیں،وہ لوگ ملک میں جمہوریت کو کس طرح بچا سکتے ہیں۔؟ان کے منھ سے جمہوریت کو بچانے کی باتیں فریب کے سوا کچھ نہیں ہیں۔وہ عوام کو دھوکا دیتے ہیں۔ساری پارٹیاں عوام کے پیسوں سے چلتی ہیں لیکن فائدہ اپنے گھراور خاندان کو پہنچاتی ہیں۔آخر اس پارٹی میں شامل لوگ اپنی پارٹیوں میں جمہوری اصول و اقدار کی بحالی کی آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟