آج زندگی اس قدر مشکل اور دشوار ہو گئی ہے کہ ہر آدمی نت نئے مسائل کی وجہ سے مایوسی ، ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کا شکار ہے ، اس ذہنی تناؤ کی وجہ سے اس کی کار کردگی بھی متاثر ہوتی ہے اور زندگی اجیرن بن جاتی ہے ، اس کی بنیادی وجہ ہمارے وہ خیالات اور توہمات ہوتے ہیں، جن سے ہمارے دل ودماغ کو پراگندگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے خیالات کا جائزہ لیتے رہیں، اگر ہم دماغ میں خواہی نہ خواہی گھس آنے والے خیالات کو ڈسٹ بین (کچرے کے ذبے) میں نہیں ڈالیں گے تو دماغ خود ہی ڈست بین بن جائے گا، اس لیے ہمیں ان غیر ضروری خیالات کو ذہن ودماغ سے نکالتے رہنا ضروری ہے تاکہ ہمارا ذہنی سکون درہم برہم نہ ہو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ ذہنی سکون سے ہمارے کام کرنے کی صلاحیت بڑھتی ہے ، اس کے بر عکس خیالات کی پر اگندگی کے اثرات ہمارے جسمانی صحت پر بھی پڑتے ہیں، ذہنی نظام تہہ وبالا ہوتا ہے تو جسمانی نظام بھی اس کی زد میں آجاتا ہے۔
 ذہنی پراگندگی کا ایک بڑا نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ انسان دوسروں سے مرعوب اور اس کی رائے کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے ، اس کی وجہ سے قوت فیصلہ میں کمی آتی ہے اور دوسروں کے مشورے اور رایوں پر زندگی گذار نے کا مزاج بن جاتا ہے، ایسے شخص کے لیے بسا اوقات صحیح وغلط کے بارے میں حتمی رائے لینا دشوار ہوجاتا ہے اور مذبذبین بین ذالک کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے اور زندگی مانگے کے اجالے پر بسر ہونے لگتی ہے ۔
 ذہنی سکون کے حصول اور خیالات کو فلٹر کرنے کے لیے مثبت سر گرمیاں اور ورزش کرنا مفید بتایا گیا ہے، اس سے ذہنی روالگ رخ اختیار کر لیتی ہے اور انسان پریشان کن خیالات اور توہمات سے اپنے کو پاک کرنے کی پوزیشن میں ہوتا ہے ، عام صحت مند انسان کوبھی ہفتے میں کم از کم ایک سو پچاس منٹ اوسط قسم کی ورزش کرنی چاہیے،اس  سے انسان فٹ بھی رہتا ہے اورپُر سکون بھی۔
 خیالات کو فلٹر اورذہنی وجسمانی تناؤ سے آزاد کرنے کے لیے اللہ رب العزت نے نیند ہمیں عطا کی ہے ، تاکہ آپ جب صبح نیند سے اٹھیں تو اپنے روز مرہ کے کاموں کے لیے پوری طرح چارج رہیں، لیکن موبائل کے اس دور میں یہ ممکن نہیں ہو رہا ہے ، ہمارا نوجوان طبقہ سونے کے وقت میں رات رات بھر سوشل میڈیا پر لگا ہوتا ہے، رات بھر اس میں مشغول رہنے کی وجہ سے نیند پوری نہیں ہوتی اور صبح میں انہیں سردرد اورآنکھوں کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کی وجہ سے خیالات کا ایک انبار ذہن میں منتقل ہوجاتا ہے، جو ہمارے ذہنی سکون کے لیے زہر قاتل ہے،ا س لیے اس سے آخری حد تک پر ہیز کرنے کی ضرورت ہے ، رات میں معمول کے مطابق سوجائیے ، صبح تازہ دم اٹھیے، آپ محسوس کریں گے کہ ایک نئی توانائی آپ کے اندر پیدا ہو گئی ہے، اور دماغی اعتبار سے آپ پُر سکون ہیں۔
 صبح دیر تک سونا ذہنی سکون اور جسمانی صحت کے لیے مضر ہے، حکیم عبد الحمید بانیٔ ہمدرد پوری زندگی بیمار نہ پڑے، ان کی اول اور آخری بیماری مرض الموت تھی، ہمدرد یونیورسٹی میں ان کے مزار کے کتبہ پر ان کا یہ قول کندہ ہے کہ میں نے جب سے عقل سنبھالا کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سورج نکل گیا ہوا ور میں سوتا رہا ہوں، صبح سویرے جاگنے کی اس عادت نے ان کو پوری زندگی تروتازہ ،توانا اور صحت مند رکھا، آدمی کی صحت مندی اس کے دل ودماغ کے صحت مند ہونے کا مظہر ہے اور صحت مند ذہن ودماغ عام طور سے پُر سکون ہوا کرتے ہیں۔
کسی چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے، اسی لیے مشہور ہے کہ کم بولیے، کم کھائیے اور کم سوئیے، اسی طرح ورزش کا عمل بھی عمر کے تناسب سے کرنا چاہیے، پنج وقتہ نمازوں کی پابندی سے عبادت کے ساتھ جسم کی ورزش بھی اچھی خاصی ہو جاتی ہے ، نماز اللہ کے ذکر کا ذریعہ ہے اور سب سے زیادہ اطمینان قلب ذکر اللہ ہی سے پیدا ہوتا ہے ، ارشاد خدا وندی ہے۔ ’’الا بذکر اللہ تطمئن القلوب‘‘  آگاہ ہو جاؤ اللہ کے ذکر سے قلب مطمئن ہوتا ہے۔ ذہنی سکون کے لیے ان باتوں پر دھیان دیجئے، آپ محسوس کریں گے کہ آپ ذہنی طور پر ٹنشن سے محفوظ ہو گیے ہیں، اور یہ آپ کی بہت بڑٰ کامیابی ہے۔