اسلام آباد،5مارچ(اے یوایس)پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ کے انتخابات میں اسلام آباد کی جنرل نشست پر حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کی شکست کے بعد جمعرات کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لئے الیکشن کمیشن کو مورد الزام ٹہرایا۔ انہوں نے کہا کہ ارکان اسمبلی کی طرف سے پیسے لینے والی ویڈیو کی تحقیقات کیوں نہیں کی گئیں، الیکشن کمیشن نے، ان کے بقول، سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کا موقع فراہم کیا۔وزیراعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ جسے ان پر اعتماد نہیں، وہ سامنے آکر بات کرے۔ اس کے بقول، وہ اپوزیشن میں جا کر بیٹھ سکتے ہیں اور اگر ان کی حکومت چلی بھی جائے تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

جمعرات کی شام قوم سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ سینیٹ الیکشن میں 40 سال سے پیسہ چل رہا ہے۔ ان کے بقول، جس کے پاس پیسہ ہے، وہ سینیٹر بن جاتا ہے۔عمران خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ سینیٹ الیکشن میں کون سے امیدوار بکے ہیں۔ ہمیں کیسے پتا چلے گا کہ کون سے 15 لوگ بکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا شفاف الیکشن کرانا سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ "سمجھ نہیں آئی الیکشن کمیشن نے عدالت میں جا کرخفیہ بیلٹ کا کیوں کہا”انہوں نے کہا کہ سینیٹ الیکشن کے نتیجے میں ملک کی اخلاقی قدروں کو نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے ہوتے تو تحریک انصاف یہ سیٹ جیت جاتی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سینیٹ کی سب سے بڑی جماعت ہے اور اپوزیشن کے یہ کہنے سے کچھ نہیں ہوگا کہ انہوں نے معرکہ مار لیا ہے۔انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے تحریری طور پر مجھ سے این آر او مانگا۔ ایف ایے ٹی ایف کی قانون سازی میں ہمیں لکھ کر دیا کہ این ا?ر او دیا جائے۔ ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی کے دوران ہمیں کہا گیا کہ نیب ختم کریں تب قانون سازی میں ساتھ دیں گے۔دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عدم اعتماد کب اور کہاں ہو گا، یہ ہم بتائیں گے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کی تقریر کے بعد نیوز کانفرنس میں مریم نواز نے کہا کہ عمران خان اس پیسے کا بھی ذکر کریں، جو انہوں نے چلانے کی کوشش کی۔مریم نواز نے کہا کہ عمران خان اسی الیکشن کمیشن پر الزام عائد کر رہے ہیں، جس کا چئیرمین انہوں نے خود نامزد کیا تھا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عمران خان کو اب اپنے بکے ہوئے ارکان پر مقدمہ کرنا چاہیے۔ ان کے بقول، عمران خان کو علم ہے کہ ان کے ارکان نے ضمیر کے مطابق ووٹ دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی 11 جماعتیں فیصلہ کریں گی کہ عدم اعتماد کی تحریک کب اور کہاں لائیں۔ عمران خان کے لفظوں کے چناؤ سے پتا چلتا ہے کہ وہ گھبرا چکے ہیں۔