حافظ ، قاری ، مولانا اقبال حیدر ندوی بن سید سلیم الدین حیدر (ولادت ۲۶؍ جنوری ۱۹۷۹ء ساکن سید ٹولہ استھانواں ضلع نالندہ بہار امام وخطیب مسجد سید ٹولہ استھانواں کثرت سے لکھتے ہیں ان کے مضامین ملک کے مؤقر ماہنامے، روزنامے اور ہفتہ وار جرائد ورسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں،  زیر مطالعہ کتاب ان کے منتخب مضامین کا مجموعہ ہے، کتاب پانچ ابواب اسلامیات، اخلاقیات، شخصیات، سائنسی علوم اور صحت وتندرستی پر مشتمل ہے، باب کی سرخی نہیں لگائی گئی ہے ، لیکن مضامین کی درجہ بندی ابواب کی طرح ہی کی گئی ہے،جس سے قاری بآسانی اپنے مطلب کے مضامین تک رسائی حاصل کر سکتا ہے، یہ کل پچپن (۵۵)مضامین ہیں، جو مختلف عنوانات پر مشتمل ہیں، اپنی تحریری خدمات کی وجہ سے مولانا موصوف کم از کم نو ایوارڈ واعزازات اپنے نام کر چکے ہیں۔
 مضامین کی درجہ بندی کے ساتھ سات افراد کی تحریریں مصنف اور اس کے مندرجات کی علمی قدر وقیمت کی تعیین کے لیے شامل کتاب ہیں ، اول نمبر پر تعارفی خاکہ ہے جس کے مرتب کا نام درج نہیں ہے، اس لیے غالب گمان یہ ہے کہ ’’بقلم خود‘‘ ہے، مقدمہ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی، پیش لفظ مولانا انیس الرحمن قاسمی سابق ناظم امارت شرعیہ ، کچھ باتیں اس کتاب کے بارے میں پروفیسر شہزاد انجم، تفکرات ڈاکٹر آفتاب احمد منیری ، حرف ادراک شاہ نواز حیدر شمسی اور عرضِ مؤلف خود مولانا اقبال حیدر ندوی کے قلم سے ہے ، کتاب کا انتساب مصنف نے اپنے نانا مشہور عالم دین مولانا قاری سید فصیح احمد صاحب اور نانی سیدۃ بازغۃ النہار کے نام کیا ہے جو ان دونوں شخصیات سے ان کے قلبی تعلق اور وارفتگی کی غماز ہے، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی سے چھپی یہ کتاب دو سو چھپن (۲۵۶)صفحات پر مشتمل ہے اور صرف ڈھائی سو کی تعداد میں چھپی ہے، قیمت دو سو روپے ہے، ملنے کے پتے کتاب پر نصف درجن سے زائد درج ہیں، اگر آپ پٹنہ میں ہیں تو بُک امپوریم سبزی باغ، نالندہ میں ہیں تو مصنف کے پتے سے حاصل کر سکتے ہیں۔
جہاں تک کتاب کے مندرجات کا سوال ہے تو اس کے بارے میں شاہنواز حیدر شمسی نے لکھا ہے کہ ’’موضوعات ومضامین کی نوعیت ، مواد کی جاذبیت، اسلوب کی دلکشی، زبان وبیان کی برجستگی وبے ساختگی ، اصول وعزائم کی پابندی ، دور اندیشی ومعاملہ فہمی کی پیوستگی کے باعث با معنی اور پُر معیار ہے‘‘ (صفحہ ۲۹) آفتاب احمد منیری لکھتے ہیں، ’’اس کتاب کی ایک اور نمایاں خوبی مصنف کا اسلوب نگارش ہے، انہوں نے دین کے بنیادی شعائر سے لے کر اصلاحی مضامین کی پیش کش میں پے چیدہ الفاظ سے گریز کرتے ہوئے عام فہم زبان استعمال کی ہے‘‘ (صفحہ ۲۲) شہزاد انجم صاحب لکھتے ہیں ’’اس کتاب کی نثر سادہ، زبان سلیس اور عام فہم ہے، جسے کوئی بھی شخص آسانی سے پڑھ کر سمجھ سکتا ہے ، مولانا اقبال حیدر اپنی باتوں کو آسان لفظوں میں بیان کرنے کا ہنر جانتے ہیں (صفحہ ۱۷) مولانا انیس الرحمن قاسمی سابق ناظم امارت شرعیہ لکھتے ہیں’’اپنی تحریری صلاحیت کو بھی قوم وملت کے نفع کے لیے استعمال کرکے یہ ثابت کر دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو جو علم وفن دیا ہے وہ اس کا شکر ادا کرتے اور اس کو برتنے کے فن سے واقف ہیں (صفحہ ۱۲) مرشد امت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی دامت برکاتہم نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ لوگوں کو ان کے مضامین سے نفع پہونچے گا۔
 کتاب کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا کامطالعہ وسیع ہے اور ان میں گہرائی وگیرائی ہے ، انہوں نے جن موضوعات پر بات کی ہے، سلیقہ سے کی ہے ، ان مضامین میں انہوں نے رطب ویابس سے پر ہیز کیا ہے ، صارفیت اور مشغولیت کے اس دور میں طویل مضامین اور ضخیم کتابوں کو پڑھنے کی فرصت کسے ہے؟ اس لیے اب لوگ مجموعہ مضامین کو ہی کتابی شکل دینے لگے ہیں، ہر مضمون ایک اکائی ہے ، فرصت کے مطابق پڑھیے اور قسطوں میں کتاب ختم کیجئے، ’’شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات‘‘ کی ترتیب بھی مصنف نے اسی نقطہ نظر سے کی ہے اور اس میں وہ کامیاب ہیں، مولانا اقبال حیدر ندوی نے جتنا لکھا ہے یہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے ، ایسی کئی جلدیں ان کے مضامین کی اور تیار ہو سکتی ہیں، اللہ کرے وہ اس کام کو آگے بڑھاسکیں۔