ممبئی،22جون (اے یوایس) مہاراشٹر میں سیاسی بحران کے درمیان شیوسینا کے ایم ایل اے نتن دیشمکھ نے کہا ہے کہ وہ وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔ ایم ایل اے نتن دیشمکھ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ”اغوا“ کرکے گجرات کے سورت لے جایا گیا تھا۔ جہاں سے وہ بھاگ گئے ہیں۔ واضح رہے کہ پہلے یہ مانا جاتا تھا کہ وہ شیوسینا کے باغی لیڈروں میں سے ایک ہیں۔ تاہم اب نتن دیش مکھ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ ادھو ٹھاکرے کے ساتھ ہیں۔نتن دیش مکھ نے کہا کہ میں بھاگا اور صبح 3 بجے کے قریب سڑک پر کھڑا تھا میں لفٹ مانگنے کی کوشش کر رہا تھا جب سو سے زیادہ پولیس والے آئے اور مجھے اسپتال لے گئے انہوں نے بہانہ کیا کہ میرا دل ہے۔ اور میرے جسم کے ساتھ کچھ طریقہ کار کرنے کی کوشش کی۔لیکن مجھے ایسی کوئی بیماری نہیں ہے۔

دیشمکھ کی بیوی نے کل مقامی تھانے میں گمشدگی کی شکایت درج کروائی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اس کی جان کو خطرہ ہے۔مہاراشٹر میں جاری سیاسی اتھل پتھل کے درمیان شام 5 بجے ادھو ٹھاکرے کی رہائش گاہ پر ایم ایل ایز کی میٹنگ بلائی گئی ہے۔ اسی دوران کانگریس لیڈر کمل ناتھ نے کہا کہ ادھو ٹھاکرے سے فون پر بات ہوئی ہے۔ وہ پراعتماد ہیں۔ جو گئے ہیں وہ واپس آئیں گے۔ فی الحال اسمبلی تحلیل ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ ادھو ٹھاکرے سے ملنا تھا، لیکن وہ کوویڈ مثبت ہیں۔ ایکناتھ شندے اپنے حمایتی ایم ایل اے کے ساتھ بدھ کی صبح 6.20 بجے ایک خصوصی پرواز سے سورت سے گوہاٹی پہنچے۔ تاہم باغی شیوسینا لیڈر ایکناتھ شندے نے دعویٰ کیا کہ انہیں کل 46 ایم ایل ایز کی حمایت حاصل ہے جن میں 6 آزاد بھی شامل ہیں۔ لیکن اس سے پہلے سورت کے ہوٹل میں جو گروپ تصویر آئی ہے اس میں کل 35 ایم ایل اے نظر آرہے ہیں۔