نئی دہلی۔(پریس ریلیز)۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) مرکزی بی جے پی حکومت کے کسان مخالف زرعی قوانین2020کی مخالفت میں گزشتہ یکم اکتوبر سے ملک کے مختلف حصوں میں "جاگوکسان”مہم چلارہی ہے۔ اسی کے ایک حصے کے طور پر 26، اکتوبر 2020کو کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں ‘کسان پرتی ندھی سماگم ‘کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ کانفرنس میں شرد جوشی وچار منچ کے قومی صدر وٹال پوار راجے،(مہاراشٹرا) نتھو سنگھ جی، دلپ نیم، (علی گڑھ)راشٹریہ کسان مزدور پارٹی، گرنام سنگھ (پنجاب)، ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد، قومی جنر ل سکریٹری الیاس محمد تمبے،
قومی سکریٹری سیتارام کھوئیوال، ایس ڈی پی آئی راجستھان ریاستی نائب صدر گرجنت سنگھ اور دیگر کسان نمائندے شریک رہے۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے خطاب میں زرعی قوانین بل 2020 کو آزاد ہندوستان کی بدترین قوانین قراردیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں کسانوں کی خودکشی کی رپورٹیں اکثر سنی جاسکتی ہیں، کیونکہ بڑی مشکلات کے ساتھ حاصل کی گئی کٹائی کو انہیں مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ کسانوں کے نام پر انتخابی مہم چلانے والی اوراقتدار حاصل کرنے والی سیاسی پارٹیاں کسانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے کسانوں کو انتہائی بدحالی اور محرومی کے دہانے پر دھکیل رہی ہیں۔
مرکزی بی جے پی حکومت کے ذریعہ ہندوستانی تاریخ کے تین انتہائی سخت کسان مخالف قوانین کو جلدی بازی میں منظور کیا گیاہے۔ راجیہ سبھا کے ڈپٹی اسپیکر نے پارلیمانی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے صوتی ووٹ کے بعد اس کے منظو ر ہونے کا اعلان کیا۔ ہمیشہ کے فرمانبردار صدر نے فوری طور پر بلوں پر دستخط کردئیے اور یہ قانون بن گئے۔ پہلی نظر میں زرعی پیداواری تجارت (فروغ اور سہولت) ایکٹ 2020 سے ایسا لگتا ہے جیسے زرعی مصنوعات کی تجارت کو فروغ دیا جارہا ہے اور بہتر سہولیات فراہم کی جارہی ہے، درحقیقت اس ایکٹ کے ذریعے اے پی ایم سی (اگریکلچرپروڈوزمارکیٹ کمیٹی) کو مکمل طور پر سائڈ لائن کردیا گیا ہے اور اسے کمزور کردیا گیا ہے۔ حکومت کا دعوی ہے کہ کسان اے پی ایم سی کی مدد کے بغیر اپنی پیداوار براہ راست تاجروں کو فروخت کرسکتے ہیں اور اس سے مارکیٹ میں مسابقت کے مزید مواقع پیدا ہوں گے
اور کاشتکاروں کو بہتر قیمت ملے گی۔ ان کا مزید دعوی ہے کہ کسانوں کے فائدے کیلئے تنازعات کے حل کیلئے ایک علیحدہ میکانزم تشکیل دیا جائے گا۔ اے پی ایم سی کو کسانوں کے ذریعہ زرعی مصنوعات فروخت کرنے اور مناسب قیمت کی ضمانت کیلئے بطور نظام تشکیل دیا گیا تھا۔ اس سے کسان اے پی ایم سی کے منڈیوں میں ایم ایس پی (اقل ترین قیمت خرید)حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ نظام لوگوں کو مناسب قیمت پر ضروری اشیاء حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتاہے، جو ملک میں غذائی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ کسانوں کو اے پی ایم سی کی وجہ سے ایم ایس پی (اقل تریں قیمت خرید) مل رہی تھی۔ ہاں، اے پی ایم سی نظام میں بہت ساری خرابیاں ہیں۔
ان خامیوں کو حل کرنے کے بجائے مودی حکومت نے اے پی ایم سی نظام کو آنکھیں بند کرکے ختم کردیا ہے۔ اس قانون سے بڑے کارپوریٹس کو نجی منڈیاں قائم کرکے کسانوں اور لوگوں کا استحصال کرنے کا موقع ملتا ہے۔ نریندر مودی نے بڑی چالاکی سے جھوٹ کا پلندہ پیش کیا ہے کہ ایم پی ایم سی کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ نئے قانون میں اے پی ایم سی یا ایم ایس پی کی ضمانت کی کوئی شق شامل نہیں ہے۔ لہذا، زرعی کاروباری کمپنیاں اپنے نجی منڈیاں قائم کریں گی اور ابتدائی طور پر زیادہ قیمت دیکر زرعی مصنوعات خریدیں گی اور پھر مارکیٹ پر غلبہ حاصل کریں گی۔ ان کی مدد کیلئے حکومت کوئی مارکیٹ فیس نہیں لیگی جبکہ اے پی ایم سی نظام میں جمع کی گئی فیس کا استعمال کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے کیا جاتا تھا۔ اب، حکومت غریب کسانوں کی قیمت پر زرعی کاروبار میں مزید دولت جمع کرنے میں مدد کررہی ہے۔
حکومت نے پورا زرعی سیکٹر کارپوریٹس کے حوالے کردیا ہے اور کسانوں کو بھوک اور بربادی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ جب اے پی ایم سی نظام ختم ہوجائے گا، تو حکومت پی ڈی ایس (پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم) کیلئے اناج خریدنا بند کردے گی۔ درحقیقت، مودی حکومت سال 2015سے پی ڈی ایس بلوں میں کمی کررہی ہے۔ سال 2016میں بھی شانتا کمارکمیشن نے حکومت کو پی ڈی ایس سبسڈی کو 50% فیصد تک کم کرنے کی سفارش کی تھی۔ سال 2018اور 2020میں حکومت نے پی ڈی ایس کے مستفید افراد کی تعداد کو 80کروڑ افراد سے کم کرکے 20کروڑ کرنے کی سفارش کی۔پی ڈی ایس کی قیمت دگنی کردی گئی۔ ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر اڈوکیٹ شرف الدین احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ زرعی(بااختیاراور تحفظ)قیمت اور زرعی خدمات بل 2020میں معاہدہ کاشتکاری کو فروغ دیا گیا ہے۔