محرم کا مہینہ شروع ہوتے ہی اردو اخبارات و رسائل میں کربلا اور شہادت حسین ؓ کے تعلق سے مضامین کا ایک سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ماہ محرم خاص طور پر دس محرم کی فضیلتیں اس طرح بیان کی جاتی ہیں جیسے یہ مہینہ رمضان سے بھی زیادہ مقدس ہے۔پتا نہیں کن کن حوالوں سے حضرت آدم سے لے کر کربلا تک کے واقعات رقم کیے جاتے ہیں۔مجھے نہ ان واقعات کی تحقیق کرنا ہے اور نہ میرا یہ موضوع ہے۔مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ حضرت آدم ؑ کس تاریخ کو دنیا میں تشریف لائے،یا کس تاریخ کو حضرت ابراہیم ؑ پیدا ہوئے،یا کس تاریخ کو حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون سے نجات ملی اور کس تاریخ کو کربلا کا واقعہ پیش آیا۔یہ تاریخ کوئی بھی ہوسکتی ہے۔

سب سے پہلی بات تو یہ ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ نبی اکرم ﷺ سے پہلے کے واقعات انسانی تاریخ کا حصہ ہیں اور آپ ﷺ کے بعد کے واقعات اسلامی یا مسلم تاریخ کا حصہ ہیں۔دین کا حصہ نہیں ہیں۔اس لیے کہ دین وہ ہے جو حضور اکرم ﷺ کی حیات سے شروع ہوتا ہے اور آپ ﷺ کے وصال پر ختم یا مکمل ہوجاتا ہے۔آخری حج کے موقع پر ہی اللہ نے یہ اعلان فرمادیا تھا:اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا ”آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے لیے اسلام ہی کو دین پسند کیا ہے“(المائدہ آیت 3)جب دین مکمل ہوچکا اور نبی ﷺ بھی رخصت ہوگئے توکسی بھی عمل کو دین کا حصہ نہیں کہا جاسکتا۔اسے دین ماننا،یا دین کا جز بنا کر پیش کرنایا اس عمل کو عبادت سمجھ کر انجام دینا گمراہی ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ حضرت آدم ؑ دنیا میں کیوں تشریف لائے؟ان کو اللہ نے زمین کی خلافت کس لیے عطا فرمائی؟خلافت ارضی کے تقاضے کیا ہیں؟اسی طرح وہ کون سے اسباب تھے کہ حضرت موسیٰ ؑ کوبنی اسرائیل کو لے کر اپنے وطن سے نکلنا پڑا؟آخر فرعون کا وہ کیا جرم تھا کہ اللہ نے اسے سمندر میں غرق کردیا اور رہتی دنیا تک نشان عبرت بنادیا؟نبی اکرم ﷺ نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم کس تناظر میں دیا؟اور کربلا کا حادثہ کیوں پیش آیا؟یزید بھی آخر ایک صحابی رسول کا بیٹا تھا،اس کو ولی عہدی بھی اس کے والد حضرت امیر معاویہ ؓ نے دی تھی۔تاریخ کے مطابق یہ ولی عہدی کوئی آمرانہ نہ تھی بلکہ اس کے لیے ایک بڑا جرگہ منعقد کیا گیا تھا۔اس کے بعد اہل مدینہ اور اہل مکہ سے مشورے کے لیے حضرت امیر معاویہ ؓ نے خود سفر کیا تھا اور صرف چار افراد کے علاوہ کسی نے بھی حضرت امیر معاویہؓ کی تجویز کی مخالفت نہیں کی تھی۔ان تصریحات کا مقصد قطعا یہ نہیں ہے کہ یزید کے طرز عمل کو جائز قرار دیا جائے،بلکہ یہ ذہن نشین کرانا ہے کہ یزید کی خلافت یا ولی عہدی کا عمل ایک معتبر صحابی حضرت امیر معاویہ ؓ کی نگرانی میں انجام پایا تھا۔

جہاں تک دس محرم کے روزے کی بات ہے تو اس سلسلے میں سب سے معتبر حدیث وہ ہے جسے حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے۔تو مدینہ کے یہودیوں کو عاشورہ کے دن روزے دار پایا تو آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے پوچھا یہ کیسا دن ہے کہ تم لوگ اس دن روزہ رکھتے ہو۔انہوں نے بتایا کہ یہ دن بڑی شان والا ہے فرعون سے نجات پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بطور تشکر اس د ن روزہ رکھا تھا تو ہم بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تعلق میں تمہاری نسبت ہم زیادہ حق رکھتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور اس دن دوسروں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔

حضرت حسین ؓ کی شہادت کے موقع پر جس طرح کی تقریبات امت مسلمہ میں منعقد کی جاتی ہیں۔اس سے اسلام کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔شہادت حسین ؓ کی طرح حضرت امیر حمزہ ؓ کی شہادت بھی اس لائق ہے کہ اسے یاد کیا جائے کیوں کہ انھیں نبی اکرم ﷺ نے سید الشہداء کا خطاب عنایت فرمایا،حضرت عمر فاروق ؓ کی شہادت کوئی کم نہیں کہ عین نماز کی حالت میں ایک کافر کے خنجر کا شکار ہوئے،اور حضرت عثمان غنی ؓ کی مظلومانہ شہادت کہ ہفتوں اپنے ہم مذہبوں کے حصار میں رہے اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے جان دے دی۔لیکن اپنے لشکر کو مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا حکم نہیں دیا۔حضرت علیؓ بھی شہید ہوئے۔پھر کیا وجہ ہے کہ امت مسلمہ بس ایک شہادت کو دھوم دھوم سے یاد کرتی ہے باقی کا تذکرہ برائے نام کرتی ہے؟
تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ سیدنا امام حسین ؓ کی شہادت مظلومانہ شہادت ہے۔

وہ اپنے اہل و عیال کے ساتھ لڑنے نہیں گئے تھے،انھوں نے مجبوری میں اور اپنے دفاع میں ہتھیار اٹھائے اور شہید کردیے گئے۔سوال یہ ہے کہ جب ساری امت نے یزید کو اپنا خلیفہ تسلیم کرلیاتھا،جب اس موقت جو صحابہ موجود تھے انھوں نے بیعت کرلی تھی،تو آخر حضرت امام حسین ؓ کو کیوں انکار تھا۔کیا واقعی یزید کے اندر وہ تمام عیوب تھے جو بیان کیے جاتے ہیں۔مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ وہ شراب پیتا تھا،عیاشی کرتا تھا،نماز نہیں پڑھتا تھا۔اگر ایسا ہی تھا تو حضرت امیر معاویہ ؓ نے اپنے نالائق بیٹے کو کیوں ولی عہد بنادیا تھااور چار افراد کو چھوڑ کر باقی امت نے کیوں اس کے ہاتھ پر بیعت کرلی تھی؟کیا نبی اکرم ﷺ کے کسی صحابی ؓ سے ایسی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ جان بوجھ کر اپنے نالائق و نااہل بیٹے کو ولی عہد بنائے؟اگر کی جاسکتی ہے تو پھر صحابہؓ کو معیار حق کیوں کر تسلیم کیا جاسکتا ہے؟اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی بعد کی تاریخ میں بہت کچھ توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔منافقین اور حاسدین اسلام نے اسلامی تاریخ میں اپنی پسند کی روایات وضع کرکے شامل کردی ہیں۔وضع حدیث کے مرتکبین ہر زمانے میں رہے ہیں،دشمنان اسلام ہر دور میں مسلمانوں میں تفریق پیدا کرنے اور ان کے درمیان خلیج بڑھانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں۔جس کا شکار واقعہ کربلا بھی ہوا ہے۔

میری نظر میں امام حسین ؓ نے یزید کے ہاتھ پر بیعت اس لیے نہیں کی تھی کیوں کہ اس نے وراثت میں خلافت پائی تھی۔انھوں نے خود امیر معاویہ ؓ سے بھی اختلاف کیا تھا۔بعد میں یزید کے ہاتھ پر بیعت نہ کرکے انھوں نے عملاً بھی اختلاف درج کرادیا تھا۔حضرت امیر معاویہ ؓ کی نیت خواہ کچھ بھی رہی ہو،اس وقت کے سیاسی حالات کسی طرح کے بھی ہوں۔بہر حال حضرت امیر معاویہ ؓ نے اپنے بعد اپنے بیٹے کو ولی عہد بنا کر اسلام میں ملوکیت کا آغاز کردیا تھا۔جو خلفائے راشدین کے طرز عمل کے خلاف تھا۔اسی کو سیدنا حسین ؓ نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔یہاں تک کہ انھوں نے اپنی اور اپنے اہل خانہ کی جان قربان کردی تھی۔

سیدنا امام حسین ؓ نے باپ کے بعد بیٹے کو خلافت سونپے جانے کی مخالفت کی تھی۔یہی طرز یزید ہے۔ظاہر ہے اس کے بعد آج تک یہی طرز جاری ہے۔مسلم ملکوں کی بادشاہتیں اسی طرز یزید پر ہیں سوائے گنتی کے چند ملکوں کو چھوڑ کر۔خانقاہوں کی سجادہ نشینی،مدارس کی تولیت،شاہی مساجد کی امامت،اور اب تو سیاسی پارٹیوں کی صدارت بھی اسی طرز یزید پر جاری ہے۔مزے کی بات یہ ہے کہ امام حسینؓ کی شہادت کا غم منانے والے بھارت کے مسلمانوں کی واضح اکثریت الیکشن تک میں یزید سے بھی زیادہ بدکردار لوگوں کی حمایت کرتی ہے۔آخر یہ کیسا اسلام ہے اور کیسا غم حسینؓ ہے جو حسینؓ کے ناناؐ کے دشمنوں سے محبت پیدا کرتا ہے۔
نام لینا ہی نہیں کافی عزادار حسینؓ
زندگی میں گر نظر آئیں نہ آثار حسینؓ