نئی دہلی۔ (پریس ریلیز)۔  سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) شاجا پور سٹی کے وارڈ نمبر 12میں حال ہی میں ہونے والے اربن لوکل باڈی الیکشن میں جیتنے والے پارٹی کارکن سمیع اللہ خان پر این ایس اے ایکٹ لگائے جانے پر مدھیہ پردیش بی جے پی حکومت کے مذموم ارادوں کی سخت مذمت کرتی ہے۔ اس ضمن میں ایس ڈی پی آئی کے قومی سکریٹری عبدالستار نے اپنے جاری کردہ اخباری بیان میں کہا ہے کہ بی جے پی حکومت ایس ڈی پی آئی کارکنان کے ذہنوں میں خوف پیدا کرنے اور انہیں مرکزی دھارے کی سیاست سے ہٹانے کیلئے پولیس اور ایکٹ کا غلط استعمال کررہی ہے، یہ قطعی طور پر آئین کے خلاف اور حکمرانی کی بنیادی اخلاقیات کے خلاف ہے۔
شاجاپور ضلعی انتظامیہ نے وی ایچ پی ممبران کے کہنے پر فرضی وجہ سے ایس ڈی پی آئی کونسلر پر این ایس اے لگایا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سٹی میونسپل کونسل الیکشن کے نتائج کے اعلان کے دن جیت کی خوشی میں ملک مخالف نعرے لگائے گئے۔ یہ الزام تقریب کے 5دن بعد لگایا گیا ہے، واقعہ کے ویڈیو فوٹیج میں ایسے واقعات کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ تاہم، پولیس کا دعوی ہے کہ وی ایچ پی کے ارکان نے ایک ویڈیو کلپ پیش کیا ہے جس میں ملک مخالف نعرے لگانے کا الزام لگایا گیا ہے جو ان کے ذریعے جان بوجھ کر گھڑ لیا گیا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے اس ویڈیو کلپ کی صداقت اور حقیقت جاننے کیلئے فورنسک لیب میں بھیجے بغیر ہی سازش کرنے والوں کے اشاروں پر کام کیا ہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی سکریٹری عبدالستار نے کہا کہ پولیس نے نو منتخب کونسلر کے خلاف پولیس کی اجازت کے بغیر ریالی نکالنے پر ایف آئی آ ر درج کرلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے کیونکہ کونسلر یا ان کے پیروکاروں نے ریالی نہیں بلائی،نتائج کے اعلان کے دن جیتنے والے امیدوار کو مبارکباد دینے کیلئے حامی اور ووٹرز آس پاس کے علاقے سے جمع تھے۔ بہت سے نو منتخب کونسلرز کے چاہنے والے اسی انداز میں جیت کا جشن منانے کیلئے جمع ہوئے ہیں لیکن ان پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس اور بی جے پی حکومت مقدمات درج کرنے اور این ایس اے لگانے کے ذریعے لوگوں کے ایک حصے پر ظلم کرنے کی سازش میں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ عبدالستار نے کہا کہ ایس ڈی پی آئی اس بدنیتی اور امتیازی پالیسیوں کے خلا ف آئینی اور قانونی طور پر لڑے گی۔