انوار الحق قاسمی
  روشن خیال ،بڑے زبان آور اور خوش تقریر ،علوم منقول و معقول دونوں کے ماہر،عظیم مفکر و مصلح اور امن و محبت کے داعی،بے لوث خادم قوم و ملت،ملک کے حالات پر خاصی وسیع نظر رکھنے والے،عظیم مذہبی رہنما مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش میں ہے،جس میں مولانا نے انتہائی درد بھرے لہجے میں آر ایس ایس کے (اسلام مخالف) ایک بڑے منصوبے کا پردہ فاش کیا ہے۔مولانا نے کہا کہ :آر ایس ایس نے ایک بڑی ٹیم تیار کی ہے،جو اپنے ہندو نوجوانوں کو تین (3)یا چھ (6)مہینے کی ٹریننگ دیتے ہیں ،جس میں اسے بہترین لکھنوی اردو زبان سکھاتے ہیں مثلاً: تشریف رکھیے،کیسے مزاج ہیں؟کیا حال ہے ؟خیریت ہے؟آپ کی دعائیں ہیں ،الحمدللہ،ان شاء اللہ،ماشاء اللہ ،انا للہ وغیرہم جیسے دیگر الفاظ ،پھر یہ سب انہیں سکھاکر کہتے ہیں کہ :اب تم مسلم لڑکیوں کو اپنے جال میں  پھنساؤ اور یہ بھی کہتے ہیں کہ :ایک لڑکا اگر کسی مسلم لڑکی کو مرتد کرلیا،تو ڈھائی لاکھ کا تو چیک اسے اسی وقت ملے گا،ذاتی مکان اس کے نام کا ہم دیں گے اور جاب(نوکری) دیں گے۔
   بے روزگاری کے اس دور میں ،جس میں  نوجوانوں کو جاب ملنا انتہائی مشکل ہے،غیر مسلم  نوجوان سوچتے ہیں کہ  ہمارے دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں،ہم تو ایک لڑکی کو اپنا بھی لیں گے،پھر ڈھائی لاکھ کا چیک بھی ملے،ذاتی مکان بھی ملے گا،اس کے بعد جاب بھی ملے گا،بھلا یہ کتنا سستا سوداہے؟۔
   میرے اسلامی دوستو!اس مہم پر کروڑوں غیر مسلم نوجوان لگ چکے ہیں؛مگر افسوس کہ ہم سو رہے ہیں،اللہ جانے  ہمارے جاگنے کےلیے ہمیں  کون سا کوڑا چاہیے،کونسا درا چاہیے،کونسا طمانچہ چاہیے،کونسا عذاب چاہیے ۔اس وقت کا مسئلہ گناہوں کا نہیں ؛بل کہ ارتداد کا ہے۔ہمارا ایمان چھیننے کے لیے اسلام مخالفین ملینوں ڈالر خرچ کررہے ہیں اور اس سے ان کا مقصد صرف  مسلمانوں کی جان و مال لوٹنانہیں؛بل کہ اصل غرض  مسلمانوں سے ان کا ایمان چھیننا ہے،چاہے اس کے لیے انہیں جس حد تک جانے کی ضرورت پڑے،جائیں گے؛مگر مسلمانوں سے ان کا ایمان ضرور چھین کر رہیں گے۔
    مسلمانو!اپنے بچے اور بچیوں کو کہاں تعلیم دلانا ہے اور کہاں نہیں دلانا ہے ابھی بھی آپ کو سمجھ میں نہیں آیا۔اکبر الہ آبادی،جو الہ آباد ہائی کورٹ کے جج تھے،انہوں نے ایک شعر کہاتھا :یوں قتل سے وہ بچوں کے بدنام نہ ہوتا*افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی۔
   مولانا نے یہ بھی  کہا کہ:میں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی بچیوں کو کالج میں نہ پڑھائیں؛مگر میں یہ ضرور کہتاہوں کہ :انہیں اس طرح پڑھوانا کہ ان کی عزت بھی لٹے،ان کا ایمان بھی چھنے،اس طرح پڑھوانے سے بڑھ کر کوئی پاگل پن دنیامیں نہیں ہے۔
   مولانا نے ذکر کردہ  اپنے بیان میں معاندین اسلام کا پردہ فاش کرکے ہمیں یہ پیغام دیا ہے کہ ہم اس طرح زندگی بسر کریں کہ ہمارا اور ہماری نسلوں کا ایمان غیروں کی شرارتوں سے محفوظ رہے اور یہ اللہ اور ان کے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر عمل پیرا ہوئے بغیر مشکل ہے؛اس لیے ہمیں اللہ اور ان رسول کے ایک ایک حکم پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
  ارتداد کا فتنہ تو بہت ہی تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کی لپیٹ میں کالج کی لڑکیاں عموماً آرہی ہیں۔علم دین سے عدم وابستگی کی بنا یہ مذہب اسلام سے نفرت کرنے لگتی ہیں اور ہندو دھرم کے پیروکارں سے ہمہ وقت سابقہ ہونے کی بنا،انہیں ہندو دھرم (پردہ وغیرہم سے آزادی کی بنا)اچھا لگنے لگتاہے اور پھر غیروں سے شادی رچاکر مرتد ہوجاتی ہے،افسوس کہ انہیں ارتداد پر افسوس تک بھی نہیں ہوتاہے۔
   اب سوال یہ ہے کہ ان کے ارتداد کا ذمہ دار کون ہیں؟تو ظاہر ہے کہ ان کے والدین ارتداد کے ذمہ دارہیں ۔اگر یہ اپنی بچیوں کو دینی تعلیم دلاتے ،تو پھر کیانوبت  ارتداد تک پہنچتی؟ہرگز نہیں؛اس لیے اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ارتداد کی لہر ختم ہو،توپھر سبھوں میں ہمیں  دینی تعلیم عام کرنے کی اشد ضرورت ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ کار بھی نہیں ہے۔