لکھنؤ،13جنوری(اے یو ایس)سماج وادی پارٹی نے آج اپنے دو امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرنے کے ساتھ اترپردیش ریاستی قانون ساز کونسل کے انتخابات کو دلچسپ بنادیا ہے۔ پارٹی کے ریاستی نریش اتم پٹیل نے بتایا کہ پارٹی صدر اکھلیش یادو نے قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لئے احمد حسن اور راجیندر چودھری کو امیدوار کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ قانون ساز اسمبلی کی 12سیٹوں کے لئے 28 جنوری کو ووٹنگ ہونی ہے۔ جس کی نامزدگی کا عمل11جنوری سے شروع ہوچکا ہے۔ نامزدگی کی آخری تاریخ18جنوری طے کی گئی ہے۔جبکہ19تاریخ کو کاغذات نامزدگی کی جانچ کی جائے گی۔

نام واپس لینے کی آخری تاریخ21جنوری ہے جبکہ ووٹنگ 28جنوری کو صبح نو بجے سے شام چار بجے تک ختم ہوگی۔ووٹوں کی گنتی اسی دن ہوگی اور سبھی نتائج کا اعلان کردیاجائے گا۔واضح رہے کہ قانون ساز اسمبلی کے12ارکان کی مدت کار30جنوری کوختم ہورہی ہے۔ان ارکان میں صوبے کے نائب وزیر اعلیٰ ڈاکٹر دنیش شرما بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی صدرسوتنتر دیو اور سماج وادی پارٹی کے احمدحسن کے علاوہ آشو ملک،دھرم ویر سنگھ اشوک،پردیپ کمار جاٹو،رمیش یادو،رام جتن،لکشمن پرساد، آچاریہ،ویریندر سنگھ، صاحب سنگھ سینی شامل ہیں۔ان کے علاوہ نسیم الدین صدیقی کے کانگریس میں جانے سے ان کی رکنیت دل بدل قانون کے تحت پہلے ہی ختم کردی گئی تھی۔

ذرائع کا کہناہے کہ بی جے پی کے قانون ساز ممبر اسمبلی کی سیٹوں پر ہونے والے انتخاب میں کم سے کم 10سیٹیں جیت سکتی ہے۔اور اگر بہوجن سماج پارٹی کی حمایت ملی توایک اور سیٹ ان کے پاس آسکتی ہے۔فی الحال ان 12سیٹوں میں سے ایس پی کے پاس چھ سیٹیں ہیں۔جبکہ بی جے پی اور بی ایس پی کے حصے میں تین تین سیٹیں ہیں۔بی جے پی کے کھاتے میں 10اور ایس پی کے کھاتے میں ایک سیٹ جانا طے ہے۔اگر بی جے پی کوبی ایس پی کا ساتھ ملا تو 11ویں سیٹ بھی پارٹی جیت سکتی ہے۔واضح رہے کہ بی ایس پی کے ودھان سبھا انتخاب میں 19رکن ہونے کے باوجود ریاستی انتخاب میں اس کا ایک امیدوار جیت گیاتھا۔ بی جے پی نے اپنا ایک اور امیدوار کھڑا کراس کی مصیبت نہیں بڑھائی تھی

لیکن آخری وقت میں ایس پی نے اپنا ایک امیدوارمیدان میں اتار کر بی ایس پی سرابراہ مایاوتی کو ناراض کردیاتھا۔ایس پی کے امیدوار کا پرچہ خارج ہوگیاتھا۔اور بی ایس پی امیدوار کو جیت حاصل ہوگئی تھی۔تبھی مایاوتی نے کہاتھا کہ ودھان قانون ساز اسمبلی ایس پی کو ہرانے کے لئے بی جے پی کی مدد کرنے سے بھی پیچھے نہیں رہیں گی۔اگر مایاوتی اپنی کہی ہوئی بات پر قائم رہتی ہیں تو بی جے پی کے پاس 11ویں سیٹ بھی آسکتی ہے۔